دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

5177 -[23]

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شربة» رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

 روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله  صلی الله  علیہ وسلم نے اگر دنیا اﷲ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو اس میں سے کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ نہ پلاتا ۱؎ (احمد،ترمذی،ابن ماجہ)

۱؎ یعنی اگر دنیا کی قدرو منزلت مچھر کے پر برابر بھی ہوتی تو کافر کو نہ دی جاتی کیونکہ کفار الله  کے دشمن ہیں اور دشمن کو پیاری چیز نہیں دی جاتی۔دنیا کے معنی ہم بار ہا عرض کرچکے ہیں۔

5178 -[24]

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»

روایت ہے حضرت ابن مسعو د سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله  صلی الله  علیہ وسلم نے کہ باغات و کھیت نہ اختیار کرو  ۱؎ ورنہ تم دنیا میں راغب ہوجاؤگے ۲ ؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)

۱؎ ضیعۃ لفظ مشترک ہے اس کے بہت معانی ہیں:تجارات و کسب مال،باغات و اراضی۔دنیا مشاغل یہاں بمعنی باغات اراضی ہیں۔(اشعہ)

۲؎ یعنی یہ زمانہ جہاد اور سپاہیانہ زندگی کا ہے اس زمانہ میں باغات و کاشت میں مشغول نہ ہو ورنہ کفار تم کو ہلاک کردیں گے۔یہ فرمان عالی ہنگامی حالات کے ہیں جب کہ مسلمانان مدینہ ہر چہار طرف سے کفار میں گھرے تھے،اس وقت عیش و آرام کی زندگی، پختہ مکانات بنانے،دنیاوی کاروبار میں مصروف ہونے سے منع فرمادیا گیا تھا جیساکہ زمانہ جنگ میں رات کو روشنی کرنے کی اجازت نہیں ہوتی بم باری کے خوف سے لیکن جب حالات بدل گئے یہ احکام بھی نہ رہے۔چنانچہ خلافت عثمانیہ میں مسلمانوں نے اپنے گھر پختہ،مسجد نبوی شریف شاندار بنائی اور باغات و کھیتی باڑیاں خوب کیں۔خیال رہے کہ اس زمانہ میں جیسے مکانات پختہ کرنا ممنوع تھے ویسے ہی قبور پر عمارات سے منع کردیا گیا تھا،جب سکون کا زمانہ آیا تو حضرات صحابہ نے مکانات بھی پختہ بنائے اور بزرگوں کے مزارات پر عمارات بھی بنائیں تاکہ زائرین کو زیارت اور تلاوت اور عبادت وغیرہ میں سہولت ہو۔اس کی تحقیق ہماری کتاب جاء الحق میں دیکھو۔یا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو باغات کھیتی باڑی میں ایسا مشغول ہو کہ دین کو بھول جاؤے، اس صورت میں یہ حکم دائمی ہے کھیتی باڑی ہی کیا جو چیز رب سے غافل کرے وہ ممنوع ہے۔

5179 -[25]

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى».رَوَاهُ أَحْمد وَالْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»

 روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله  صلی الله  علیہ وسلم نے کہ جو دنیا سے محبت کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچالیتا ہے اور جو اپنی آخرت سے محبت رکھتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچالیتا ہے تو باقی کو فنا ہونے والی پر اختیار کرو  ۱؎ (احمد،بیہقی شعب الایمان)

۱؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ دنیا و آخرت دونوں کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتی دنیا آخرت کی ضد ہے،ہاں دنیا سے محبت کرنا آخرت اور رضا الٰہی کے لیے بہت ہی بہتر ہے۔مال سے محبت،بچوں کی پرورش،عزیزوں کے حقوق ادا کرنے،حج و قربانی اور زکوۃ ادا کرنے کے لیے بہرحال اچھا ہے۔امام غزالی رحمۃ الله  علیہ فرماتے ہیں علم عقل و ایمان کا ادنی درجہ یہ ہے کہ انسان جان لے کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی رہنے والی،اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں رہ کر آخرت کی تیاری کرے دنیا میں منہمک نہ ہوجائے۔(مرقات)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن