30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اسی حدیث کا ظہور ہورہا ہے۔شہادت عثمان غنی سے مسلمانوں میں آپس میں قتل و خون شروع ہوا ہے آج تک ہو رہا ہے،ہمیشہ کہیں نہ کہیں مسلمان آپس میں لڑتے ہی رہتے ہیں ان کا قتل و خون بند نہیں ہوتا۔
۲؎ یہ واقعہ بھی ہوچکا بلکہ ہوتا رہتا ہے۔ہم نے اپنی زندگی میں آگرہ کے ضلع میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں مرتد ہوتے دیکھ لیے جسے شدھی کا فتنہ کہا جاتا ہے۔
۳؎ اس کی صورت یہ ہے کہ بعض لوگ اپنے کو مسلمان سمجھتے ہوئے بت پرستی کریں گے لہذا یہ جملہ مکرر نہیں۔ہم نے دیکھا کہ بعض لوگ اپنے پیروں کے فوٹووں کو سجدہ کرتے ہیں،انہیں چومتے،انہیں سجا کر رکھتے ہیں یہ ہے اس حدیث کا ظہور پیروں کے ان فوٹووں کو وہ لوگ کہتے ہیں مرقع شریف،یہ ان کا خاص لفظ ہے،بعض کلمہ گو تعزیہ کو سجدہ کرتے دیکھے گئے،قبروں کو تو بہت لوگ سجدے کرتے ہیں،بعض زندہ پیروں کو سجدے کرتے ہیں،یہ ہے بت پرستی۔نعوذ بالله !
۴؎ یہ تیس جھوٹے نبی وہ ہیں جنہیں لوگوں نے نبی مان لیا اور ان کا فساد پھیل گیا،دوسرے قسم کے مدعی نبوت جنہیں کسی نے نہ مانا وہ بکواس کرکے مر گئے وہ تو بہت ہیں۔دیکھو ہمارے ملک میں مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کا فتنہ بہت پھیلا اس کے علاوہ ہم نے بہت سے مدعی نبوت دیکھے جن کی طرف کسی نے توجہ ہی نہ دی اپنے کو نبی کہتے کہتے مرگئے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اب تک جھوٹے مدعی نبوت سو۱۰۰ سے زیادہ ہوچکے۔
۵؎ معلوم ہوا کہ خاتم النبیین کے معنی ہیں آخری نبی کہ اس کے زمانہ میں اور اس کے بعد کوئی نبی نہ بنے۔اس معنی پر امت کا اجتماع ہے جو کہے اس کے معنی آخری نبی نہیں بلکہ اصلی نبی ہیں وہ کافر ہیں کہ وہ قرآنی آیت کے متواتر اجماعی معنی کا انکار کرتا ہے۔
۶؎ اس فرمان عالی میں دو غیبی خبریں ہیں: ایک یہ کہ دوسری امتوں کی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری امت گمراہ نہ ہوگی تاقیامت اس میں ایک جماعت سب پر غالب رہے گی کہ دینی غلبہ ہمیشہ اسی کو حاصل رہے۔الحمد للہ اہلسنت و الجماعت سب فرقوں پر غالب ہیں۔ خیال رہے کہ حنفی،شافعی،مالکی،حنبلی،یوں ہی قادری،چشتی،نقشبندی،سہروردی ایک ہی جماعت ہے یعنی اہلسنت والجماعت آج ایک نہیں عالم سوجو بے دین عالموں پر غالب رہتا ہے یہ ہے اس حدیث کا ظہور۔
۷؎ الله کے حکم سے مراد حضرت عیسیٰ و امام مہدی کا ظہور ہے جب اسلام کا پورا غلبہ ہوگا۔
|
5407 -[29] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ لِخَمْسٍ وَثَلَاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ فَإِنْ يَهْلِكُوا فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا» . قُلْتُ: أَمِمَّا بَقِيَ أَوْ مِمَّا مَضَى؟ قَالَ: «مِمَّا مضى» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا ۱؎ کہ اسلام کی چکی پینتیس یا چھتیس یا سینتیس تک گھومتی رہے گی تو اگر وہ ہلاک ہوگئے تو ہلاک ہونے والوں کا راستہ ہلاک شدگان ہے۲؎ اور اگر قائم رہا تو ان کا دین قائم رہے گا۳؎ ستر سال میں نے کہا کہ کیا یہ حساب اگلے باقی زمانہ سے یا گذشتہ فرمایا گزشتہ سے۴؎(ابوداؤد) |
۱؎ اس فرمان عالی کے بہت مطلب ہوسکتے ہیں: ظاہر یہ ہے کہ اس میں تین فتنوں کی طرف اشارہ ہے پہلا فتنہ شہادت عثمان غنی جو ۳۵ھ میں ہوا،دوسرا فتنہ جنگ جمل جو ۳۶ھ میں ہوا،تیسرا فتنہ جنگ صفین جو ۳۷ھ میں ہوا۔معنی یہ ہیں کہ اسلام میں فتنے گردش کریں گے ان سالوں میں اور ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان عالی اپنی وفات شریف کے قریب فرمایا ہو کہ اب سے اتنے عرصہ تک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع