دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

۱؎ صالح ابن درہم تابعی ہیں،قبیلہ باہلہ سے ہیں،آپ نے حضرت ابوہریرہ اور سمرہ ابن جندب سے روایات لیں،آپ نے شعبہ اور فسطان سے روایات لیں۔(اکمال،مرقات)

۲؎ ابلہ الف اور ب کے پیش لام کے شدسے،بصرہ کے پاس مشہور بستی ہے۔علماء کہتے ہیں کہ دنیا کے چار شہر زمین کی جنت ہیں: بصرہ کا ابلہ،دمشق کا غوطہ،سمر قند کا حفد اور بوان شہر کا شعب،یہ چاروں بستیاں بہت ہی سرسبز ہیں۔ہم نے دمشق کا غوطہ اور بصرہ کا ابلہ دیکھا ہے۔

۳؎  یعنی تم میں سے کوئی شخص مسجد عشار میں جو کہ ابلہ کی مشہور متبرک مسجد ہے دو چار رکعت نفل پڑھ کر مجھے اس لفظ سے ایصال ثواب کردے کہ الٰہی یہ نماز جو ہم نے پڑھی یہ ابوہریرہ کی طرف سے ہے اس کا ثوا ب انہیں ملے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ متبرک و مقدس مسجد میں نماز ادا کرنا دوسری نمازوں سے افضل ہے،مسجد نبوی کی ایک نیکی دوسری جگہ کی پچاس ہزار نیکیوں کے برابر ہے۔دوسرے یہ کہ نماز کا ثواب دوسرے کو بخش دینا درست ہے،ہاں کسی کی طرف سے نماز فرض نہیں پڑھی جاسکتی وہ تو خود ہی پڑھنا پڑے گی۔تیسرے یہ کہ کوئی نیکی کرکے کسی دوسرے کو اس طرح ثواب بخشنا کہ خدایا اس کا ثواب فلاں کو ملے بالکل جائز سنت صحابہ ہے لہذا فاتحہ مروجہ ختم شریف وغیرہ بالکل درست ہے،دیکھو حضرت ابوہریرہ ثواب بخشنے کے الفاظ بتارہے ہیں۔ چوتھے یہ کہ اپنے سے بڑے کو ثواب بخشنا جائز ہے اگرچہ وہ کیسی ہی شان کا مالک ہو،دیکھو جناب ابوہریرہ صحابی ہیں اور تابعین کو اپنے لیے ایصال ثواب کا حکم دے رہے ہیں۔ یہ حدیث بہت سے احکام کا ماخذ ہے،نیز زندہ کو زندہ کا ثواب بخش دینا جائز ہے۔

۴؎  یعنی آخر زمانہ میں ایک عظیم الشان جہاد ہوگا،اس جہاد کے غازی اس مسجد میں جمع ہو کر میدان میں جا کر شہید ہوں گے وہ کل قیامت میں شہداء بدر کے ساتھ کھڑے ہوں گے لہذا اس مسجد میں نماز پڑھنا بہت ہی افضل ہے۔ معلوم ہوا کہ اگرچہ ساری مسجدیں الله کا گھر ہیں مگر جس مسجد میں یا جس شہر میں الله کے مقبول بندے رہ چکے ہوں یا اب رہتے ہوں یا آئندہ رہنے والے ہوں وہ دوسری مسجدوں سے افضل ہے۔اس کی نسبت کی وجہ سے دیکھو وہ غازی شہداء قریب قیامت اس مسجد میں جمع ہوں گے مگر وہاں نماز آج ہی سے افضل ہے۔جن مقامات پر حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے قدم بھی رکھا ہے وہ مقام الله  کو محبوب ہے،حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سفیدہ زمین کا ادب کیا جہاں آئندہ مدینہ منورہ شہر آباد ہونے والا تھا۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

5435 -[25] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن شَقِيق عَن حُذَيْفَة قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ؟ فَقُلْتُ: أَنَا أَحْفَظُ كَمَا قَالَ: قَالَ: هَاتِ إِنَّكَ لِجَرِيءٌ وَكَيْفَ؟ قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ «فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ» فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْر. قَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا. قَالَ: فَيُكْسَرُ الْبَابُ أويفتح؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ يُكْسَرُ. قَالَ: ذَاكَ أَحْرَى أَنْ لَا يُغْلَقَ أَبَدًا. قَالَ: فَقُلْنَا لحذيفةَ: هَل كَانَ عمر يعلم مَنِ البابُ؟ قَالَ: نَعَمْ كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةٌ إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ قَالَ: فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنِ الْبَابُ؟ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْهُ. فَسَأَلَهُ فَقَالَ: عُمَرُ.

روایت ہے حضرت شقیق سے ۱؎  وہ جناب حذیفہ سے راوی فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر کے پاس تھے کہ آپ نے فرمایا تم سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی فتنہ کے متعلق حدیث کا حافظ کون ہے۲؎  میں نے عرض کیا میں حافظ ہوں جیسے حضور نے فرمایا ہے،فرمایا لاؤ تم بڑے بہادر ہو ۳؎  حضور نے کیسے فرمایا،میں نے کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ مرد کا فتنہ اس کے گھر میں اس کے مال میں اور اس کی ذات میں اور اس کی اولاد میں اور اس کے پڑوسی میں ہے جسے روزے نماز،خیرات اچھائیوں کا حکم برائیوں سے روکنا مٹاتے رہتے ہیں۴؎  تو حضرت عمر نے فرمایا میں یہ ارادہ نہیں کر رہا ہوں میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موج کی طرح اٹھے گا ۵؎  فرمایا میں نے کہا آپ کو اس سے کیا تعلق اے امیر المؤمنین آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے ۶؎ فرمایا تو دروازہ توڑا جاوے گا یا کھولا جاوے گا فرماتے ہیں میں نے کہا نہیں بلکہ توڑا جاوے گا۷؎ فرمایا یہ اس لائق ہے کہ پھر بند نہ کیا جاسکے ۸؎  راوی کہتے ہیں کہ ہم نے جناب حذیفہ سے کہا کیا حضرت عمر جانتے تھے کہ دروازہ کون ہے فرمایا ہاں جیسے یہ جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات ہے ۹؎ میں نے انہیں وہ حدیث سنائی جو معمہ نہیں ہے ۱۰؎ فرماتے ہیں کہ ہم کو اس سے ڈر لگا کہ حذیفہ سے پوچھیں کہ دروازہ کون ہے تو ہم نے مسروق سے کہا ان سے پوچھو انہوں نے پوچھا تو فرمایا عمر ہیں۔ (مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن