30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5417 -[8] وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَنْزَ آلِ كِسْرَى الَّذِي فِي الْأَبْيَض» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ مسلمانوں کی ایک جماعت کسریٰ کا ۱؎ خزانہ کھولے گی جو کہ مقام ابیض میں ہے ۲؎(مسلم) |
۱؎ اس فرمان عالی میں لفظ آل زیادہ ہے،کسری شاہ فارس کا لقب تھا جو خسرو سے بنا تھا جیسے قیصر شاہ روم کا اور خاقان شاہ چین کا اور فرعون یا عزیز شاہ مصر کا اور نجاشی شاہ حبشہ کا لقب تھا۔
۲؎ یہ واقعہ حضرت عمر رضی الله عنہ کی خلافت میں ہوچکا۔ابیض اس قلعہ کا نام ہے جس میں کسریٰ کا خزانہ محفوظ تھا،یہ قلعہ اس زمانہ کے عجائبات میں سے تھا اب اس جگہ مسجد بنی ہوئی ہے جسے مسجد مدائن کہتے ہیں۔(اشعہ)نیز ابیض یمامہ کے ایک شہر کا نام بھی ہے یہاں پہلے معنی مراد ہیں۔(اشعہ)ابیض کسریٰ کو خلیفہ مکتفی بالله نے ویران کردیا۔
|
5418 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلَكَ كِسْرَى فَلَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ وَقَيْصَرُ لِيَهْلِكَنَّ ثُمَّ لَا يَكُونُ قَيْصَرُ بَعْدَهُ وَلَتُقْسَمَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ» وَسَمَّى «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» . |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ کسریٰ ہلاک ہوگیا تو اس کے بعد کسریٰ نہ ہوگا ۱؎ اور قیصر ہلاک ہوگا تو پھر اس کے بعد قیصر نہ ہوگا۲؎ اور ان کے خزانے الله کی راہ میں خرچ کیے جائیں گے۳؎ حضور نے جنگ کا نام دھوکا رکھا ۴؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی ملک ایران جب مسلمان فتح کرلیں گے تو وہ ملک پھرکسی کافر کے پاس نہ پہنچے گا مسلمانوں ہی کے پاس رہے گا۔یہ غیبی خبر ہے چنانچہ ملک ایران عہد فاروقی میں فتح ہوا اور خدا کا فضل ہے کہ اب تک مسلمانوں ہی کے پاس ہے رب تعالٰی مسلمانوں ہی کے پاس رکھے۔
۲؎ چونکہ فتح فارس پہلے ہوئی،فتح روم بعد میں اس لیے فارس کے متعلق ھلك ماضی ارشاد ہوا اور فتح روم بعد میں اس لیے اس کے متعلق لیھلکن مضا رع مع تاکید ارشاد ہوا یہ دونو ں علاقے عہد فاروقی میں فتح ہوئے اور اس کے متعلق خبر دی گئی کہ فتح روم کے بعد یا تو وہ کفار کے پاس پہنچے گا ہی نہیں یا پہنچے گا تو موجودہ قیصر کی اولاد سے کوئی وہاں کا بادشاہ نہ بنے گا یا اس بادشاہ کا لقب قیصر نہ ہوگا بہرحال حضور سچے حضور کی ساری خبریں سچی ہیں۔
۳؎ یعنی ان ملکوں کے خزانے مسلمان فتح کرکے جہادوں اور اسلام کی اشاعت میں خرچ کریں گے یہ زمانہ فاروقی میں ہوچکا۔
۴؎ یہاں خدعہ بمعنی فریب وجھوٹ نہیں بلکہ بمعنی جنگی چال جنگی تدبیر ہے جس سے دشمن جلد ہتھیار ڈال دے، جنگ میں شمشیر سے زیادہ تدبیر کام آتی ہے،تدبیر سے خونریزی کم ہوتی ہے فتح جلد،مسلمانوں کو تدبیر و شمشیر دونوں سے کام لینا چاہیے۔جنگی تدبیروں کی مثالیں حضور صلی الله علیہ و سلم اور صحابہ کرام کے جہادوں میں ملتی ہیں،حضور جب مغرب میں حملہ کرنا چاہتے تو مشرق کے حالات پوچھتے تاکہ کفار کے جاسوس مغرب والوں کو مطمئن کردیں مشرق والوں کو تیار کردیں اچانک مغرب کی طرف حملہ فرمادیتے،حضرات صحابہ نے بعض جنگوں میں اپنی فوجیں پیچھے ہٹالیں، کفارسمجھیں مسلمان بھاگ گئے اور رات کو اچانک حملہ کردیا،تھوڑی فوج سے چو طرفہ سے اس طرح حملہ کردیا کہ کفارسمجھے کہ مسلمان لاکھوں کی تعداد میں آن پڑے اور انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے مسلمانوں نے فتح پالی،اﷲ تعالٰی پاکستان کو قائم دائم رکھے۔
|
5419 -[10] وَعَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّال فيفتحه الله» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت نافع ابن عتبہ سے فرماتے ہیں ۱؎ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ تم لوگ جزیرہ عرب پر جہادکرو گے تو الله اسے فتح فرمادے گا ۲؎ تو پھرفارس پر تو الله وہ بھی فتح کردے گا پھر تم روم پر غزوہ کرو گے تو الله وہ بھی فتح کردے گا۳؎ پھر تم دجال پر جہاد کرو گے تو الله وہ بھی فتح کردے گا ۴؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع