30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ تصدقت فرما کر اشارۃً ارشاد ہوا کہ اپنی زندگی تندرستی میں اپنے ہاتھ سے خیرات کرجائے،یہ برا ہے کہ زندگی میں کنجوس رہے مرتے وقت وصیت کرے یا امید کرے کہ میرے وارث میری طرف سے صدقہ و خیرات کیا کریں گے یہ شیطانی دھوکہ ہے۔شعر
توشہ اعمال اپنے ساتھ لے جاؤ جی کون پیچھے قبر میں بھیجے گا سوچو تو سہی
بعد مرنے کے تمہیں اپنا پرایا بھول جائے فاتحہ کو قبر پر پھر کوئی آئے یا نہ آئے
اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہوسکے کرلے اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے (اعلٰی حضرت)
|
5170 -[16] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفس» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ امیری زیادہ مال و اسباب سے نہیں لیکن امیری دل کی غنا سے ہے ۱؎ (مسلم، بخاری) |
۱؎ دل کی غنا سے مراد قناعت و صبر رضا برقضا ہے۔حریص مالدار فقیر ہے قناعت والا غریب امیر ہے۔شعر
توانگری نہ بمال است نزد اہل کمال کہ مال تالب گور است بعد ازاں اعمال
ہوسکتا ہے کہ غنی نفس سے مراد کمالات روحانیہ ہوں کہ اس کی برکت سے دولت مند اس کے دروازہ کی خاک چاٹتے ہیں،دیکھ لو داتا گنج بخش اور خواجہ اجمیری کے آستانے رضی الله عنہما۔مطلب یہ ہے کہ غنی وہ ہے جس کو نفس غنا نفس کا کمال حاصل ہو۔ حضرت علی فرماتے ہیں شعر
رضینا قسمۃ الجبار فینا لنا علم وللجھال مال
فان المال یفنی عن قریب وان العلم باق لا یزال
|
5171 -[17] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: «من أَخذ عَنِّي هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ؟» قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ الله فَأخذ بيَدي فَعَدَّ خَمْسًا فَقَالَ: «اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا وَلَا تُكْثِرِ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكَ تُمِيتُ الْقَلْبَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کون ہے جو مجھ سے یہ چند باتیں لے لے پھر ان پر عمل کرے یا اسے سکھا دے جو ان پر عمل کرے ۱؎ میں نے عرض کیا یارسول الله میں ہوں تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا پھر پانچ چیزیں گنیں ۲؎ فرمایا حرام چیزوں سے بچو تمام لوگوں میں بڑے عابد ہوجاؤگے ۳؎ اور اﷲ نے جو تمہاری قسمت کردیا اس پر راضی رہو لوگوں سے غنی ہو جاؤگے ۴؎ اور اپنے پڑوس سے اچھا سلوک کرو کہ مؤمن ہوجاؤگے ۵؎ اور لوگوں کے لیے وہ ہی چاہو جو اپنے لیے چاہتے ہو مسلمان ہوجاؤ گے۶؎ اور زیادہ ہنسو نہیں کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کردیتی ہے ۷؎ (احمد، ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۸؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع