30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی ان لوگوں میں تین عیب ہوں گے: وعدہ خلافی،امانتوں میں خیانت،آپس میں لڑائی جھگڑے۔ اس سے حضرات صحابہ مراد نہیں بلکہ بعد والے لوگ،تمام صحابہ عادل ثقہ ہیں،ان کی عدالت پر قرآن کریم گواہ ہے،فرماتاہے:"وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی"۔
۳؎ یعنی اس زمانہ میں اپنی فکر کرو لوگوں کی فکر نہ کرو بلکہ انہیں تبلیغ بھی نہ کرو کہ اس زمانہ میں لوگ تمہاری تبلیغ کا اثر تولیں گے نہیں الٹے تمہارے پیچھے پڑ جائیں گے۔پہلے گزر چکا کہ ایسی مجبوری کی حالت میں تبلیغ فرض نہیں رہتی۔
۴؎ یعنی اس وقت لوگوں کے حالات ان کے معاملات میں گفتگو نہ کرو اور بغیر سوچے سمجھے بات نہ کرو کہ اکثر اوقات زبان کی وجہ سے آفت آجاتی ہے۔یہ فرمان عالی تاقیامت امان کی تعلیم ہے،زبان پر قابو رکھنے سے بہت آفات دور رہتی ہیں،یوں ہی اپنے گھر میں رہنا لوگوں سے خلط ملط نہ رکھنا گناہوں سے بچے رہنے کا ذریعہ ہے۔
۵؎ یہ وجوبی حکم نہیں بلکہ اباحت اور اجازت کا حکم ہے کہ ایسی مجبوری میں تبلیغ چھوڑ دینے کی اجازت ہے،اگر کوئی ہمت و صبر والا بندہ ایسی حالت میں بھی تبلیغ کرے اور مصیبت جھیلے تو ثواب کا مستحق ہوگا۔حضرت نوح علیہ ا لسلام نے سخت مجبوری میں تبلیغ کی اور قوم سے بڑی مصیبتیں جھیلیں،حضرت امام حسین نے فتنہ یزیدی میں سفرکیا تبلیغ فرمائی اور جام شہادت نوش کیا۔ خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے حضرت حذیفہ کو حکم دیا کہ فتنہ کے زمانہ میں گوشہ نشین بلکہ جنگل نشین ہوجاویں لوگوں سے الگ رہیں مگر حضرت عبدالله ابن عمرو کو حکم دیا گیا کہ لوگوں میں رہیں بسیں مگر زبان کی نگرانی کریں۔ حضور صلی الله علیہ و سلم حکیم مطلق ہیں،حکیم ہر مریض کو اس کے مزاج کے مطابق دوا دیتا ہے،جناب حذیفہ کے لیے وہ مناسب تھا اور جناب ابن عمرو کے لیے یہ مناسب۔حضرت عبدالله ہمیشہ کے روزہ دار شب بیدار تھے،آپ کے والد عمرو ابن عاص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے آپ کو تین نصیحتیں فرمائیں: تہائی رات جاگو دو تہائی سوؤ،ہر مہینہ تین روزے رکھو،اپنے باپ کا حکم مانو۔اختلاف صحابہ رضی اللہ عنھم کے زمانہ میں حضرت عمرو ابن عاص امیر معاویہ کے ساتھ رہے،حضرت عبدالله ابن عمرو بظاہر امیر معاویہ کے ساتھ رہے باپ کی وجہ سے اور درپردہ حضرت علی کے ساتھ اور کہا کرتے تھے کہ میں اپنے والد کے ساتھ خیر میں شریک ہوں نہ کہ شر میں،حضرت حسین رضی الله عنہ کو دیکھ کر کہتے تھے کہ میں ان سے ہوں مگر افسوس کہ ان کے ساتھ نہیں رہ سکتا ہوں۔(اشعہ)
|
5399 -[21] وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا الْقَاعِد خير من الْقَائِم والماشي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي فَكَسِّرُوا فِيهَا قِسِيَّكُمْ وَقَطِّعُوا فِيهَا أَوْتَارَكُمْ وَاضْرِبُوا سُيُوفَكُمْ بِالْحِجَارَةِ فَإِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدٍ مِنْكُمْ فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد. وَفِي رِوَايَة لَهُ:«ذَكَرَ إِلَى قَوْلِهِ» خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي " ثُمَّ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: كُونُوا أَحْلَاسَ بُيُوتِكُمْ ". وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْفِتْنَةِ: «كَسِّرُوا فِيهَا قِسِيَّكُمْ وَقَطِّعُوا فِيهَا أَوْتَارَكُمْ وَالْزَمُوا فِيهَا أَجْوَافَ بُيُوتِكُمْ وَكُونُوا كَابْنِ آدَمَ» . وَقَالَ: هَذَا حديثٌ صحيحٌ غريبٌ |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا قیامت کے آگے بہت فتنے ہیں اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ۱؎ ان میں آدمی صبح کو مؤمن ہو گا اور شام کو کافر اور شام کو مؤمن ہوگا اور صبح سویرے کو کافر ۲؎ ان میں بیٹھ رہنے والا کھڑے سے بہتر ہوگا اور ان میں چلنے والے دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۳؎ تو ان فتنوں میں اپنی کمانیں توڑ دو اپنی تانت کاٹ دو اور اپنی تلوار پتھر سے مار دو۴؎ پھر اگر تم میں سے کسی پر گھسا جاوے تو وہ حضرت آدم کے بہترین بیٹے(ہابیل)کی طرح ہوجاوے ۵؎(ابوداؤد)اور اسی کی ایک روایت میں خیر من الساعی تک کا ذکر فرمایا،پھر لوگوں نے عرض کیا کہ تب ہم کو حضور کیا حکم دیتے ہیں فرمایا اپنے گھروں کے ٹاٹ بن جانا ۶؎ اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فتنہ کے متعلق فرمایا کہ اس میں اپنی کمانیں توڑ دینا اور اس میں اپنی تانت کانٹ دینا ۷؎ اور اس میں اپنے گھروں کا اندرونی حصہ پکڑ لینا ہے۸؎ اور حضرت آدم کے بیٹے کی طرح ہوجانا ۹؎ اور کہا یہ حدیث صحیح ہے غریب ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع