دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

۱؎ کیونکہ ان چھ علامات کے ظہور کے وقت اعمال صالحہ کرنا بہت ہی مشکل ہوجاویں گے۔

۲؎ یعنی عام فتنوں سے بھی پہلے نیکیاں کرلو اور خاص فتنوں سے بھی پہلے کرلو۔خاص فتنے کیا ہیں،ایسے مشاغل بیماریاں جو اعمال سے روک دیں اور پھر موت تو سب سے بڑی آفت ہے جس پر تمام اعمال ختم ہوجاتے ہیں الا ماشاء الله! (مرقات)

5466 -[3]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٌو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى وَأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالْأُخْرَى على أَثَرهَا قَرِيبا» رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ پہلی نشانی جو نکلے گی وہ سورج کا پچھم کی طرف سے نکلنا ہےاور جانور کا لوگوں کے سامنے نکلنا ہے ۱؎ دوپہر کے وقت ۲؎ ان دونوں میں سے جو بھی اپنے صاحب سے پہلے ہو تو دوسری اس کے قریب ہی پیچھے ہوگی ۳؎ (مسلم)

۱؎ یہ علامتیں ان علامات سے پہلے ہیں جو ان کے بعد آنے والی ہیں۔اولیت سے مراد اولیت اضافی ہے نہ کہ اولیت حقیقی۔ان تینوں میں دھواں اور دجال پہلے ہیں اور آفتاب کا مغرب سے نکلنا ان دونوں کے بعد۔

۲؎  یعنی اس عجیب الخلقت جانور کو ظاہر ہونا دوپہر کے وقت ہوگاکہ اس وقت مکہ معظمہ میں دوپہر ہوگی اگرچہ دوسرے ملکوں میں سویرا یا شام یا رات ہو،یا یہ مطلب ہے کہ وہ جانور جہاں بھی پہنچے گا دوپہر کو پہنچے گا کہ اس وقت عام طورپر لوگ باہر ہوتے ہیں،نیز اس وقت جو چیز دیکھی جاتی ہے وہ یقینی ہوتی ہے۔

۳؎  اس حدیث میں ابہام ہے،صراحۃً بیان نہ فرمایا گیا کہ ان میں سے پہلے کونسی علامات ہوگی اور بعد میں کون سی،دوسری احادیث میں اس کی تفصیل ہے جو ابھی کچھ پہلے عرض کی گئی،ہاں یہاں اتنا ہے کہ یہ علامات آپس میں قریب قریب ہیں۔

5467 -[4]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ (لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا)طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الْأَرْضِ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تین چیزیں جب نمودار ہوں گی تو کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لائی تھی ۱؎ یا اپنے ایمان میں بھلائی نہ کمائی تھی سورج کا اپنے پچھم سے نکلنا۲؎  اور دجال اور زمین کا جانور ۳؎(مسلم)

۱؎ چونکہ ان علامات کے ظہور پر قیامت کا سب کو یقین ہوجاوے گا اس لیے اب قیامت غیب نہ رہے گی بلکہ شہادت بن جاوے گی اور ایمان بالغیب معتبر ہے اس لیے اب نہ ایمان معتبر ہوگا نہ اس وقت کی توبہ قبول ہوگی۔خیال رہے کہ توبہ کا دروازہ سورج کے مغرب سے نکلنے پر بند ہوگا۔یہاں ثلاث فرمانا ایسا ہے جیسے قرآن کریم فرماتاہے:"یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُ"کہ موتی مونگے کھاری سمندر سے نکلتے ہیں نہ میٹھے سے مگر فرمایا دونوں سے نکلتے ہیں،ایسے ہی توبہ قبول نہ ہونے کو تغلیبًا ان تینوں علامتوں کی طرف نسبت فرمایا گیا۔

۲؎  سورج کا یہ طلوع دجال اور دابۃ کے بعد ہے مگر چونکہ دروازہ توبہ بند اسی پر ہوگا اس لیے اس کا ذکر پہلے فرمایا۔ (مرقات)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن