30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5423 -[14] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ سَمِعْتُمْ بِمَدِينَةٍ جَانِبٌ مِنْهَا فِي الْبَرِّ وَجَانِبٌ مِنْهَا فِي الْبَحْرِ؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَغْزُوَهَا سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ بني إِسحاق فَإِذا جاؤوها نَزَلُوا فَلَمْ يُقَاتِلُوا بِسِلَاحٍ وَلَمْ يَرْمُوا بِسَهْمٍ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَيَسْقُطُ أحدُ جانبيها.قالَ ثورُ بنُ يزِيد الرَّاوِي: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: " الَّذِي فِي الْبَحْر يَقُولُونَ الثَّانِيَةَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَيَسْقُطُ جَانِبُهَا الْآخَرُ ثُمَّ يَقُولُونَ الثَّالِثَةَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَيُفَرَّجُ لَهُم فيدخلونها فيغنمون فَبينا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْمَغَانِمَ إِذْ جَاءَهُمُ الصَّرِيخُ فَقَالَ:إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ فَيَتْرُكُونَ كُلَّ شَيْءٍ ويرجعون".رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تم نے وہ شہر سنا ہے جس کا ایک کنارہ خشکی میں ہے اور اس کا دوسرا کنارا دریار میں ۱؎ لوگوں نے عرض کیا ہاں یا رسول الله فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ اس پر اولاد اسحاق کے ستر ہزار غازی غزوہ کریں گے۲؎ تو جب وہاں پہنچیں گے تو اتریں گے تو نہ تو ہتھیاروں سے جنگ کریں گے نہ کوئی تیر پھینکیں گے،کہیں گے لا الہ الا الله و الله اکبر تو اس کا ایک کنارہ گر جاوے گا۳؎ ثور ابن یزید راوی کہتے ہیں۴؎ کہ میں نہیں جانتا اس کے سوا کہ فرمایا وہ کنارہ جو دریا میں ہے ۵؎ پھر وہ دوبارہ کہیں گے لا الہ الا الله و الله اکبر تو ان کے لیے کھول دیا جاوے گا ۶؎ چنانچہ یہ لوگ غنیمت لیں گے جب وہ غنیمتیں تقسیم کررہے ہوں گے ۷؎ تو اچانک ان تک ایک چیخ آئے گی کوئی کہے گا کہ دجال نکل آیا تو وہ ہر چیز چھوڑ دیں گے اور لوٹ جائیں گے ۸؎(مسلم) |
۱؎ یہ تو تمام شارحین کہتے ہیں کہ یہ شہر ملک روم میں ہے،اس میں گفتگو ہے کہ کون سا شہر ہے۔بعض نے فرمایا کہ وہ قسطنطنیہ ہے مگر یہ قوی نہیں کیونکہ قسطنطنیہ تو بڑی جنگ سے فتح ہوگا نہ کہ اس طرح۔ بعض نے فرمایا کہ وہ شہر رومیہ ہے یعنی سلطان روم کا پایہ تخت۔بعض نے فرمایا کہ وہ بور نطیا بستی ہے جس کی دیوار اکیس ہاتھ اونچی ہے،اس کا گرجا بہت لمبا ہے،اس کے بیچ میں تانبے کے گھوڑے کا مجسمہ ہے جس پر سوار کا مجسمہ ہے،اس سوار کے ہاتھ سونے کا گولہ ہے،یہ قسطنطین کا مجسمہ ہے۔قسطنطین وہ شخص ہے جس نے شہر قسطنطنیہ آباد کیا،بعض نے فرمایا کہ وہ کوئی اور شہر ہے جس کا نام معلوم نہ ہوسکا یہ ہی درست ہے۔و الله اعلم!(مرقات)
۲؎ یہ لوگ ملک شام کے کرد قوم کے ہوں گے جو بنی اسرائیل ہیں مگر مسلمان ہیں جیسے حضرت عبدالله ابن سلام کہ اسرائیلی ہیں اور مؤمن بلکہ حضور کے صحابی ہیں۔
۳؎ یعنی ان غازیوں کے نعرہ تکبیر سے اس شہر میں زلزلہ آجاوے گا جس سے اس کا یہ کنارہ گر جاوے گا۔معلوم ہوا کہ جہاد کے وقت نعرہ تکبیر لگانا درست بھی ہے مفید بھی۔
۴؎ ثور ابن یزید تابعی ہیں،ان کی کنیت ابو خالد ہے،حمص کے رہنے والے ہیں،حافظ ہیں،ثقہ ہیں مگر قدریہ ہوگئے تھے، ۱۵۵ھ میں وفات ہوئی۔
۵؎ یعنی پہلے نعرہ پر دریا کے جانب والا کنارہ گرے گا بعد والی تکبیروں سے دوسرے کنارے گریں گے۔
۶؎ حدیث بالکل ظاہر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں،واقعی یہ شہر صرف نعرہ تکبیر سے فتح ہوگا،الله کا ذکر جب مشکل کشاہ ہے تو اس وقت شہر کتنا بھی ہوگا مگر انہیں کی زبان پر فتح ہوگا۔
۷؎ چونکہ یہ شہر صلح سے فتح نہ ہوگا بلکہ طاقت سے فتح ہوگا اس لیے وہاں کے مال غنیمت ہوں گے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۸؎ اپنے وطن لوٹ جائیں گے دجال کا مقابلہ اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ہوگا،غنیمتیں یہاں ہی چھو ڑدیں گے، غنیمتیں اپنے ساتھ نہ لے جائیں گے تاکہ ہلکے ہلکے ہوکر جلدی واپس پہنچیں۔
|
5424 -[15] عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ وَفَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ خُرُوجُ الدَّجَّال» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ بیت المقدس کی آبادی ۱؎ مدینہ طیبہ کی ویرانی ہے۲؎ اور مدینہ کی ویرانی بڑی جنگ کا ظہور ہے۳؎ اور بڑی جنگ کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا نکلنا ہے ۴؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع