30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ یہ شک راوی کو ہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے سات سال فرمائے یا آٹھ سال یا نو سال مگر گزشتہ حدیث سے ثابت ہوا کہ سات سال کی روایت قوی ہے۔یہاں مشکوۃ شریف نے سفید جگہ چھوڑی ہے تاکہ معلوم ہو کہ اس حدیث کا مخرج صاحب مشکوۃ کو نہ ملا مگر اسے حاکم نے مستدرک میں روایت کیا اور فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔
|
5458 -[22] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ وَرَاءِ النَّهْرِ يُقَالُ لَهُ: الْحَارِثُ حَرَّاثٌ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: مَنْصُورٌ يُوَطِّنُ أَوْ يُمَكِّنُ لِآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا مَكَّنَتْ قُرَيْشٌ لِرَسُولِ اللَّهِ وَجَبَ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ نَصْرُهُ أَوْ قَالَ: إِجَابَتُهُ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ماوراء النہر سے ایک شخص نکلے گا جسے حارث کہا جائے گا ۱؎ کسان ہوگا ۲؎ اس کے لشکر کے اگلے حصہ پر ایک شخص ہوگا جسے منصور کہا جاوے گا۳؎ وہ محمد صلی الله علیہ و سلم کی اولاد کو ایسی ہی جگہ دے گا جیسے قریش نے الله کے رسول کو جگہ دی تھی ۴؎ ہر مسلمان پر اس کی مدد ضروری ہے یا فرمایا اس کی بات قبول کرنا ضروری ہے ۵؎ (ابوداؤد) |
۱؎ وراء النہر ایک علاقہ کا نام ہے جس میں بہت سے شہر ہیں جیسے بخارا اور سمر قند وغیرہ۔
۲؎ یعنی اس کا نام حارث ہوگا لقب حراث کیونکہ وہ کھیتی باڑی کرتا ہوگا۔
۳؎ منصور یا تو اس کا نام ہوگا یا اس کا لقب غالبًا یہ صاحب حضرت خضر علیہ السلام ہوں گے۔(مرقات)
۴؎ یہاں قریش سے مراد ابو طالب حمزہ اور دوسرے وہ قریش حضرات ہیں جو حضور صلی الله علیہ و سلم کی دل و جان سے خدمت و حفاظت کرتے رہے اگرچہ اہل سنت کے نزدیک ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں،بعض نے فرمایا کہ آل محمد سے مراد حضرت امام مہدی اور ان کے متبعین ہیں یعنی حارث یا منصورا مام مہدی کے بڑے معاون اور مددگار ہوں گے۔
۵؎ یعنی ہر مسلمان پر حارث یا منصور کی مدد کرنا ضروری ہے۔
|
5459 -[23] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ وَحَتَّى تُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَشِرَاكُ نَعْلِهِ وَيُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ قیامت نہ آئے گی حتی کہ درندے انسانوں سے باتیں کریں گے ۱؎ اور حتی کہ آدمی سے اس کے کوزے کا پھندنا ا ور اس کے جوتے کا تسمہ باتیں کرے گا اور اس کی ران اسے وہ سب خبر دے گی جو اس کے گھر والوں نے اس کے پیچھے کیا۲؎ (ترمذی) |
۱؎ یعنی ہر قسم کے درندے خواہ چرندے ہوں جیسے شیر بھیڑیا وغیرہ یا پرندے جیسے باز شکر ہ وغیرہ ہر قسم کے انسان سے باتیں کریں گے اس انسان کی زبان میں جو اس کی مادری ہو۔حدیث بالکل ظاہر پر ہے اس میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔مؤمن و کافر ہر انسان سے کلام کریں گے، اولیاء الله سے تو آج بھی کلام کرتے ہیں بلکہ ان سے شجرو حجر کلام کرتے ہیں۔مولانا فرماتے ہیں شعر
نطق آب و نطق خاک و گل ہست محسوس حواس اہل دل
فلسفی گو منکر حنانہ است از حواس اولیاء بیگانہ است
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع