30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5475 -[12] وَعَن النوَّاس بن سمْعَان قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: «إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِيَةٌ كَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ». وَفِي رِوَايَةٍ «فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ بِفَوَاتِحِ سُورَةِ الْكَهْفِ فَإِنَّهَا جوارُكم من فتنته إِنَّه خَارج خلة بِي الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا» . قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: «أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ» . قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ. قَالَ: «لَا اقْدُرُوا لَهُ قَدَرَه» . قُلْنَا: يَا رسولَ اللَّهِ وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: " كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ فَيَأْتِي عَلَى الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًى وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْله فَيَنْصَرِف عَنْهُم فيصبحون مملحين لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا: أَخْرِجِي كُنُوزَكِ فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ بْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْد المنارة الْبَيْضَاء شرقيّ دمشق بَين مهروذتين وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأسه قطر وَإِذا رَفعه تحدرمنه مثل جُمان كَاللُّؤْلُؤِ فَلَا يحل لكافرٍ يَجِدَ مِنْ رِيحِ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَاب لُدٍّ فيقتُلُه ثمَّ يَأْتِي عِيسَى إِلى قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمُ اللَّهُ مِنْهُ فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى: أَنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ فَحَرِّزْ عِبَادِيَ إِلَى الطُّورِ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ (وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ)فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا ويمر آخِرهم وَيَقُول: لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ ثُمَّ يَسِيرُونَ حَتَّى يَنْتَهُوا إِلَى جَبَلِ الْخَمَرِ وَهُوَ جَبَلُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيَقُولُونَ لَقَدْ قَتَلْنَا مَنْ فِي الْأَرْضِ هَلُمَّ فَلْنَقْتُلْ مَنْ فِي السَّمَاءِ فَيَرْمُونَ بِنُشَّابِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نُشَّابَهُمْ مَخْضُوبَةً دَمًا وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْأَرْضِ فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ«. وَفِي رِوَايَةٍ» تَطْرَحُهُمْ بِالنَّهْبَلِ وَيَسْتَوْقِدُ الْمُسْلِمُونَ مِنْ قِسِيِّهِمْ وَنُشَّابِهِمْ وَجِعَابِهِمْ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لَا يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ: أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى إِنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ لَتَكْفِي الْقَبِيلَةَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْغَنَمِ لَتَكْفِي الْفَخْذَ مِنَ النَّاسِ فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مؤمنٍ وكلِّ مسلمٍ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ "رَوَاهُ مُسْلِمٌ إِلَّا الرِّوَايَةَ الثَّانِيَةَ وَهِيَ قَوْلُهُ: " تَطْرَحُهُمْ بِالنَّهْبَلِ إِلَى قَوْلِهِ: سبع سِنِين ". رَوَاهَا التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت نواس ابن سمعان سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے دجال کاذکر فرمایا تو فرمایا اگر وہ نکلا اور میں تم میں ہوا تو تمہارے بغیر اس کا مقابل میں ہوں گا ۱؎ اور اگر نکلا اور میں تم میں نہ ہوا تو ہر شخص اپنی ذات کا محافظ ہے۲؎ اور ہر مسلمان پر الله میرا خلیفہ ہے۳؎ وہ جوان ہے سخت گھونگر بال۴؎ اس کی آنکھ ابھری ہوئی ہے گویا میں اسے عبدالعزیٰ ابن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں۵؎ تو تم میں سے جو اسے پائے تو اس پر سورۂ کہف کی شروع کی آیتیں پڑھے اور ایک روایت میں ہے کہ اس پر سورۂ کہف کی ابتدائی آیتیں پڑھے کہ وہ تمہارا امان ہے اس کے فتنہ سے۶؎ وہ شام و عراق والے راستے سے نکلے گا تو داہنے بائیں فساد پھیلائے گا۷؎ اے الله کے بندو ثابت قدم رہنا ۸؎ ہم نے عرض کیا یارسول الله اس کا زمین میں ٹھہرنا کتنا ہے فرمایا چالیس دن ۹؎ ایک دن سال کی طرح ہوگا اور ایک دن مہینہ کی طرح اور ایک دن ہفتہ کی طرح اور بقیہ دن تمہارے عام دنوں کی طرح ۱۰؎ ہم نے عرض کیا یارسول الله تو یہ دن جو ایک سال کی طرح ہوگا کیا اس میں ہم کو ایک دن کی نمازیں کافی ہوں گی فرمایا نہیں تم اس کے لیے اندازہ لگالینا ۱۱؎ ہم نے عرض کیا یارسول الله زمین میں اس کی تیز رفتاری کیسی ہوگی فرمایا جیسے بادل جس کے پیچھے ہوا ہو۱۲؎ وہ ایک قوم پر آوے گا انہیں بلائے گا وہ اس پر ایمان لے آئیں گے تو آسمان کو حکم دے گا وہ بارش برسائے گا اور زمین کو حکم دے گا وہ اگائے گی ان کے جانور آئیں گے جیسے پہلے تھے اس سے زیادہ دراز کوہان والے اور زیادہ بھرے ہوئے تھن والے اور زیادہ لمبی کوکھوں والے۱۳؎ پھر ایک دوسری قوم کے پاس آئے گا انہیں بلائے گا وہ اس کی بات رد کردیں گے وہ ان کے پاس سے لوٹ جاوے گا۱۴؎ تو یہ لوگ قحط زدہ رہ جاویں گے۱۵؎ کہ ان کے ہاتھوں میں ان کے مال میں سے کچھ نہ رہے گا۱۶؎ اور ویرانہ پرگزرے گا اس سے کہے گا اپنے خزانے نکال تو اس کے پیچھے یہ خزانے شہد کی مکھیوں کی طرح چلیں گے۱۷؎ پھر ایک جوانی سے بھرے ہوئے شخص کو بلائے گا اسے تلوار سے مار کر اس کے دوٹکڑے کرکے تیر کے نشان پر پھینک دے گا۱۸؎ پھر اسے بلائے گا تو وہ آجاوے گا اور اس کا چہرہ چمکتا ہوگا وہ ہنستا ہوگا جب کہ وہ اس طرح ہوگا کہ الله تعالٰی مسیح ابن مریم کو بھیجے گا۱۹؎ آپ دمشق کے مشرقی سفید مینارے کے پاس دو زعفرانی کپڑوں کے درمیان اتریں گے۲۰؎ اپنے ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے جب اپنا سر جھکائیں گے تو قطرے ٹپکیں گے اور جب اٹھائیں گے تو اس سے قطرے ٹپکیں گے موتیوں کی طرح ۲۱؎ پھرکسی کافر کوممکن نہ ہوگا کہ آپ کی سانس پائے مگر مرجاوے گا اور آپ کی سانس وہاں تک پہنچے گی۲۲؎ جہاں تک آپ کی نظر جاوے گی آپ اسے تلاش کریں گے یہاں تک کہ اسے باب لد میں پائیں گے۲۳؎ تو قتل کریں گے پھر حضرت عیسیٰ کے پاس وہ قوم آوے گی جنہیں الله نے دجال سے محفوظ رکھا تو آپ ان کے چہرے صاف فرمائیں گے۲۴؎ اور انہیں ان کے جنتی درجات کی خبر دیں گے وہ اس طرح ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ کو رب تعالٰی وحی کرے گا کہ میں نے اپنے بندے نکالے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہیں تو میرے بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ۲۵؎ اور الله یا جوج ماجوج کو بھیجے گا جوہر ٹیلے سے ڈورتے آئیں گے۲۶؎ تو ان کی اگلی جماعت بحیر طبریہ پر گزرے گی اس کا سارا پانی پی جاوے گی۲۷؎ ان کی آخری جماعت گزرے گی تو کہے گی کہ کبھی یہاں پانی تھا حتی کہ جبل خمر تک پہنچیں گے،یہ بیت المقدس کا ایک پہاڑ ہے۲۸؎ تو کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کو تو قتل کر دیا آؤ آسمان والوں کو قتل کریں۲۹؎ تو اپنے تیر آسمان کی طرف چلائیں گے تو الله ان کے تیر خون سے رنگین لوٹائے گا۳۰؎ اور اﷲ کے نبی اور ان کے ساتھی محصور رہیں گے حتی کہ ان کے لیے ایک بیل کی سری سو اشرفیوں سے بڑھ کر ہوگی۳۱؎ جو تمہارے لیے آج ہے تب الله کے نبی عیسیٰ اور ان کے ساتھی متوجہ الی الله ہوں گے۳۲؎ تب اﷲ ان یاجوح ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا تو وہ سب ایک شخص کی موت کی طرح مردہ ہوجائیں گے۳۳؎ پھر الله کے نبی عیسیٰ اور ان کے ساتھی زمین کی طرف اتریں گے تو زمین میں بالشت بھر زمین ایسی نہ پائیں گے جو ان کی لاشوں اور بدبو نے نہ بھردی ہو۳۴؎ تب الله کے نبی عیسیٰ اور ان کے ساتھی الله تعالٰی سے دعا کریں گے تو الله تعالٰی پرندے بھیجے گا۳۵؎ اونٹ کی گردن کی طرح وہ انہیں اٹھا کر جہاں الله چاہے گا پھینک دیں گے۳۶؎ اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں نھبل میں پھینک دیں گے۳۷؎ اور مسلمان ان کی کمانیں ان کے کمانوں ان کے نیزوں اور ترکش سات سال تک جلائیں گے۳۸؎پھر الله تعالٰی بارش بھیجے گا جس سے نہ کوئی گھر مٹی کا بچے گا نہ اون کا تو وہ زمین کو دھودے گی۳۹؎حتی کہ اسے شیشہ کی طرح کر چھوڑے گی۴۰؎ زمین سے کہا جاوے گا تو اپنے پھل اُگا اور اپنی برکت لوٹا دے تو اس دن ایک انار سے ایک جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے سے سایہ لے گی۴۱؎ اور دودھ میں برکت دی جاوے گی حتی کہ تازہ جنی ہوئی اونٹنی لوگوں کی ایک جماعت کو کافی ہوگی اور نئی جنی ہوئی گائے ایک قبیلہ کو کافی ہوگی اور نئی جنی ہوئی بکری لوگوں کے ایک خاندان کو کافی ہوگی۴۲؎ جب کہ وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ الله ایک خوشگوار ہوا بھیجے گا وہ انہیں ان کی بغلوں کے نیچے لگے گی تو ہر مسلمان ہر مؤمن کی روح قبض کرلے گی۴۳؎ اور بدترین لوگ رہ جائیں گے جو زمین میں گدھوں کی جفتی کی طرح زنا کریں گے ان پر قیامت ہوگی۴۴؎ (مسلم)سوا دوسری روایت کے اور یہ قول ہے کہ انہیں نھبل میں پھینک دے گی سبع سنین تک ۴۵؎ (ترمذی) |
۱؎ یہ فرمان عالی بالفرض ہے یعنی فرض کرلو کہ اگر وہ میری موجودگی میں آگیا تو تم کو اس سے کوئی نقصان نہ پہنچے وہ میرے ہی ہاتھوں فنا ہوجاوے گا،اس کی شعبدے بازیاں میرے مقابل ناکارہ ہوجائیں گی۔اس فرمان عالی سے دو فائدے حاصل ہوئے: ایک یہ کہ اگرچہ اس مردود کا ظہور ابھی نہیں ہوگا مگر اس سے ڈرنا رکن ایمان ہے تم اس سے خوف کرو جیسے قیامت ابھی نہیں آئے گی مگر اس سے ڈرتے رہو۔خوف قیامت خوف دجال درحقیقت خوف خدا کا ذریعہ ہیں۔دوسرے یہ کہ دجال اگرچہ مارا جاوے گا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں لیکن اگر میرے زمانہ میں آجاتا تو میرے ہاتھوں ہی فنا ہوجاتا بلکہ عیسیٰ علیہ السلام بھی حضور کے نائب ہونے کی حیثیت سے اسے قتل کریں گے۔
۲؎ یعنی ہر شخص اپنی ذات کے لیے اس کا مقابلہ دلائل عقلیہ و شرعیہ سے کرے کہ دلائل سے سوچے کہ یہ خدا نہیں ہوسکتا۔یہاں بھی حجیح بمعنی مقابل ہی ہے مگر یہ مقابلہ اسے قتل کرنے کا نہیں بلکہ اپنے ایمان بچانے کا ہے۔ (مرقات)گویا حضور صلی اللہ علیہ و سلم دجال کو فنا کرنے کے لیے اس کے مقابل ہیں اور یہ ہرشخص اس سے بچنے کے لیے اس کا مقابل۔
۳؎ یہاں خلیفہ بمعنی وکیل و محافظ ہے۔اگر اس وقت ہم حیات ہوتے تو مسلمانوں کی حفاظت ہم کرتے،اب چونکہ ہم نہ ہوں گے تو میری طرف سے میرا رب میری امت کی حفاظت کرے۔اس سے معلوم ہوا بفضلہ تعالٰی مؤمن ہمیشہ منصور و محفوظ رہتا ہے۔
۴؎ بالوں میں قدرے خم جسے جعد کہتے ہیں بہت اچھا ہے مگر بہت زیادہ خمی کہ بالوں کے کنڈل بن جاوے جسے قطط کہتے ہیں یہ بری ہے،دجال کے بال بہت ہی خم دار ہوں گے۔
۵؎ عبدالعزیٰ زمانہ جاہلیت میں ایک مشرک بادشاہ گزرا ہے،اس کی بدصورتی عرب میں مشہور تھی بلکہ اس کے دیکھنے والے لوگ اس وقت موجود تھے،حضور نے اس سے تشبیہ دی۔چونکہ دجال کی صورت بہت ہی بری ہوگی کہ اس جیسا بدشکل دنیا میں کوئی نہ گزرا نہ اس وقت ہوگا اس لیے حضور انور نے جزم و یقین سے تشبیہ نہ دی بلکہ کانّی فرمایا یعنی اسے کچھ کچھ مشابہت عبدالعزیٰ سے ہوگی ورنہ وہ عبدالعزیٰ سے کہیں بدتر ہوگا۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور نے اگلے پچھلے اپنی نگاہوں سے دیکھے ہیں کہ عبدالعزیٰ پہلے گزرچکا ہے اور دجال آئندہ ہوگا مگر دونوں حضور کے علم و نظر میں ہیں۔(از مرقات)
۶؎ یعنی اس زمانہ میں جو کوئی سورۂ کہف کی شروع آیات کذبا تک پڑھتا رہے گا وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے۔ان آیات میں یہ ذکر ہے کہ اصحاب کہف دقیانوس بادشاہ کے فتنے سے محفوظ رہے،ان کی حفاظت کی برکت سے الله انہیں دجال کے فتنہ سے محفوظ رکھے گا۔ جواز کا لفظی ترجمہ ہے پاسپورٹ کہ وہ ذریعہ امان ہوتا ہے۔بعض روایات میں ہے کہ سورۂ کہف کی شروع کی دس آیات ہمیشہ پڑھنے والا دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا،بعض لوگ ہمیشہ،بعض لوگ ہر جمعہ کو پڑھتے ہیں تاکہ موجودہ دجالوں سے بچے رہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع