30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب العلامات بین یدی الساعۃ و ذکر الدجّال
قیامت کے سامنے والی علامات ۱؎ اور دجّال کا بیان ۲؎
۱؎ ان علامات سے مراد قیامت کی دس بڑی بڑی علامات ہیں ورنہ قیامت کی چھوٹی بڑی بہت علامات ہیں جو پہلے مذکور ہوئیں جیسے امام مہدی کا ظہور وغیرہ۔
۲؎ دجال بروزن قوال مبالغہ کا صیغہ ہے،بنا ہے دجل سےبمعنی جھوٹ یا فریب وغیرہ یا ملمع سازی یا حق و باطل کا خلط ملط،چونکہ دجال میں یہ تمام عیوب ہوں گے اس لیے اسے دجال کہتے ہیں۔دجال دو قسم کے ہیں: چھوٹے اور بڑے چھوٹ دجال بہت ہوئے اور ہوں گے،ہر جھوٹا نبی،جھوٹا مولوی صوفی جو لوگوں کو گمراہ کریں وہ دجال ہیں۔بڑا دجال صرف ایک ہے جو دعویٰ خدائی کرے گا اس کا نام اس کی قوم کا پتہ نہیں چلا۔مشہور یہ ہے کہ اس کی اصل یہود سے ہوگی۔والله ورسولہ اعلم! جب الله و رسول نے اس کی یہ باتیں بیان نہ فرمائیں تو ہم تحقیق کرنے والے کون۔مرزا قادیانی کہتا تھا کہ انگریز دجال ہیں،ریل ان کا گدھا ہے اور میں مسیح موعود انہیں فنا کرنے والا ہے لوگ اتنا نہیں سوچتے کہ ریل دجال کا ایسا گدھا ہے جس پر یہ مسیح صاحب زندگی میں سوار ہوتے رہے اور بعد مرنے ان کی لاش لاہور سے قادیان تک اسی گدھے پر گئی ا ور خود انگزیزوں کی غلامی میں مرے انہیں تو کیا مارتا خود انگریزوں کی موجودگی میں ہلاک ہوا۔
|
5464 - [1] عَن حذيفةَ بن أسيد الْغِفَارِيّ قَالَ: اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ. فَقَالَ: «مَا تَذْكُرُونَ؟» . قَالُوا: نَذْكُرُ السَّاعَةَ. قَالَ: " إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْا قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ فَذَكَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّةَ وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَنُزُولَ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ ". وَفِي رِوَايَةٍ: «نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ» . وَفِي رِوَايَةٍ فِي الْعَاشِرَةِ «وَرِيحٌ تُلْقِي النَّاسَ فِي الْبَحْر» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت حذیفہ ابن اسید غفاری سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہم پر تشریف لائے جب کہ ہم کچھ تذکرے کر رہے تھے تو فرمایا کیا تذکرہ کرتے ہو، صحابہ نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا تذکرہ کررہے ہیں، فرمایا قیامت ہرگز نہ آوے گی حتی کہ اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو پھر حضور نے دھواں۲؎ دجال جانور۳؎ سورج کا مغرب کی طرف سے نکلنا،عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا اور یا جوج و ماجوج۴؎ اور تین دھنسنے ایک دھنسنا پورب میں دوسرا پچھم میں اور ایک دھسنا عرب کے جزیرہ میں۵؎ اور ان سب کے آخر میں وہ آگ جو یمن سے نکلے گی ۶؎ لوگوں کو ان کی قیامت گاہ کی طرف ہانک دے گی ۷؎ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ آگ جو عدن کے بیچ سے نکلے گی لوگوں کو محشر کی طرف ہانک دے گی ۸؎ اور ایک روایت میں ہے دسویں علامت کے بارے میں ہے کہ وہ ہوا جو لوگوں کو دریا میں ڈال دے گی ۹؎(مسلم) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،بیعت رضوان میں شریک ہوئے،آخر میں کوفہ قیام رہا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع