30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۲؎ پرندہ سے مراد عام چڑیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس سے کوا مراد ہو یہ فرمان عالی ان لاشوں کی زیادتی بتانے کے لیے ہے خواہ پرندہ اڑے یا نہ اڑے۔
۱۳؎ یا تو لاشوں کی بدبو سے مریں گے یا ان کی زیادتی کی وجہ سے کہ اتنی دور تک لاشیں پڑی ہوں گی کہ اس کا فاصلہ پرندہ طے نہ کرسکے گا اڑتے اڑتے مرجاوے گا مگر فاصلہ طے نہ ہوگا،یہ آخری احتمال قوی ہے شاعر کہتا ہے۔شعر
لایبلغ السمك المحصور غایتھا لبعد مابین قاصیھا ودانیھا
۱۴؎ وہ تو کفار مقتولین کا حال تھا اب مسلمان شہداء کی تعداد سنو کہ یہ بقیہ غازی اپنے بچے کھچوں کو شمار کریں گے تو حالت یہ ہوگی کہ جس قبیلہ کے سو آدمی جہاد میں آئے تھے ان میں سے ایک بچا ہوگا ننانوے شہید ہوچکے ہوں گے یعنی ایک فی صد بچے گا۔الله کی پناہ!
۱۵؎ وہ جو پہلے ارشاد ہوا تھا کہ غنیمت تقسیم نہ کی جاوے میراث نہ بٹے گی اس کی وجہ یہ ارشاد ہوئی یعنی جب سو میں ایک بچا تو وہ کس کس کی میراث لے اور کیا غنیمت تقسیم کرے لہذا یہ ہی احتمال قوی ہے کہ زیادہ مردوں کی وجہ سے یہ کام ہوگا۔
۱۶؎ یہ خبر درست ہوگی واقعی دجال نمودار ہوچکا ہوگا پہلی بار جو خبر اڑی تھی وہ غلط تھی جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔
۱۷؎ اپنے بال بچوں کو دجال سے بچانے کے لیے نہ کہ دجال سے جنگ کرنے کے لیے کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے پہلے تو اس سے جنگ ہوگی ہی نہیں اور جناب مسیح کی تشریف آوری پر وہ قتل ہوگا جنگ جب بھی نہ ہوگی۔
۱۸؎ طلیعہ بنا ہے طلع سے بمعنی خبر اسی سے ہے اطلاع یعنی خبر دینا یا خبر پانا۔طلیعہ واحد کے لیے بھی آتا ہے جمع کے لیے بھی یعنی مسلمان دس سواریوں کو دجال کی خبر کی تحقیقات کے لیے بھیجیں گے کہ واقعی وہ نکلا ہے یا پہلے کی طرح یہ خبر بھی غلط ہے اگر نکلا ہے تو کہاں ہے کیا کر رہا ہے۔
۱۹؎ یہ فرمان عالی ان دس حضرات کی عزت افزائی کے لیے ہے ورنہ حضور صلی الله علیہ و سلم ساری مخلوق کے نام کا م ان کی حرکات سکنات جانتے ہیں۔کیوں نہ جانیں کہ حضور سب کے گواہ اور نگران ہیں،رب فرماتاہے:"وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا"خود فرمایا لایخفی علی رکوعکم ولا سجودکم ولاخشوعکم(تاقیامت کے)مجھ پر تمہارے رکوع سجدے دل کا خشوع خضوع پوشیدہ نہیں،میں تم سب کے ظاہری اعمال دل کے احوال جانتا ہوں۔یہ ہے حضور انور کا غیب کلی صلی الله علیہ و سلم،حضور ان سب کو ملاحظہ فرمارہے ہیں۔
۲۰؎ روئے زمین فرماکر فرشتوں کو علیحدہ فرمادیا اور اس دن فرما کر حضرات صحابہ عشرہ مبشرہ وغیرہم کو علیحدہ فرمادیا یعنی اس زمانہ کے موجود مسلمانوں میں سب سے بہتر و افضل یہ لوگ ہوں گے۔
|
5423 -[14] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ سَمِعْتُمْ بِمَدِينَةٍ جَانِبٌ مِنْهَا فِي الْبَرِّ وَجَانِبٌ مِنْهَا فِي الْبَحْرِ؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَغْزُوَهَا سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ بني إِسحاق فَإِذا جاؤوها نَزَلُوا فَلَمْ يُقَاتِلُوا بِسِلَاحٍ وَلَمْ يَرْمُوا بِسَهْمٍ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَيَسْقُطُ أحدُ جانبيها.قالَ ثورُ بنُ يزِيد الرَّاوِي: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: " الَّذِي فِي الْبَحْر يَقُولُونَ الثَّانِيَةَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَيَسْقُطُ جَانِبُهَا الْآخَرُ ثُمَّ يَقُولُونَ الثَّالِثَةَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَيُفَرَّجُ لَهُم فيدخلونها فيغنمون فَبينا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْمَغَانِمَ إِذْ جَاءَهُمُ الصَّرِيخُ فَقَالَ:إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ فَيَتْرُكُونَ كُلَّ شَيْءٍ ويرجعون".رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تم نے وہ شہر سنا ہے جس کا ایک کنارہ خشکی میں ہے اور اس کا دوسرا کنارا دریار میں ۱؎ لوگوں نے عرض کیا ہاں یا رسول الله فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ اس پر اولاد اسحاق کے ستر ہزار غازی غزوہ کریں گے۲؎ تو جب وہاں پہنچیں گے تو اتریں گے تو نہ تو ہتھیاروں سے جنگ کریں گے نہ کوئی تیر پھینکیں گے،کہیں گے لا الہ الا الله و الله اکبر تو اس کا ایک کنارہ گر جاوے گا۳؎ ثور ابن یزید راوی کہتے ہیں۴؎ کہ میں نہیں جانتا اس کے سوا کہ فرمایا وہ کنارہ جو دریا میں ہے ۵؎ پھر وہ دوبارہ کہیں گے لا الہ الا الله و الله اکبر تو ان کے لیے کھول دیا جاوے گا ۶؎ چنانچہ یہ لوگ غنیمت لیں گے جب وہ غنیمتیں تقسیم کررہے ہوں گے ۷؎ تو اچانک ان تک ایک چیخ آئے گی کوئی کہے گا کہ دجال نکل آیا تو وہ ہر چیز چھوڑ دیں گے اور لوٹ جائیں گے ۸؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع