30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسلام قوی رہے گا تیس سال خلفاء راشدین کی خلافت کا زمانہ باقی زائد حال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی حیات شریف کی باقی سال اور یہ کلام تقریبًا ہو۔(اشعہ)
۲؎ یعنی اگر مسلمان اس مذکورہ زمانہ میں ہلاک ہوجائیں کہ اپنے کو درست نہ کرسکیں تو ان کا راستہ وہ ہی ہوگا جو گزشتہ ہلاک شدہ قوموں کا ہوا کہ عذاب الٰہی کے مستحق ہوں گے۔
۳؎ یعنی اگر اس مذکورہ مدت میں یہ لوگ سیدھے رہے یا سیدھے ہوگئے تو ان کی سلطنت اور حکومت اسلامیہ ستر سال تک قائم رہے اس کا ظہور ہوچکا،اس طرح کہ خلافت راشدہ کا دور یعنی تیس سال ختم ہونے کے بعد حکومت بنی امیہ میں پہنچی،پھر ستر سال کے بعد بنی امیہ سے منتقل ہوکر بنی عباس میں پہنچی اور مسلمانوں میں بہت ضعف پیدا ہوگیا۔
۴؎ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم یہ ستر سال جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے ان کی ابتداء اس مذکورہ مدت بتیس چھتیس سینتیس سال کے بعد شروع ہوگی یا مع ان کے،فرمایا مع ان کے،اس فرمان عالی کے اور بہت مطلب بیان کیے گئے ہیں۔خیال رہے کہ بنی امیہ کی سلطنت امیر معاویہ سے شروع ہوئی اورمروان ابن محمد پر ختم ہوئی،یہ کل مدت نواسی۸۹ سال ہے لہذا مطلب یہ ہے کہ اس مدت میں ستر سال سلطنت اسلامیہ کا غلبہ رہے گا،ستر برس کے بعد بنی امیہ کی سلطنت میں ضعف شروع ہوجاوے گا حتی کہ انیس برس بعد ان سے سلطنت منتقل ہوجاوے گی۔
|
5408 -[30] عَن أبي واقدٍ اللَّيْثِيّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ إِلَى غَزْوَةِ حُنَيْنٍ مَرَّ بِشَجَرَةٍ لِلْمُشْرِكِينَ كَانُوا يُعَلِّقُونَ عَلَيْهَا أَسْلِحَتَهُمْ يُقَالُ لَهَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ هَذَا كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى (اجْعَل لنا إِلَهًا كَمَا لَهُم آلهةٌ)وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قبلكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابو واقد لیثی سے ۱؎ کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم جب غزوہ حنین کی طرف تشریف لے گئے ۲؎ تو مشرکوں کے ایک درخت پرگزرے جس پر وہ اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے اسے ذات انواط کہا جاتا تھا۳؎ تو لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہمارے لیے بھی کوئی ذات انواط مقرر فرمادیجئے۴؎ جیسے ان کا ذات انواط ہے تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا سبحان اﷲ۵؎ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا کہ ہمارے لیے کوئی معبود مقرر کردو جیسے ان کے معبود ہیں ۶؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم لوگ اپنے سے پہلے والوں کی راہ چلو گے ۷؎(ترمذی) |
۱؎ آپ کا نام حارث ابن عوف ہے،قدیم الاسلام ہیں،غزوہ بدر میں شریک ہوئے،وفات سے ایک سال پہلے مکہ معظمہ میں مقیم ہوگئے وہاں ہی وفات پائی،مقام طبح میں دفن ہوئے۔(مرقات)
۲؎ حنین ایک وسیع میدان ہے جو مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ہے۔یہ غزوہ فتح مکہ کے بعد ہوا،اس غزوہ میں بہت سے نو مسلم شریک تھے جو فتح مکہ میں ایمان لائے تھے ابھی ان کے دلوں میں ایمان پختہ نہ ہوا اور اسلام سے پورے واقف نہ تھے اس لیے اگلا واقعہ پیش آیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع