30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5441 -[5] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يُقَسِّمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ آخر زمانہ میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال بانٹے گا اور اسے گنے گا نہیں ۱؎ اور ایک روایت میں ہے فرمایا میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو لپ بھر بھر کر مال دے گا اور اسے گنے گا نہیں ۲؎ (مسلم) |
۱؎ یہ بادشاہ غالبًا امام مہدی ہوں گے جو اور خوبیوں کے ساتھ نہایت ہی سخی ہوں گے۔
۲؎ اس روایت اور پہلی روایت میں فرق صرف چند لفظوں کا ہے مطلب ایک ہی ہے یعنی اس خلیفہ کے زمانہ میں فتوحات،غنیمتیں دوسرے مال بہت کثرت سے ہوں گے،بادشاہ نہایت سخی ہوگا اس لیے تقسیم کی کثرت کا یہ حال ہوگا کہ لوگوں کو بادشاہ مال دے گا اور گنے گا نہیں،بے گنتی دے گا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ لایعد کے معنی یہ ہیں کہ وہ بادشاہ کل کے لیے مال اٹھا کر نہ رکھے۔
|
5442 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا» . |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریب ہے کہ فرات سونے کے خزانہ سے کھل جاوے ۱؎ تو جو وہاں حاضر ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی فرات کا پانی خشک ہوجاوے گا اور اس کی تہہ میں سونا چاندی کا خزانہ ظاہر ہوگا۔حدیث بالکل ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔
۲؎ یعنی اس سونے چاندی سے دور بھاگے وہاں ٹھہرے بھی نہیں کیونکہ اس پر بڑی لڑائی اور عام قتل ہو گا،نیز اس خزانہ کے لینے سے عذاب الٰہی نازل ہوگا بلائیں آئیں گی،نیز یہ مال خزانہ قارونی کی طرح منحوس ہوگا اس سے نفع لینا حرام ہوگا۔(اشعۃ اللمعات)
|
5443 -[7] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ يَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مَنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَيَقُولُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ: لَعَلِّي أَكُونُ أَنَا الَّذِي أنجُو ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہ قائم ہوگی قیامت حتی کہ فرات سونے کے پہاڑ سے کھل جاوے گا ۱؎ اس پر لوگ آپس میں جنگ کریں گے تو ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل ہوجاویں گے ان میں سے ہر شخص یہ ہی کہے گا کہ شاید میں ہی وہ ہوں جو نجات پا جائے ۲؎ (مسلم) |
۱؎ غالبًا یہاں بھی وہ ہی واقعہ ارشاد ہوا جس کا ذکر ابھی پہلے ہوا،عبارت مختلف ہے مقصد ایک ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ دوسرا واقعہ ہے،یہاں پہاڑ سے مراد بیشمار سونا ہے یعنی پہاڑ بھر سونا ظاہری پہاڑ مراد نہیں ۔(اشعہ و مرقات)
۲؎ اس سونے پر سلطنتیں جنگ کریں گی عوام لڑیں گے۔غرضکہ سونا کیا ہوگا جنگ وجدال کی جڑ اور اللہ کا عذاب ہوگا،ہر شخص یہ ہی آس لگائے گا کہ شاید یہ سارا مجھے مل جائے چلو قسمت آزمائی کروں ا ور لوگوں سے لڑوں بھڑوں۔
|
5444 -[8] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَقِيءُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَيَجِيءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَتَلْتُ وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي. وَيَجِيءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قُطِعت يَدي ثمَّ يَد عونه فَلَا يَأْخُذُونَ من شَيْئا ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے چاندی کے ستونو ں کی شکل میں قے کردے گی ۱؎ تو قاتل آئے گا کہے گا کہ میں نے اس میں قتل کیا اور رشتے توڑنے والا آئے گا تو کہے گا کہ میں نے اس کے لیے اپنے رشتے توڑے اور چور آئے گا تو کہے گا کیا اس کی وجہ سے میرے ہاتھ کاٹے گئے ۲؎ پھر وہ لوگ یہ سب کچھ چھوڑ دیں گے تو اس میں سے کچھ نہ لیں گے ۳؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع