دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

۸؎  جذل بمعنی جڑ،یعنی اگر زمانہ ایسا افراتفری کا ہو کہ مسلمانوں کا بادشاہ کوئی نہ ہو تو تم لوگوں سے الگ ہوجانا،گوشہ نشینی اختیارکرلینا کہ اس زمانہ میں جلوت میں فتنہ ہوگا خلوت میں امن۔دانت سے پکڑنا عربی کی ایک خاص اصطلاح ہے بمعنی مضبوطی سے پکڑنا اور مشکل وقت میں بھی اسے نہ چھوڑنا۔یہاں اشارۃً فرمایا گیا کہ اس وقت گوشہ نشینی بھی مشکل ہوگی مگر یہ مشکل جھیلنا گوشہ نہ چھوڑنا۔

۹؎  ظاہر یہ ہے کہ آگ اور نہر سے ظاہری معنی مراد ہیں۔واقعی دجال کے ساتھ آگ بھی ہوگی پانی بھی مگر اس کی آگ درحقیقت ٹھنڈے پانی کا چشمہ ہوگی اور نہر بھڑکتی ہوئی آگ،وہ مردود اپنے ماننے والوں کو اس نہر میں داخل کرے گا اپنے منکروں کو آگ میں۔

۱۰؎ اس میں اشارہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کی طرف۔اس فرمان عالی کے بہت معنی ہیں: (۱)اس زمانہ پاک میں جہاد نہ ہوں گے اور مسلمان کفار کے مقابل گھوڑوں پر جہاد نہ کریں گے کیونکہ کفار ختم ہوچکے ہوں گے (۲)اس زمانہ میں گھوڑوں پر سواری نہ ہو گی،دوسری سواریاں ہوگی  جن پر سواری کی جاوے گی(۳)دجال کے بعد ایک وقت وہ آئے گا جب قیامت بہت ہی قریب ہوگی حتی کہ گھوڑی کا بچہ جوان اور قابل سواری ہونے سے پہلے قیامت آجاوے گی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ  دجال ہلاک ہونےکے بعد قیامت اتنی قریب ہوگی  کہ گھوڑی کی جوانی سے پہلے  قیامت آجاوےگی کیونکہ دجال کی ہلاکت کے پانچ سو برس بعد قیامت آوے گی چالیس سال تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی دنیا میں رہیں گے بعد کو چار سو ساٹھ سال بعد قیامت۔

۱۱؎  مطلب وہ ہی ہے صرف عبارت کا فرق ہے۔جماعت سے مراد ہے لوگوں کا کسی کی بیعت پر ظاہری طور پر متفق ہوجانا ہے۔

۱۲؎  یعنی ایسے فتنے جو لوگوں کو اندھا بہرہ کردیں گے کہ لوگ اس وقت نہ حق دیکھیں گے نہ حق سنیں گے،لوگوں کی مت ماری جاوے گی،اس وقت حق ایسا مشتبہ ہوجاوے گا کہ نظر نہ آوے گا۔

۱۳؎  یعنی یہ لوگ خود دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے اور مخلوق کو اپنی طرف بلاتے ہوں گے،بدعقیدگی بد عمل دوزخ کے دروازے ہیں۔

۱۴؎  یعنی ان فتنہ والوں میں سے کسی کے ساتھ نہ رہو خلوت نشین ہوجاؤ۔

5397 -[19]

وَعَن أبي ذَر قَالَ: كُنْتُ رَدِيفًا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا علىحمار فَلَمَّا جَاوَزْنَا بُيُوتَ الْمَدِينَةِ قَالَ: «كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ جُوعٌ تَقُومُ عَنْ فِرَاشِكَ وَلَا تَبْلُغُ مَسْجِدَكَ حَتَّى يُجْهِدَكَ الْجُوعُ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «تَعَفَّفْ يَا أَبَا ذَرٍّ» . قَالَ: «كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ مَوْتٌ يَبْلُغُ الْبَيْتَ الْعَبْدُ حَتَّى إِنَّهُ يُبَاعُ الْقَبْرُ بِالْعَبْدِ؟» . قَالَ: قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «تَصْبِرُ يَا أَبَا ذَرٍّ» . قَالَ: «كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ قَتْلٌ تَغْمُرُ الدِّمَاءُ أَحْجَارَ الزَّيْتِ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «تَأْتِي مَنْ أَنْتَ مِنْهُ» . قَالَ: قُلْتُ: وَأَلْبَسُ السِّلَاحَ؟ قَالَ: «شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذًا» . قُلْتُ: فَكَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ فَأَلْقِ نَاحِيَةَ ثَوْبِكَ عَلَى وَجْهِكَ لِيَبُوءَ بإِثمك وإِثمه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پیچھے ایک دن ردیف تھا ۱؎  ایک گدھے پر تو جب ہم مدینہ کے گھروں سے نکل گئے تو فرمایا اے ابوذر اس دن تمہارا کیا حال ہوگا جب مدینہ میں عام بھوک ہوگی ۲؎ تم اپنے بستر سے اٹھو گے تو اپنی مسجد نہ پہنچو گے کہ تم کو بھوک مشقت میں ڈال دے گی۳؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا الله رسول ہی جانیں، فرمایا پرہیز گار رہنا۴؎  اے ابو ذر فرمایا،اے ابوذر اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب مدینہ میں عام موت پھیل جاوے گی۵؎ کہ گھر غلام کی قیمت کو پہنچ جاوے گا ۶؎ حتی کہ ایک قبر ایک غلام کی عوض بکے گی ۷؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا الله رسول خوب جانیں،فرمایا صبر کرنا اے ابوذر۸؎ فرمایا اے ابوذر اس وقت تمہارا کیا ہے حال ہوگا جب کہ مدینہ میں قتل عام ہوگا حتی کہ خون ریت کے پتھروں کو ڈبو دے گا ۹؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا الله رسول خوب جانیں فرمایا ان میں چلے جانا جن میں سے تم ہو۱۰؎  میں نے عرض کیا کہ ہتھیار باندھ لوں فرمایا تب تو تم قوم میں شریک ہوگئے ۱۱؎ میں نے عرض کیا کہ میں کیا کروں یا رسول اللہ فرمایا اگر تمہیں خطرہ ہو کہ تمہیں تلوار کی شعاعیں چوندھیاویں گی تو اپنے کپڑے کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا تاکہ وہ تمہارا اور اپنا گناہ لے کر لوٹے ۱۲؎ (ابوداؤد)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن