30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں اس لیے سردار کو یعسوب کہا جاتا ہے۔یعاسیب جمع فرماکر ارشارۃً بتایا کہ بے شمار مکھیوں کی طرح اس کے ساتھ بے شمار خزانے چلیں گے،یہ خزانے یا تو بذات خود چلیں گے یا کسی سواری میں جیسے آج لاکھوں من سامان ریل،موٹر،بحری جہاز،ہوائی جہاز دوڑتے تیر تے اڑتے پھررہے ہیں۔
۱۸؎ یہ جوان آدمی یا تو اس کے متبعین میں سے ہوگا،لوگوں کو اپنی قوت دکھانے کے لیے یہ حرکت کرے گا یا ان میں سے ہوگا جو ان کی پیروی نہ کریں گے اسے سزا دینے کے لیے یہ حرکت کرے گا۔تلوار سے اسے چیر دے گا جیسے آرے سے چیرا جاتا ہے اور دونوں ٹکڑے اتنے فاصلہ پر پھینکے گا جو تیر اور اس کے نشانہ کے درمیان ہوتا ہے یعنی بہت دور۔
۱۹؎ یعنی اس کی ایک آواز پر یہ دونوں ٹکڑے حرکت کرکے آپس میں مل جاویں گے پھر پورا جسم بن کر اس میں جان پڑجاوے گی اور وہ جوان دوڑتا ہوا آجاوے گا۔ہم نے بعض جادوگروں کو دیکھا کہ آدمی کو چادر اوڑھا کر اس کا گلہ کاٹ دیتے ہیں اورپھر اسے اچھا خاصا کھڑا کردیتے ہیں مگر یہ شعبدہ ہوتا ہے غالبًا وہ حقیقتًا یہ کرے گا۔
۲۰؎ الله تعالٰی جھوٹے مسیح کو سچے مسیح کے ذریعے ہلاک کرے گا اس لیے اس مردود کو حضرت مہدی قتل نہ کریں گے کہ اس کام کے لیے حضرت مسیح منتخب ہوچکے ہیں۔مھزودتین تثنیہ ہے،مھزودۃ بمعنی غوطہ دیا ہوا یعنی آپ کے جسم شریف پر گیرویا زعفران رنگے ہوئے دو کپڑے ہوں گے تہبند چادر۔
۲۱؎ جمان گھنگرو کے دانہ یا موتی کی طرح گول قطرے جو نہایت صاف شفاف و سفید ہوں،آپ خود نہایت حسین ہوں گے آپ کا یہ پسینہ نہایت پاکیزہ و خوشودار ہوگا۔
۲۲؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ نفس سے مراد سانس نہیں بلکہ دم کرنا ہے یعنی آپ جب دم کرنے کی نیت سے پھونک لگائیں گے تو آپ کا دم تاحد نظر پہنچے گا اور جس کافر کو لگے گا وہ مرے گا۔الله کی شان ہے کہ پہلے اسی دم سے مردے زندہ ہوتے تھے اور اب زندہ کافر مردہ ہوں گے۔یا جوج و ماجوج کفار پر آپ کریں گے ہی نہیں کیونکہ ان کی موت اور طرح سے واقع کرنا ہے،بعض نے فرمایا کہ نفس سے مراد سانس ہی ہے۔
۲۳؎ لد بیت المقدس کی قریب ایک بستی ہے،اس بستی کے دروازے میں گھستے ہوئے اسے پائیں گے کہ وہ وہاں داخل ہو رہا ہوگا اسے دروازہ پر ہی قتل کردیں گے اندر داخل نہ ہونے دیں گے جیسے شداد اپنی جنت کے دروازے پر ہی قتل کردیا گیا۔
۲۴؎ یعنی ان مؤمنین کے چہرے جو گردوغبار سے اٹے ہوں گے جیساکہ عام غرباء فقراء کا حال ہوتا ہے،اسے خود حضرت مسیح اپنے ہاتھ شریف سے صاف کریں گے یا محبت و کرم سے ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے مگر پہلے معنی قوی ہیں جیساکہ عن وجوھھم فرمانے سے معلوم ہورہا ہے۔آپ غبار صاف فرماتے جائیں گے اورا نہیں جنت کی بلکہ وہاں کے درجات کی خبر دیتے جائیں گے۔
۲۵؎ یعنی اے عیسیٰ دجال تو آیا اور ہلاک ہوگیا اب کچھ روز کے لیے ایک بڑی مخلوق یا جوج ماجوج اس زمین پر آرہے ہیں جن کی ہلاکت تمہارے ہاتھوں سے نہیں بلکہ تمہاری بد دعا سے ہوگی اس لیے یہ زمین خالی کر دو،طور پہاڑ ان کی شر سے محفوظ رہے گا ان مسلمانوں کو وہاں لے جاؤ۔یہ ان کو تنبیہ فرما کر بتایا گیا کہ کسی انسان میں دونوں ہاتھوں سے بھی ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔
۲۶؎ یعنی جب یا جوج ماجوج کی دیوار ٹوٹے گی تو وہ ہر طرف سے دوڑتے ہوئے اس زمین پر آئیں گے ان کی کثرت سے زمین بھرجاوے گی۔
۲۷؎ یعنی ان کی کثرت کا یہ حال ہوگا کہ دریا کا سارا پانی انکا اگلا حصہ ہی پی جاوے گا اور دریا خشک کردے گا۔بحیرہ تصغیر ہے بحر کی،بحیرہ طبریہ شام کے علاقہ میں دس میل لمبا دریا ہے،طبریہ ایک بستی کا نام ہے اردن کے علاقہ میں وہاں یہ دریا ہے اس لیے اسے بحیرہ طبریہ کہتےہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع