30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5444 -[8] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَقِيءُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَيَجِيءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَتَلْتُ وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي. وَيَجِيءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قُطِعت يَدي ثمَّ يَد عونه فَلَا يَأْخُذُونَ من شَيْئا ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے چاندی کے ستونو ں کی شکل میں قے کردے گی ۱؎ تو قاتل آئے گا کہے گا کہ میں نے اس میں قتل کیا اور رشتے توڑنے والا آئے گا تو کہے گا کہ میں نے اس کے لیے اپنے رشتے توڑے اور چور آئے گا تو کہے گا کیا اس کی وجہ سے میرے ہاتھ کاٹے گئے ۲؎ پھر وہ لوگ یہ سب کچھ چھوڑ دیں گے تو اس میں سے کچھ نہ لیں گے ۳؎ (مسلم) |
۱؎ افلاذ جمع ہے فلذۃ کی بمعنی ٹکڑا،جگر کے ٹکڑوں سے مراد ہے زمین کا خلاصہ۔اس سے مراد ہے سونے چاندی کے دفینے یا کانیں یا دیگر معدنیات یا زمین کی پیداوار گندم وغیرہ جس سے سونا چاندی حاصل ہو۔اس کی شرح وہ آیت ہے "وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَہَا"۔ممکن ہے کہ حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہو اور زمین سے سونے چاندی کی سلاخیں نمودار ہوں مگر پہلے معانی زیادہ قوی معلوم ہوتے ہیں۔ان معانی سے یہ پیش گوئی پوری ہوچکی،اب زمین سے پیداوار بے شمار ہو رہی ہے،ولایتی کھاد اور ٹیوب ویل کے پانی نے ویرانوں کو آباد زمین میں تبدیل کردیا،ہر چیز کی پیداوار بہت بڑھ چکی ہے مگر آخری معنی کی تائید حدیث پاک کے آخری الفاظ سے ہورہی ہے۔
۲؎ یعنی اس وقت سونا چاندی بہت حقیر ہوجائیں گے،ان کی بہتات انہیں معمولی چیز بنادے گی تب یہ مجرمین افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ افسوس اس حقیر چیز پر ہمارے اعضاء کاٹے گئے یہ وقت ابھی نہیں آیا ہے لیکن اگر دولت کی زیادتی ایسی ہی ہوتی رہے تو وہ وقت بھی قریب ہی ہے۔
۳؎ یعنی یہ ہی چور وغیرہ اس سونے چاندی کو ہاتھ نہ لگائیں گے،یہ وقت بھی ابھی نہیں آیا ابھی خوب دھڑاکے سے کہ چوری رشوت خوری ظلم و زیادتی ہورہی ہے۔
|
5445 -[9] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ فَيَتَمَرَّغُ عَلَيْهِ ويقولُ: يَا لَيْتَني مَكَانَ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ وَلَيْسَ بِهِ الدِّينُ إِلَّا الْبلَاء ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ دنیا نہ جائے گی حتی کہ ایک آدمی قبر پر گزرے گا تو وہ وہاں لوٹے گا اور کہے گا ہائے کاش اس قبر والے کی جگہ میں ہوتا ۱؎ اور نہ ہوگا اس میں دین سواء بلا کے ۲؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی دنیا میں فتنے اور آفتیں بلائیں اس قدر ہوں گی کہ لوگ زندگی پر موت کو ترجیح دیں گے اور قبر کو دیکھ کر تمنا کریں گے کہ اس قبر میں ہم دفن ہوچکے ہوتے۔
۲؎ یعنی اس لوٹنے والے تمنا کرنے والے میں دین کا شائبہ بھی نہ ہوگا اور وہ دین کی وجہ سے یہ آرزو نہ کرے گا بلکہ فتنوں میں مبتلا ہوگا،انہیں دنیاوی مصیبتوں کی وجہ سے یہ آرزو کرے گا،یا یہ مطلب ہے کہ زمین پر اس وقت دین نہ رہے گا فتنے ہی فتنے بلائیں ہی بلائیں ہوں گی،وہ زمانہ وہ ہوگا جب زمین دین سے خالی ہوجاوے گی۔
|
5446 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ تُضِيءُ أعناقَ الإِبلِ ببُصْرى» . |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں قائم ہوگی قیامت حتی کہ زمین حجاز سے ایک آگ اٹھے گی جو بصرےٰ کے اونٹوں کی گردن چمکادے گی ۱؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع