30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لگارہا ہے اس سے اوپر نیچے نہیں ہوسکتا۔یہ تیسرے آسمان پر اترے نہ پانچویں پر چڑھے چونکہ یہ تفسیر خود صاحب قرآن صلی اللہ علیہ و سلم کی ہے لہذا قوی ہے۔
|
5469 -[6] وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ أَمْرٌ أكبر من الدَّجَّال» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرات عمران بن حصین سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ آدم علیہ السلام کی پیدائش اور قیامت کے درمیان دجال سے بڑی کوئی چیز نہیں ۱؎(مسلم) |
۱؎ یعنی انسان کی ابتداء پیدائش سے لے کر قیامت تک دجال سے بڑا فتنہ کوئی نہیں یہ ہی انسان کے لیے بڑی آفت ہے،اس سے بہت لوگ گمراہ ہوں گے،لوگ دجال کے کرشمے دیکھ کر اسے خدا مان لیں گے اس لیے نوح علیہ السلام سے لے کر آخر تک ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال کے فتنہ سے آگاہ کیا۔
|
5470 -[7] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عنبة طافية» . |
روایت ہے حضرت عبد الله سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تم پر چھپا نہیں الله تعالٰی کانا نہیں اور مسیح دجال آنکھ کا کانا ہے ۲؎ اس کی آنکھ گویا ابھرا ہوا انگور ہے ۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ حدیث شریف میں جب عبداﷲ مطلق آتا ہے تو اس سے مراد حضرت عبداﷲ ابن مسعود ہوتے ہیں وہ ہی یہاں مراد ہیں۔
۲؎ یعنی اے لوگو! دجال کے حیرت انگیز کرشمے دیکھ کر اسے خدا نہ سمجھ لینااس کی بندگی کی دلیل اس کی اپنی کانی آنکھ ہے وہ اپنے کو شفا نہ دے سکے گا۔
۳؎ یعنی دجال کی داہنی آنکھ کانی بھی ہوگی اور اوپر کو انگورکی طرح ابھری ہوئی جو ہر شخص کو نظر آوے اپنے اس عیب کو دور نہ کرسکے گا۔خیال رہے کہ جو خدا ہونے کا دعویٰ کرے اس کے ہاتھ پر عجیب کرشمے ظاہر ہوسکتے ہیں کیونکہ الوہیت تو مشتبہ ہوسکتی ہی نہیں مگر جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے اس کے ہاتھ پر کوئی کرشمہ ظاہر نہیں ہوسکتا ورنہ نبوت مشتبہ ہو جاوے۔دجال اگر دعویٰ نبوت کرے تو کوئی عجوبہ نہیں دکھا سکتا یہ خوب خیال رکھو۔یہاں مسیح بمعنی اسم مفعول ہے یعنی ممسوح العین ایک آنکھ کا کانا،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو مسیح کہتے ہیں وہاں مسیح بمعنی اسم فاعل ہے یعنی برکت کے لیے چھونے والے اور چھو کر مردے زندہ، بیماروں کو اچھا کرنے والا۔ طافیہ بنا ہے طفی سے بمعنی اوپر ہونا اور ابھرنا اس لیے جو مچھلی پانی پر تر کر آ جاوے اسے طافیہ کہتے ہیں۔
|
5471 -[8] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ: ك ف ر ". |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کوئی نبی ایسا نہیں جنہوں نے اپنی امت کو کانے جھوٹے سے ڈرایا نہ ہو ۱؎ آگاہ رہو کہ وہ کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں اس کی دو آنکھوں کے نیچے لکھا ہے ک،ف،ر۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ حق یہ ہے کہ یہاں دجال سے مراد وہ ہی دجال ہے جو قریب قیامت نکلے گا اگرچہ ان انبیاءکرام کو خبر تھی کہ ہماری امتیں اسے نہ پائیں گی،پھربھی اس سے ڈرانا اہتمام ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ بڑی ہی ہیبت ناک چیز ہے اس سے پناہ مانگو یہ پناہ مانگنا بھی عبادت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع