30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5397 -[19] وَعَن أبي ذَر قَالَ: كُنْتُ رَدِيفًا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا علىحمار فَلَمَّا جَاوَزْنَا بُيُوتَ الْمَدِينَةِ قَالَ: «كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ جُوعٌ تَقُومُ عَنْ فِرَاشِكَ وَلَا تَبْلُغُ مَسْجِدَكَ حَتَّى يُجْهِدَكَ الْجُوعُ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «تَعَفَّفْ يَا أَبَا ذَرٍّ» . قَالَ: «كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ مَوْتٌ يَبْلُغُ الْبَيْتَ الْعَبْدُ حَتَّى إِنَّهُ يُبَاعُ الْقَبْرُ بِالْعَبْدِ؟» . قَالَ: قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «تَصْبِرُ يَا أَبَا ذَرٍّ» . قَالَ: «كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ قَتْلٌ تَغْمُرُ الدِّمَاءُ أَحْجَارَ الزَّيْتِ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «تَأْتِي مَنْ أَنْتَ مِنْهُ» . قَالَ: قُلْتُ: وَأَلْبَسُ السِّلَاحَ؟ قَالَ: «شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذًا» . قُلْتُ: فَكَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ فَأَلْقِ نَاحِيَةَ ثَوْبِكَ عَلَى وَجْهِكَ لِيَبُوءَ بإِثمك وإِثمه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پیچھے ایک دن ردیف تھا ۱؎ ایک گدھے پر تو جب ہم مدینہ کے گھروں سے نکل گئے تو فرمایا اے ابوذر اس دن تمہارا کیا حال ہوگا جب مدینہ میں عام بھوک ہوگی ۲؎ تم اپنے بستر سے اٹھو گے تو اپنی مسجد نہ پہنچو گے کہ تم کو بھوک مشقت میں ڈال دے گی۳؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا الله رسول ہی جانیں، فرمایا پرہیز گار رہنا۴؎ اے ابو ذر فرمایا،اے ابوذر اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب مدینہ میں عام موت پھیل جاوے گی۵؎ کہ گھر غلام کی قیمت کو پہنچ جاوے گا ۶؎ حتی کہ ایک قبر ایک غلام کی عوض بکے گی ۷؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا الله رسول خوب جانیں،فرمایا صبر کرنا اے ابوذر۸؎ فرمایا اے ابوذر اس وقت تمہارا کیا ہے حال ہوگا جب کہ مدینہ میں قتل عام ہوگا حتی کہ خون ریت کے پتھروں کو ڈبو دے گا ۹؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا الله رسول خوب جانیں فرمایا ان میں چلے جانا جن میں سے تم ہو۱۰؎ میں نے عرض کیا کہ ہتھیار باندھ لوں فرمایا تب تو تم قوم میں شریک ہوگئے ۱۱؎ میں نے عرض کیا کہ میں کیا کروں یا رسول اللہ فرمایا اگر تمہیں خطرہ ہو کہ تمہیں تلوار کی شعاعیں چوندھیاویں گی تو اپنے کپڑے کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا تاکہ وہ تمہارا اور اپنا گناہ لے کر لوٹے ۱۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ جب ایک گھوڑے یا خچر پر دو آدمی سوار ہوں تو آگے والا مردف ہے پیچھے والا ردیف۔آپ کا یہ فرمانایا تو الله کی نعمت ظاہر کرنے کے لیے ہے کہ مجھے حضور انور سے بہت ہی قرب نصیب ہوا یا حدیث کی قوت بتانا مقصود ہے،یعنی یہ فرمان عالی میں نے بہت ہی قریب سے سنا لہذا بالکل صحیح سنا جس میں کوئی شک شبہ نہیں۔
۲؎ یعنی تمہاری زندگی میں مدینہ منورہ میں عام قحط سالی ہوگی معلوم نہ ہوسکا کہ یہ کس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اگر واقعہ حرہ کی طرف اشارہ ہے تو بھوک سے مراد ہے خود ابوذر کا بھوکا ہونا کہ اس وقت جو صحابہ گوشہ نشین ہوگئے تھے وہ بھوکے رہے۔
۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ بھوک سے مراد عام قحط سالی نہیں بلکہ خاص ان کا بھوکا ہونا ہے یعنی تم بھوک کی شدت کی وجہ سے بمشکل مسجد تک پہنچ سکو گے۔
۴؎ یعنی تم اس وقت بھوک کی وجہ سے رزق کے لیے شریعت کی حدیں مت توڑنا،حلال روزی پر قناعت کرنا اور بھوک کی وجہ سے بددینوں سے تعلق نہ رکھنا۔
۵؎ یہ عام موت کسی وبائی بیماری کی وجہ سے نہ ہوگی کہ مدینہ منورہ وبا سے محفوظ سے،وہاں دجال طاعون نہیں پہنچ سکتے۔
۶؎ اس فرمان عالی کی بہت تفسیریں ہیں: ایک یہ کہ مردوں کی زیادتی کی وجہ سے وقف قبرستان تو بھر جائیں گے لوگ مملوکہ زمینوں میں دفن کرنے پر مجبور ہوجائیں گے اور زمینوں کے مالک ایک قبر کی زمین کی اتنی بھاری قیمت وصول کریں گے جتنی قیمت ایک غلام کی ہوتی ہے۔دوسرے یہ کہ ایک قبر کھودنے کی اجرت اتنی زیادہ ہوگی جتنی ایک غلام کی ہوتی ہے۔تیسرے یہ کہ غلاموں کے عوض قبر کی زمین خریدی جاوے گی۔ان صورتوں میں بیت سے مراد قبر ہے۔ تیسرے یہ کہ لوگ اس قدر مرجاویں گے کہ گھر خالی رہ جاویں اور اتنے سستے ہوجاویں گے کہ ایک غلام کی قیمت میں ایک گھر مل جاوے گا۔چوتھے یہ کہ گھر میں ایک غلام سارے گھر کا نگراں ہوگا باقی لوگ یا بیمار ہوں گے یا مرچکے ہوں گے،ان صورتوں میں گھر سے مراد رہائشی گھر ہے۔(اشعہ)مگر پہلے دو معنی زیادہ قوی ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔جو امام کفن چور کا ہاتھ کٹواتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ حضور انور نے قبر کو گھر فرمایا تو جیسے گھر میں سے چوری کرنے والے کے ہاتھ کٹتے ہیں ایسے ہی قبر میں سے چوری کرنے والے کے ہاتھ کٹیں گے مگر یہ دلیل نہایت ہی کمزور ہے کیونکہ کفن کسی کی ملکیت نہیں اور غیرمملوک ہے۔
۷؎ یہ فرمان عالی یا تو الگ جملہ ہے یا پہلے جملے کی شرح ہے،دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے۔
۸؎ یعنی اس شدت میں بھی مدینہ منورہ مت چھوڑنا یہاں ہی صبر سے رہنا کہ مدینہ کی موت دوسری جگہ کی زندگی سے افضل ہے۔شعر
ان کے در پر دم نکل جائے تو جی جائیں حسن ان کے در سے دور رہ کر زندگی اچھی نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع