30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی شہادت سے شروع ہوئیں اورجنگ جمل و صفین و معرکہ کربلا کی شکل میں ظاہر ہوئی ہیں تب یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جسے حق وباطل کا پتہ نہ لگے وہ اس میں قتال سے بچے۔ (از مرقات) اسی لیے جنگ جمل وصفین میں حضرت صحابہ کرام کے تین گروہ ہوگئے: بعض حضرات علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے،بعض ان کے مقابل،بعض حضرات غیر جانب دار۔یہ وہ ہی حضرات تھے جنہیں پتہ نہ لگا کہ حق پر کون ہے لہذا تینوں جماعتیں الله کی مقبول ہیں۔
|
5405 -[27] وَعَن الْمِقْدَاد بن الْأسود قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ وَ لَمَنِ ابْتُلِيَ فَصَبَرَ فَوَاهًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت مقداد ابن اسود سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے محفوظ رہے،نیک بخت ہے وہ جو فتنوں سے محفوظ رہے،نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے محفوظ رہے ۲؎ اورجو مبتلا ہو جاوے تو صبرکرے تو اچھا ہے ۳؎ (ابوداؤد) |
۱؎ آپ کا نام مقداد ابن عمرو کندی ہے کیونکہ آپ کے والد نے قبیلہ بنی کندہ سے معاہدہ کیا تھا،ایک شخص تھا اسود اس نے آپ کی پرورش کی اس لیے آپ ابن اسود کہلائے،قدیم الاسلام صحابی ہیں حتی کہ آپ چھٹے مؤمن ہیں۔
۲؎ حضور انور نے یہ کلام تین بار فرمایا مبالغہ کے لیے یعنی جسے الله تعالٰی فتنوں سے بچائے رکھے وہ بڑا ہی خوش نصیب ہے اس طرح کہ اس کی زندگی میں کوئی فتنہ پھیلے ہی نہیں۔
۳؎ فواھا اظہار حیرت کے لیے بھی آتا ہے بمعنی افسوس اور اظہار خوشی کے لیے بھی بمعنی خوب یہاں دونوں معنی ہوسکتے ہیں یعنی جو فتنہ میں پھنس گیا مگر صابر رہا اس پر افسوس ہے کہ وہ مصیبت میں مر گیا یا فتنہ میں پھنس کر صابر رہا تو بہت خوب ہے۔واھا پوشیدہ فعل کی وجہ سے منصوب ہوا،بعض شارحین نے فرمایا کہ لمن ابتلی میں لام مکسور ہے پھر اس کا مطلب ہی کچھ اور ہوگا،مرقات نے فرمایا کہ واھا اسماء اصوات میں سے ہے تعجب کے لیے بولا جاتا ہے۔
|
5406 -[28] وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ وَحَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الْأَوْثَانَ وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيين لَا نَبِيَّ بِعْدِي وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب میری امت میں تلوار رکھ دی جاوے تو قیامت کے دن تک اس سے نہ اٹھے گی ۱؎ اور قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں گے ۲؎ اور حتی کہ میری امت کے کچھ قبیلے بت پرستی کریں گے ۳؎ اور میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے وہ سب گمان کریں گے کہ وہ الله کے نبی ہیں ۴؎ حالانکہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ۵؎ اور میری امت کا ایک گروہ حق پر رہے گا سب پر غالب ان کا مخالف انہیں نقصان نہ پہنچاسکے گا ۶؎ حتی کہ اﷲ کا حکم آجاوے ۷؎(ابوداؤد،ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع