30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں بصرہ سے مراد بغداد ہے کیونکہ دجلہ کے کنارے پر بغداد واقع ہے نہ کہ بصرہ۔بصرہ دریائے شطُّ العرب کے کنارے پر ہے لہذا یہاں بصرہ کے معنی لغوی مراد ہیں یعنی بہت سے راستوں والا شہر۔
۴؎ یعنی بغداد مسلمانوں کا بہت بڑا شہر ہوگا،مصر بڑے شہر کو کہتے ہیں،اس سے چھوٹا مدینہ،اس سے چھوٹا بلدہ،اس سے چھوٹا قریہ۔(اشعہ) مگر جب یہ قریہ کے ساتھ کوئی علامت لگادی جائے عظیم وغیرہ تو بڑے شہر کو بھی قریہ کہہ دیتے ہیں۔
۵؎ قنطورا ان ترکوں کے مورث اعلٰی کا نام ہے،بعض لوگوں نے کہا کہ قنطورا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک لونڈی کا نام ہے جس کی اولاد سے وہ ترک ہوں گے مگر یہ درست نہیں کیونکہ وہ ترک یا فث ابن نوح علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور یافث حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بہت پہلے ہوئے۔بعض شارحین نے کہا کہ ممکن ہے قنطورا لونڈی یافث کی اولاد سے ہو یا اس کا نکاح کسی اولاد یافث سے بھی،اس طرح یہ دونوں قول جمع ہوجائیں گے ان میں اختلاف نہ رہے گا۔(مرقات)
۶؎ یعنی بصرہ یا بغداد کے مسلمانوں سے جنگ کرنے یہ ترک آئیں گے جن کی شکلیں ایسی ہوں گی۔ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ وہ ترک یاجوج ماجوج کا ایک قبیلہ ہے۔
۷؎ یعنی بصرہ یا بغداد کے مسلمان اس وقت تین حصوں میں بٹ جائیں گے: ایک حصہ تو ان کفار ترک کے مقابلہ کی تاب نہ لاکر اپنے مال مویشی لےکر جنگل کی طرف بھاگے گا اور وہاں کا باشندہ بن جائے گا تاکہ آرام سے بقیہ زندگی گزاریں جہاد نہ کرنا پڑے،یہ لوگ بزدل ہوکر ذلیل و خوار ہو جائیں گے اور بری موت مریں گے۔ھلکوا سے یہ ہی مراد ہے ذلت کی موت مرنا۔
۸؎ یعنی مسلمانوں کا دوسرا فرقہ ان سے ڈر کر ان سے امان لے لے گا،ان کی رعایا بن جاوے گا۔بعض شارحین نے کہا کہ یہ واقعہ ہوچکا کہ مستعصم بالله بادشاہ نے اپنے اور اپنے ماتحتوں کے لیے امان لے لی مگر یہ درست نہیں کہ مستعصم بالله بغداد کا باشندہ تھا۔ یہاں ذکر ہے بصرہ کا لہذا یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا اور وہ ترک کفار سے ہوں گے،یہ وہ واقعہ صفر ۶۵۶ ہجری میں گزر چکا۔(مرقات) یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا۔
۹؎ یعنی مسلمانوں کا یہ تیسرا حصہ کامل غازی اور اعلٰی درجہ کے شہید ہوں گے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ اس حصہ کا بڑا حصہ شہید ہو جاوے گا تھوڑا حصہ بچے گا۔
|
5433 -[23] وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا أَنَسُ إِنَّ النَّاسَ يمصِّرون أمصاراً فَإِن مِصْرًا مِنْهَا يُقَالُ لَهُ: الْبَصْرَةُ فَإِنْ أَنْتَ مَرَرْتَ بِهَا أَوْ دَخَلْتَهَا فَإِيَّاكَ وَسِبَاخَهَا وَكَلَأَهَا ونخيلها وَسُوقَهَا وَبَابَ أُمَرَائِهَا وَعَلَيْكَ بِضَوَاحِيهَا فَإِنَّهُ يَكُونُ بهَا خَسْفٌ وقذفٌ ورجْفٌ وقومٌ يبيتُونَ ويصبحون قردة وَخَنَازِير " رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا اے انس لوگ مختلف شہر آباد کریں گے ان میں ایک شہر ہے جسے بصرہ کہا جاوے گا ۱؎ تو اگر تم وہاں سے گزرو اس میں جاؤ وہاں کی کھاری زمین سے اور وہاں کے مقام کلاء سے۲؎ اور وہاں کے باغات بازار اور وہاں کے امیروں کے دروازوں سے بچنا ۳؎ اور مقام ضراخی کو اختیار کرنا۴؎ کیونکہ وہاں زمین دھنسنا پتھر برسنا زلزلے ہوں گے ۵؎ اور ایسی قوم ہوگی جو رات گزاریں گے اور سویرا پائیں گے بندر سؤر ہو کر۔(رواہ) |
۱؎ حضور انور کے زمانہ میں بصرہ شہر نہ تھا،اس کے شہر بن جانے کی اس حدیث میں خبر دی گئی۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق آج بصرہ بڑا شہر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع