30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5419 -[10] وَعَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّال فيفتحه الله» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت نافع ابن عتبہ سے فرماتے ہیں ۱؎ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ تم لوگ جزیرہ عرب پر جہادکرو گے تو الله اسے فتح فرمادے گا ۲؎ تو پھرفارس پر تو الله وہ بھی فتح کردے گا پھر تم روم پر غزوہ کرو گے تو الله وہ بھی فتح کردے گا۳؎ پھر تم دجال پر جہاد کرو گے تو الله وہ بھی فتح کردے گا ۴؎(مسلم) |
۱؎ نافع ابن عتبہ ابن ابی وقاص زہری ہیں،حضرت سعد ابن ابی وقاص کے بھتیجے فتح مکہ کے دن ایمان لائے،آپ کا لقب مرقال تھا۔
۲؎ یعنی عرب کا کچھ حصہ ہم فتح فرمالیں گے بقیہ حضرات صحابہ فتح کریں گے حتی کہ جزیرہ عرب میں سواء اسلام کے کوئی دین نہ رہے گا یہ واقعہ ہوچکا۔
۳؎ یہ دونوں ملک عہد فاروقی میں فتح ہوئے اور آج تک مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں فارس تو سارا اور روم کا اکثر حصہ۔
۴؎ اس فرمان عالی میں خطاب صحابہ کرام سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے ہے کیونکہ دجال کا مقابلہ حضرات صحابہ نہیں کریں گے۔ہوسکتا ہے کہ خطاب صحابہ کرام سے ہی ہو کیونکہ خضر علیہ السلام اس مقابلہ میں موجود ہوں گے۔صلح حدیبیہ میں حضرت خضر نے حضور سے بیعت کی ہے جیساکہ ہم بیعت الرضوان کے بیان میں عرض کرچکے ہیں،بلکہ بعض محدثین فرماتے ہیں کہ وہ مدنی صاحب جنہیں ایک دجال ذبح کرکے زندہ کرے گا پھر نہ مار سکے گا وہ خضر علیہ السلام ہی ہوں گے یعنی تم دجال پر جہاد کرو گے جن علاقوں پر اس نے قبضہ کرلیا ہوگا تم دجال کو قتل کرکے ان پر قبضہ کرو گے لہذا حدیث واضح ہے۔
|
5420 -[11] وَعَن عَوْف بن مَالك قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَقَالَ: " اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ: مَوْتِي ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ مُوتَانٌ يَأْخُذُ فِيكُمْ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا يَبْقَى بَيْتٌ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا دَخَلَتْهُ ثُمَّ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَغْدِرُونَ فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا ". رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب حضور چمڑے کے خیمہ میں تھے ۲؎ تو فرمایا کہ قیامت سے پہلے چھ چیزیں گن لو: میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح،پھر عام موت جو تم میں بکریوں کی وبا کی طرح پھیلے گی۳؎ پھر مال کا بہہ جانا حتی کہ ایک شخص کو سو دینار دیئے جائیں گے پھر بھی وہ ناراض رہے ۴؎ پھر وہ فتنہ کہ عرب کا کوئی گھر نہ رہے مگر وہ اس میں داخل ہوجائے گا پھر وہ صلح جو تمہارے اور رومیوں کے درمیان ہوگی پھر وہ عہد شکنی کریں گے ۵؎ تو تمہارے مقابل اسی جھنڈوں تلے آئیں گے ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار ہوں گے ۶؎(بخاری) |
۱؎ آپ اشجعی ہیں،مشہور صحابی ہیں،غزوہ خیبر اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک ہوئے،فتح مکہ کے دن قبیلہ بنی اشجع کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں تھا،آخر میں شام میں رہے، ۷۳ھ تہتر میں وفات پائی۔
۲؎ تبوک خیبر سے پانچ سو میل کیلومیٹر ہے۔حق یہ ہے کہ یہ شام کے علاقہ میں ہے تبوک کے بعد مان ہے اور مان کے بعد عمان پھر عمان سے قریبًا ایک سو کیلو میٹر بیت المقدس ہے۔کیلومیٹر پانچ فرلانگ کا ہوتا ہے یعنی ہمارے میل سے تین فرلانگ چھوٹا۔
۳؎ قعاص قاف کے پیش سے بکریوں کی وبائی بیماری جس سے بکری بہت جلدی مرجاتی ہے،یہ واقعہ بھی عہد فاروقی میں ہوچکا کہ لشکر اسلام بیت المقدس کے قریب عمواس بستی میں تھا وہاں طاعون پھیلا جس سے تین دن میں ستر ہزار آدمی فوت ہوگئے،اس وبا کا نام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع