30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی ایسی مشینیں ایجاد ہوجاویں گی جو انسانوں کے کلام بلکہ کام کو کیچ کرلیا کریں گی وہ مشینیں دیواروں، جوتوں،کواڑوں میں فٹ ہوں گی اور اسے ہر بات بتائیں گی۔موجودہ سائنس نے ان چیزوں کو ممکن بلکہ قریب الوقوع بنا دیا،درودیواروں سے تو اب بھی آوازیں آرہی ہیں۔
|
5460 -[24] عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْآيَاتُ بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ بڑی نشانیاں دو سو برس کے بعد ہیں ۱؎ (ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی بڑی علامات قیامت یا ان علامات کا لگاتار ظہور آج سے دو سو برس بعد شروع ہوگا یا ہجرت سے یا ہماری وفات سے سنہ ایک ہزار ہجری سے دو سو برس بعد شروع ہوگا اس بعدیت میں بڑی گنجائش ہے اگر دو ہزار برس بعد بھی ہو تب ان دو سو کے بعد ہی ہے۔
|
5461 -[25] وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّايَاتِ السُّودَ قَدْ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ خُرَاسَانَ فَأْتُوهَا فَإِنَّ فِيهَا خَلِيفَةَ اللَّهِ الْمَهْدِيَّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِل النبوَّة» |
روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جب تم کالے جھنڈے دیکھو ۱؎ کہ خراسان کی طرف آرہے ہیں ۲؎ تو تم وہاں جانا کیونکہ اس میں اﷲ کا خلیفہ مہدی ہے ۳؎ (احمد،بیہقی دلائل النبوۃ) |
۱؎ اس میں خطاب حضرات صحابہ سے نہیں بلکہ عام مسلمانوں سے ہے کیونکہ یہ واقعہ حضرات صحابہ کے زمانہ میں نہیں بلکہ قریب قیامت ہے اگرچہ اس وقت خضر علیہ السلام موجود ہوں گے،یہ حضور صلی الله علیہ و سلم کے صحابی نہیں،نیز بعض جنات صحابہ ہوں گے مگر وہ زمانہ صحابہ کرام کا زمانہ نہیں ہوگا لہذا خطاب عام ہے۔
۲؎ یعنی اسلام کا عظیم الشان اور جرار لشکر جو بہت سے جھنڈوں کے تلے ہوگا۔غالبًا یہ لشکر جرار حارث اور منصور کا ہوگا جن کا ذکر پہلے ہوچکا۔
۳؎ یعنی اس لشکر میں امام مہدی بذات خود سپاہیانہ شان سے ہوں گے۔آپ اس وقت خلیفہ نہ بنے ہوں گے یا یہ مطلب ہے کہ اس لشکر پر امام مہدی کا ہاتھ ہوگا ان کی نصرت ہوگی لہذا یہ حدیث اس فرمان عالی کے خلاف نہیں کہ حضرات امام مہدی کا ظہور حرمین شریفین کے درمیان ہوگا کہ وہ وقت آپ کی خلافت کے ظہور کا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سیاہ رنگ ماتمی نہیں جو کہ روافض کا خیال ہے،فتح مکہ کے دن حضور صلی الله علیہ و سلم کا عمامہ سیاہ تھا،ان جھنڈوں کا رنگ سیاہ ہی ہوگا۔
|
5462 -[26] وَعَن أبي إِسحاق قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ وَنَظَرَ إِلَى ابْنِهِ الْحَسَنِ قَالَ: إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ كَمَا سَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ رَجُلٌ يُسَمَّى بِاسْمِ نَبِيِّكُمْ يُشْبِهُهُ فِي الْخَلْقِ ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِصَّةَ |
روایت ہے حضرت ابواسحاق سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا حضرت علی نے اور اپنے بیٹے حسن کو دیکھا کہ یہ میرا یہ بیٹا سید ہے جیسے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اسے سید فرمایا ۲؎ اس کی پشت سے ایک شخص نکلے گا ۳؎ جو تمہارے نبی کے نام سے موسوم ہوگا،عادت میں ان کے مشابہہ ہوگا اور شکل میں مشابہہ نہ ہوگا۴؎ پھر پورا قصہ بیان فرمایا کہ وہ زمین کو انصاف سے بھر دے گا (ابو داؤد)اور قصہ کا ذکر نہ فرمایا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع