30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5424 -[15] عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ وَفَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ خُرُوجُ الدَّجَّال» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ بیت المقدس کی آبادی ۱؎ مدینہ طیبہ کی ویرانی ہے۲؎ اور مدینہ کی ویرانی بڑی جنگ کا ظہور ہے۳؎ اور بڑی جنگ کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا نکلنا ہے ۴؎(ابوداؤد) |
۱؎ بعض شارحین نے کہا کہ قریب قیامت بیت المقدس ویران ہوجاوے گا کچھ عرصہ کے بعد آباد ہوگا۔مگر یہ درست نہیں بیت المقدس کبھی ویران نہ ہوگا بلکہ اس سے مراد بیت المقدس کی بہت آبادی ہے یعنی وہاں پانی کی فراوانی،شہریوں کی روانی،اعلٰی عمارتوں کی تعمیر یہ قریب قیامت ہوگی۔(مرقات)
۲؎ اب مدینہ منورہ کو یثرب کہنا منع ہے،یہ فرمان عالی ممانعت سے پہلے کا ہے۔یثرب بنا ہے ثرب سے بمعنی آفت و تکلیف،یثرب کے معنی ہیں آفتوں تکلیفوں کی جگہ،چونکہ مدینہ کی زمین وبائی امراض کا مرکز بلکہ سرچشمہ تھی اس لیے اسے یثرب کہتے تھے،حضور کی برکت سے وہ جگہ دارالشفاء بن گئی وہاں کی خاک شفاء ہوگئی لہذا اس کا نام اب طیبہ ہے۔بعض نے کہا کہ یثرب اس شخص کا نام ہے جس نے مدینہ بسایا تھا۔(اشعہ)مگر اس کی ابتداء ڈالنے والا تبع ہے جس کا واقعہ ہم نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔
۳؎ یہ بڑی جنگ وہ ہے جس کا ذکر ابھی ہوچکا کہ اس میں فی صد ایک آدمی بچے گا۔(مرقات و اشعہ)
۴؎ یعنی قسطنطنیہ کی فتح دجال نکلنے کی علامت ہوگی اس سے قریب ہی دجال نکلے گا یہ مطلب نہیں کہ اس کے متصل لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ فتح بیت المقدس پر شیطان پکارے گا کہ دجال نکل آیا مگر یہ خبر جھوٹی ہوگی۔
|
5425 -[16] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «الملحمة الْعُظْمَى وَفتح القسطنطينة وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ بڑی جنگ ۱؎ اور قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا نکلنا سات مہینوں میں ہوگا۲؎(ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ بعض روایات میں الملحمۃ الکبریٰ ہے،اس جنگ عظیم سے مراد غالبًا وہ ہی جنگ ہے جس میں سو آدمیوں میں سے ایک بچے گا نناونے ہلاک ہوجائیں گے۔
۲؎ یہ مدت مسلمانوں کے اس شہر کی طرف متوجہ ہونے کے لحاظ سے ہے اور سات ماہ کی یہ روایت بہت ضعیف ہے اس کے بعض راوی مجروح ہیں۔(اشعہ)
|
5426 -[17] وَعَن عبد الله بن بُسر أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ وَفَتْحِ الْمَدِينَةِ سِتُّ سِنِينَ وَيَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي السَّابِعَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: هَذَا أصح |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن بسر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ بڑی جنگ اور شہر کی فتح کے درمیان چھ سال کا فاصلہ ہے اور ساتویں سال دجال نکلے گا ۱؎ (ابوداؤد)اور فرمایا یہ صحیح ترین ہیں۔ |
۱؎ یہ حدیث پچھلی حدیث کے خلاف ہے جس میں سات ماہ کا ذکر ہے لہذا یا تو یہاں شہر سے مراد قسطنطنیہ کے علاوہ کوئی اور شہر ہے اور وہاں قسطنطنیہ شہر کی فتح کا ذکر تھا وہ حدیث مجروح ہے یہ حدیث صحیح اس لیے یہاں فرمایا کہ ھذا اصح یہ زیادہ صحیح ہے لہذا سات ماہ کی روایت صحیح نہیں۔(لمعات)مرقات نے فرمایا کہ اس جنگ سے کوئی اور جنگ مراد ہے اور یہاں دوسری جنگ مراد،اس گزشتہ جنگ سے سات ماہ بعد دجال نکلے گا اور اسی جنگ سے سات سال بعد لہذا دونوں حدیثیں درست ہیں۔
|
5427 -[18] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: يُوشِكُ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يُحَاصَرُوا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يَكُونَ أَبْعَدَ مَسَالِحِهِمْ سَلَاحٌ وَسَلَاحٌ: قَرِيبٌ مِنْ خَيْبَرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ قریب ہے مسلمان مدینہ منورہ کی طرف محصور کردیئے جاویں ۱؎ حتی کہ ان کی آخری سرحد مقام سلاح ہو اور سلاح خبیر سے قریب ہے ۲؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع