30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ دخن کے لفظی معنی ہیں دھواں،یہاں مراد فتنہ کی ابتداء ہے اس کا فساد ہے کہ دھواں آگ کی ابتداء ہوتا ہے ایسے ہی یہ اس فتنہ کی ابتداء ہوگی۔
۶؎ یعنی اس فتنہ کی ابتداء ایک شخص سے ہوگی جو اولاد فاطمہ سے ہوگا یعنی سید ہوگا یا حاکم ہوگا یا حکومت کا طلبگار اپنے خاص نفعے کے لیے لوگوں کو مصیبت میں ڈال دے گا ،چونکہ لوگ سید ہونے کی وجہ سے اس کا ادب واحترام کرتے ہوں گے اس لیے وہ اپنے اس دینی احترام سے غلط فائدہ اٹھاکر یہ فتنہ پھیلائے گا۔
۷؎ یعنی وہ شخص اپنی ان حرکتوں کے باوجود اپنے کو سید ہی کہے گا اور سمجھے گا کہ میں حضور صلی الله علیہ و سلم کا پیارا ہوں کیونکہ ان کی اولاد سے ہوں۔یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا ابھی واقع نہیں ہوا۔خوارج اس حدیث کو حضرت علی رضی الله عنہ پرچسپاں کرتے ہیں کہ حضرت علی کی خلافت میں یہ فتنہ واقع ہوچکا مگر یہ ان کی اہل بیت دشمنی ہے ان سرکار کو اس سے کوئی تعلق نہیں،اگلے واقعات بھی جو یہاں مذکور ہیں اس کے خلاف ہیں۔
۸؎ ورك واؤ کے فتحہ ر کے کسرہ سے بمعنی چوتڑ(سیرین)۔ضلع ض کے کسرہ لام کے فتحہ سے پسلی کی ہڈی یعنی جیسے چوتڑ کی گندگی اگر پسلی کی ہڈی پر ہو تو ٹھہرتا نہیں کمزور ہوتا ہے ایسے ہی اس بادشاہ کی حکومت قائم نہ ہوگی بہت کمزور ہوگی۔خلاصہ یہ ہے کہ لوگ اس فتنے سے بچنے کے لیے ایسے شخص کو اپنا بادشاہ مقرر کردیں گے جس کی بادشاہت میں قوت نہ ہوگی،امیر المؤمنین علی رضی الله عنہ کی حکومت میں یہ کب ہوا۔
۹؎ دھیما مؤنث ہے دھیم سے جس کا مادم دھم ہے بمعنی سخت سیاہ اندھیرا یعنی ایسا اندھیر والا فتنہ ہوگا کہ لوگوں کو اس میں راستہ نظر نہ آوے گا کہ کدھر جاویں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ دھیماء ایک اونٹنی تھی جس پر آگے پیچھے سات آدمیوں نے جنگ کی جو سب مارے گئے اونٹنی خالی رہ گئی جب سے عربی میں یہ کہاوت بن گئی کہ ایسے خطرناک فتنہ کو دھیماء کہنے لگے۔(مرقات)
۱۰؎ یعنی یہ فتنہ بہت روز تک رہے گا کبھی ہلکا پڑجاوے گا تو لوگ سمجھیں گے ختم ہو گیا پھر تیز ہوجاوے گا حتی کہ ختم ہوگا۔
۱۱؎ یعنی اس فتنہ سے کوئی نہ بچے گا سب پر اس کا اثر پہنچے گا کسی پر زیادہ کسی پر کم۔
۱۲؎ یعنی لوگوں کے دو گروہ ہوجائیں گے خالص مؤمن،خالص منافق یا فسطاط سے مراد شہر ہیں یعنی لوگ دو شہروں میں بٹ جاویں گے۔
۱۳؎ یعنی اس فتنہ سے متصل خروج دجال ہوگا اس لیے معلوم ہوا کہ یہ فتنہ ابھی واقع نہیں ہوا قیامت کے قریب ہوگا۔وہ کون سید ہوگا جو اس فتنہ کا موجد ہوگا یہ رب جانے اور یہ واقعہ کب ہوگا اس کی تاریخ کا بھی پتہ نہیں۔ (اشعہ)
|
5404 -[26] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ أَفْلَحَ مَنْ كَفَّ يَدَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا خرابی ہے عرب کے لیے ۱؎ اس شر سے جو قریب آ گئی وہ شخص کامیاب رہے گا جو اپنا ہاتھ روکے۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ ویل کے معنی ہیں خرابی شر قریب،دوزخ کے ایک طبقہ کا نام ہلاکت،یہاں بمعنی خرابی ہے۔(مرقات)
۲؎ یعنی اس زمانہ میں جو جنگ و قتال میں حصہ نہ لے وہ کامیاب ہے۔اس شر سے مراد یا تو یاجوج ماجوج کا نکلنا ہے اس وقت ان سے مقابلہ کی طاقت نہ ہوگی اس لیے قتال سے بچنے والا کامیاب رہے گا یا اس شر سے مراد مسلمانوں کی آپس کی جنگیں ہیں جو حضرت عثمان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع