30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۹؎ اس فرمان عالی میں اشارہ ہے واقعہ حرہ کی طرف جو یزید مردود کے زمانہ میں بعد واقعہ کربلا ہوا کہ یزید نے مسلم ابن عقبہ کی سر کردگی میں ایک لشکر جرار سے مدینہ منورہ پر حملہ کردیا،تین دن یا پانچ دن مدینہ پاک میں قتل عام کرایا،مسجد نبوی شریف میں کئی دن اذان نہ ہوسکی، مدینہ منورہ کی گلی کوچوں میں حضرات صحابہ و تابعین کا خون پانی کی طرح بہا۔یہاں سے پھر اس لشکر نے مکہ معظمہ کا رخ کیا ابھی یہ لشکر راستہ میں تھا کہ مسلم ابن عقبہ ہلاک ہوا اس کے بعد یزید جہنم رسید ہوا۔احجار الزیت یا تو مدینہ منورہ کے ایک محلہ کا نام ہے یا ایک میدان کا کیونکہ وہاں کالے چکنے پتھر ہیں گویا تیل چپڑے سے ہوں۔اس واقعہ کی تفصیل تاریخ مدینہ میں دیکھو۔(از مرقات و اشعہ)
۱۰؎ یہ جملہ خبر بمعنی امر ہے یعنی تم ان کے پاس چلے جانا جن میں سے تم ہو،یعنی اپنے گھر اپنے بال بچوں میں رہنا بلا ضرورت باہر نہ نکلنا یہ ہی معنی درست ہیں کیونکہ جنگ حرہ میں سوا یزید کے کوئی سلطان تھا ہی نہیں۔
۱۱؎ یعنی اس موقعہ پر اگر تم بھی جنگ کرنے لگے تو اس فتنہ میں شریک ہوگئے اور اس شرکت سے فتنہ بڑھے گا گھٹے گا نہیں اس لیے اس فتنہ میں حضرت امام زین العابدین اور ان کے ساتھی رضی الله عنہم گوشہ نشین رہے یہ تھا اس حکم پر عمل۔
۱۲؎ یعنی اگر تمہارے گوشہ نشین خانہ نشین ہونے کے باوجود کوئی ظالم سفاک تمہارے گھر میں قتل کرنے آجاوے تو اس کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ اپنا آپ چھپاکر خاموش بیٹھے رہنا کہ وہ تمہیں اس صبروشکر کی حالت میں قتل کردے۔خیال رہے کہ یہ فرمانا حضرت ابو ذر سے مگر سنانا ہے دوسرے کو کیونکہ حضرت ابو ذر غفاری نے حرہ کا واقعہ نہیں پایا،آپ کی وفات ۳۲ھ بتیس ہجری خلافت عثمانیہ میں ہوئی اور حرہ کا یہ واقعہ ۶۲ھ میں ہوا،یہ حکم خصوصی طور پر زمین مدینہ میں کشت و خون سے بچنے کے لیے ہے اسی لیے حضرت عثمان غنی شہیدہوئے کہ آپ نے قاتل کا وار روکا بھی نہیں، ظالم کفار سے اپنا بچاؤ ان پر وارکرنا ضروری ہے۔
|
5398 -[20] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَيْفَ بِكَ إِذَا أُبْقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ مَرَجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ؟ وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا؟» وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. قَالَ: فَبِمَ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «عَلَيْكَ بِمَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ وَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ وَإِيَّاكَ وَعَوَامِّهِمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «الْزَمْ بَيْتَكَ وَأَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَخُذْ مَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ ودع أَمر الْعَامَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَصَححهُ |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تم لوگوں کی بھوسی میں رہ جاؤ گے ۱؎ کہ ان کے عہدوپیمان اور امانتیں گڑ بڑ ہوں گی اور آپس میں اختلاف کریں گے تو ایسے ہوجائیں گے اور اپنی ا نگلیوں شریف کو گتھا دیا ۲؎ عرض کیا مجھے کیا حکم ہے فرمایا جسے بھلا جانو اسے لازم مضبوط پکڑ لو اور جسے برا جانو وہ چھوڑ دو اور تم اپنی خاص ذات کی فکر رکھو عوام سے بچو۳؎ اور ایک روایت میں ہے کہ اپنا گھر لازم پکڑ لو اپنی زبان قابو میں رکھو۴؎ جو اچھا جانو وہ اختیار کرلو اور جو برا جانو چھوڑ دو اور اپنا خاص معاملہ اختیار کرو اور عام لوگوں کا معاملہ چھوڑ دو ۵؎(ترمذی) اور اسے صحیح فرمایا۔ |
۱؎ حثالہ گیہوں یا جوکی وہ بھوسی جو کسی کام نہ آوے۔اسبغول کی بھوسی بہت کار آمد اور قیمتی چیز ہے اسے حثالہ نہیں کہاجاتا۔یعنی تم بیکار لوگوں میں رہ جاؤ گے جن سے کسی کو کوئی فائدہ نہ ہوگا محض بے کار ہوں گے،ان کا حال آگے ارشاد ہو رہا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع