30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ حق یہ کہ اس دھوئیں سے مراد وہ دھواں نہیں جو ہجرت سے پہلے قریش کو قحط سالی میں سخت بھوک کی وجہ سے محسوس ہوا تھا بلکہ اس دھواں سے مراد قریب قیامت والا وہ دھواں ہے جو قریب قیامت مشرق و مغرب میں پھیل جاوے گا،جس سے مسلمانوں کو زکام سا محسوس ہوگا اور کفار دیوانہ ہو جائیں گے یہ دوران چالیس دن رہے گا۔
۳؎ یہ جانور مکہ معظمہ کے حرم کعبہ سے نمودار ہوگا۔صفا مروہ پہاڑوں کے درمیان سے یہ چوپایہ ہے ساٹھ گز قد،اس کے مختلف اعضاء بدن مختلف جانوروں کے سے ہوں گے،اس کے پاس عصاءموسوی،مہر سلیمانی ہوگی،ہرشخص کو پکڑ کر اس کی پیشانی پر مہر سلیمانی لگائے گا۔جس پر سفید نقش نمودار ہوں وہ مؤمن ہوگا،سیاہ نقش والا کافر،اس جانور کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے "اَخْرَجْنَا لَہُمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ"۔مرقات نے فرمایا کہ یہ جانور تین بار نکلے گا: امام مہدی کے زمانہ میں،پھر نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بعد،پھر آفتا ب کے مغرب سے نکلنے کے بعد ۔(مرقات)
۴؎ ان علامات کے ظہور کی ترتیب یہ ہے(۱) پہلے دھواں (۲)پھر دجال (۳)پھر عیسیٰ علیہ السلام کا نزول(۴)پھر یا جوج ما جوج کا خروج (۵)پھر یہ جانور(۶)پھر سورج کا پچھم سے نکلنا۔خیال رہے کہ امام مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ظاہر ہوجائیں گے،بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ آفتاب کا مغرب سے نکلنا پہلے ہے نزول عیسیٰ علیہ السلام بعد میں مگر درست نہیں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں کفار کا ایمان قبول ہوگا اور طلوع آفتاب کے بعد ایمان قبول نہ ہوگا۔ (مرقات)
۵؎ گزشتہ زمانوں میں بعض جگہ ز مینیں دھنسی ہیں مگر یہ دھنسنا قریب قیامت ہوں گے بڑے علاقہ میں اور بڑے خطرناک جیسے زلزلے عام طور پر آتے رہتے ہیں مگر زلزلہ قیامت خدا کی پناہ"اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ" ۔(از مرقات)
۶؎ اس موقع پر دو آگ نکلیں گی: ایک یمن سے،دوسری حجاز سے،آخر میں یہ دونوں جمع ہوجائیں گی لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جن میں حجاز سے آگ نکلنے کا ذکر ہے۔خیال رہے کہ یہ آگ ان مذکورہ علامات کے بعد ہوگی ان علامات سے پہلے جن کے متصل صور کا نفخہ ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں آگ کو پہلی علامت فرمایا گیا ہے کہ یہ آگ ان علامات میں پہلی ہے۔
۷؎ قیامت زمین شام یا زمین فلسطین میں قائم ہوگی یہ آگ تمام کو وہاں پہنچادے گی،یہ قدرت الٰہی ہوگی کہ ساری مخلوق زمین شام میں جمع ہوجاوے گی۔
۸؎ عدن ملک یمن کا مشہور شہر ہے وہ اس کا دارالخلافہ ہے۔یہ عبارت پچھلی عبارت کی شرح ہے کہ وہاں یمن تھا یہاں عدن ہے۔
۹؎ یعنی اس روایت میں دسویں علامت بجائے آگ کے ہوا فرمائی گئی ہے مگر ہوسکتا ہے کہ اس آگ کے ساتھ آندھی بھی ہو،یہ آندھی کفار کو سمندر میں پھینک دے کہ کفار سمندر سے قیامت میں اٹھیں۔خیال رہے کہ وہ آگ مؤمنوں کے لیے عذاب نہیں بلکہ ڈراوا ہوگی جس سے مسلمان ملک شام میں پہنچ جاویں۔واﷲ و رسولہ اعلم!(مرقات)
|
5465 -[2] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا. الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَدَابَّةَ الْأَرْضِ وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَأَمْرَ الْعَامَّةِ وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ چھ علامات سے پہلے اعمال کرلو ۱؎ دھواں، دجال،زمین کا جانور،سورج کا پچھم کی طرف سے نکلنا،عام فتنہ اور تم میں سے ہر ایک کا خاص فتنہ ۲؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع