30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5435 -[25] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن شَقِيق عَن حُذَيْفَة قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ؟ فَقُلْتُ: أَنَا أَحْفَظُ كَمَا قَالَ: قَالَ: هَاتِ إِنَّكَ لِجَرِيءٌ وَكَيْفَ؟ قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ «فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ» فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْر. قَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا. قَالَ: فَيُكْسَرُ الْبَابُ أويفتح؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ يُكْسَرُ. قَالَ: ذَاكَ أَحْرَى أَنْ لَا يُغْلَقَ أَبَدًا. قَالَ: فَقُلْنَا لحذيفةَ: هَل كَانَ عمر يعلم مَنِ البابُ؟ قَالَ: نَعَمْ كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةٌ إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ قَالَ: فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنِ الْبَابُ؟ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْهُ. فَسَأَلَهُ فَقَالَ: عُمَرُ. |
روایت ہے حضرت شقیق سے ۱؎ وہ جناب حذیفہ سے راوی فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر کے پاس تھے کہ آپ نے فرمایا تم سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی فتنہ کے متعلق حدیث کا حافظ کون ہے۲؎ میں نے عرض کیا میں حافظ ہوں جیسے حضور نے فرمایا ہے،فرمایا لاؤ تم بڑے بہادر ہو ۳؎ حضور نے کیسے فرمایا،میں نے کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ مرد کا فتنہ اس کے گھر میں اس کے مال میں اور اس کی ذات میں اور اس کی اولاد میں اور اس کے پڑوسی میں ہے جسے روزے نماز،خیرات اچھائیوں کا حکم برائیوں سے روکنا مٹاتے رہتے ہیں۴؎ تو حضرت عمر نے فرمایا میں یہ ارادہ نہیں کر رہا ہوں میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موج کی طرح اٹھے گا ۵؎ فرمایا میں نے کہا آپ کو اس سے کیا تعلق اے امیر المؤمنین آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے ۶؎ فرمایا تو دروازہ توڑا جاوے گا یا کھولا جاوے گا فرماتے ہیں میں نے کہا نہیں بلکہ توڑا جاوے گا۷؎ فرمایا یہ اس لائق ہے کہ پھر بند نہ کیا جاسکے ۸؎ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے جناب حذیفہ سے کہا کیا حضرت عمر جانتے تھے کہ دروازہ کون ہے فرمایا ہاں جیسے یہ جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات ہے ۹؎ میں نے انہیں وہ حدیث سنائی جو معمہ نہیں ہے ۱۰؎ فرماتے ہیں کہ ہم کو اس سے ڈر لگا کہ حذیفہ سے پوچھیں کہ دروازہ کون ہے تو ہم نے مسروق سے کہا ان سے پوچھو انہوں نے پوچھا تو فرمایا عمر ہیں۔ (مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ کانام شقیق ابن ابی سلمہ ہے،آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا مگر زیارت نہ کی،بہت صحابہ سے ملاقات ہوئی،حجاج ابن یوسف کے زمانہ میں وفات پائی اور حذیفہ ابن یمان مشہور صحابی ہیں،آپ نے حضرت عثمان غنی کی شہادت کے چالیس دن بعد مدائن میں وفات پائی،وہاں مدائن میں ہی آپ کی قبر شریف ہے۔(مرقات)
۲؎ یعنی احکام،اعمال،عقائد کی احادیث تو ہم سب کو یاد ہیں ہمارے عمل میں ہیں،جو فتنوں بلاؤں آفتوں کی پیش گوئی حضور نے کی ہے وہ کسے یاد ہیں۔
۳؎ ظاہر یہ ہے کہ حضرت حذیفہ کو بہادر فرمانا ان کی تعریف و توصیف کے لیے ہے یعنی بڑے دلیر ہوکر تم نے حضور صلی الله علیہ و سلم سے منافقین فتنہ گروں اور فتنوں کے متعلق پوچھ پوچھ کر بہت معلومات جمع کرلی تھیں،نیز تم حضور صلی الله علیہ و سلم کے صاحب اسرار ہو تم نے وہ باتیں معلوم کرلیں ہیں جو ہم لوگوں کو معلوم نہیں بیان کرو۔بعض شارحین نے فرمایا کہ انہیں بہادر فرمانا ناراضی کے اظہار کے لیے مگر یہ غلط ہے۔حضرت حذیفہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائیں اور جناب عمر ناراض ہوں یہ کیسے ہوسکتا ہے۔
۴؎ یعنی انسان دن رات اپنے مال،اولاد،پڑوسیوں کی الجھنوں کی وجہ سے گناہ کرتا ہے،یہ چیزیں انسانوں کے لیے فتنہ ہیں"اَنَّمَاۤ اَمْوٰلُکُمْ وَ اَوْلٰدُکُمْ فِتْنَۃٌ"اور یہ مذکورہ نیکیاں ان گناہوں کو مٹاتی رہتی ہیں"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"۔
۵؎ یعنی یہ فتنے تو شخصی وقتی فتنے ہیں بلکہ ایک طرح الله کی رحمت ہیں،میں تو اس عالمگیر فتنہ کے متعلق پوچھتا ہوں جو سمندر کی لہروں کی طرح دنیا بھر کو لے لے گا،کسی کے روکے نہ رکے گا جس سے مسلمانوں میں قتل عام ہوگا۔
۶؎ یعنی آپ اس فتنہ سے خوف نہ کریں وہ آپ کو نہ پہنچے گا بلکہ آپ کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کو بھی نہ پہنچے گا،آپ مسلمانوں کے لیے امان ہیں،آپ وہ بند دروازہ ہیں جس نے مسلمانوں سے فتنوں کو روک رکھا ہے۔
۷؎ حضرت عمر سمجھ گئے وہ دروازہ جس کے ہٹتے ہی فتنوں کا سمندر موجیں مارنے لگے گا وہ میں ہی ہوں تو پوچھا کہ بتاؤ میری موت بستر پر ہوگی یا شہادت کی۔دروازے کھلنے سے مراد ہے طبعی موت اور توڑے جانے سے مراد ہے قتل کیا جانا،ایسے فصحاء بلغاء کے قربان۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع