30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5395 -[17] وَعَن سفينة قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا» . ثُمَّ يَقُولُ سَفِينَةُ: أَمْسِكْ: خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ سَنَتَيْنِ وَخِلَافَةَ عُمَرَ عَشْرَةً وَعُثْمَانَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ وَعَلِيٍّ سِتَّةً. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت سفینہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ خلافت تیس سال تک ہے ۱؎ پھر سلطنت ہوجاوے گی۲؎ پھر سفینہ کہتے تھے کہ حساب لگا لو ابوبکر صدیق کی خلافت دو سال اور حضرت عمر کی خلافت دس سال،حضرت عثمان کی بارہ سال،جناب علی کی چھ سال۳؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ یہاں خلافت سے مراد خلافت راشدہ خلافت کاملہ الله رسول کی پسندیدہ خلافت ہے۔خلیفہ راشد وہ ہے جن کی بیعت حضور صلی الله علیہ و سلم کی بیعت ہو،وہ اسلام کا سلطان بھی ہو اور رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا جانشین بھی جیسے حضرات خلفاء راشدین یا آخر زمانہ میں حضرت امام مہدی۔بعض لوگوں نے حضرت عمر ابن عبدالعزیز کو بھی خلیفہ راشد مانا ہے مگر حق یہ ہے کہ وہ صرف خلفاء راشدین تھے جیساکہ اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے۔حضرت عمر ابن عبدالعزیز اور آخر زمانہ میں امام مہدی خلیفہ برحق ہیں،امام عادل ہیں مگر ان کی خلافت خلافت راشدہ نہیں کہلاتی۔
۲؎ جس میں سلطان صرف حاکم تو ہوگا مگر حضور صلی الله علیہ و سلم کا جانشین نہ ہوگا،اس کی بیعت بیعت سلطنت ہوگی،بیعت ارادت نہ ہوگی۔غرضکہ بیعت امارت تو سلطان کی ہوگی اور بیعت ارادت حضرت مشائخ عظام کی۔
۳؎ یہ حساب تقریبی ہے جس میں سال کی کسریں یعنی مہینے چھوڑ دیئے گئے ہیں حساب تحقیقی یہی ہے کہ خلافت صدیقی دو سال چار ماہ،خلافت فاروقی دس سال چھ مہینے،خلافت عثمانی چند دن کم بارہ سال،خلافت حیدری چار سال نو ماہ، چاروں خلفاء کی خلافت انتیس سال سات مہینے نو دن ہے،پانچ ماہ باقی رہے وہ ہی حضرت امام حسن کی خلافت نے پورے کردیئے۔(اشعہ)ان مدتوں کے بیان میں کچھ اختلاف ہے بہرحال حضرت امام حسن کی چند ماہ خلافت پر تیس سال پورے ہوگئے،چونکہ امام حسن کی خلافت دراصل خلافت حیدری کا تتمہ تھی اس لیے اس کا ذکر علیحدہ نہ فرمایا۔ خیال رہے کہ مروانی حکومت کا دور یوں ہے یزید ابن معاویہ،اس کا بیٹا معاویہ ابن یزید، عبدالملک ہشام ابن عبدالملک، ولید،سلیمان،عمر ابن عبدالعزیز،ولید ابن یزید،یزید ابن ولید،مروان،ابن محمد،پھر حکومت بنی عباس میں منتقل ہوگئی۔ (مرقات)حضور خاتم انبیاء ہیں،حضرت علی خاتم الخلفاء اور امام مہدی خاتم الاولیاء ہیں۔(مرقات)
|
5396 -[18] وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَكُونُ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ؟ قَالَ: «السَّيْفُ» قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ السَّيْفِ بَقِيَّةٌ؟ قَالَ: «نعمْ تكونُ إِمارةٌ على أَقْذَاءٍ وَهُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ» . قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «ثُمَّ يَنْشَأُ دُعَاةُ الضَّلَالِ فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ جَلَدَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَأَطِعْهُ وَإِلَّا فَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْلِ شَجَرَةٍ» . قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ بَعْدَ ذَلِكَ مَعَهُ نَهْرٌ وَنَارٌ فَمَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهْرِهِ وَجَبَ وِزْرُهُ وحظ أَجْرُهُ» . قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «ثُمَّ يُنْتَجُ الْمُهْرُ فَلَا يُرْكَبُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ» وَفِي رِوَايَة: «هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ وَجَمَاعَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ». قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْهُدْنَةُ عَلَى الدَّخَنِ مَا هِيَ؟ قَالَ:«لَا ترجع قُلُوب أَقوام كَمَا كَانَتْ عَلَيْهِ». قُلْتُ:بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟قَالَ: «فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ فَإِنْ مُتَّ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تتبع أحدا مِنْهُم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله کیا اس خیر کے بعد شر ہوگی جیسے اس سے پہلے تھی ۱؎ فرمایا ہاں میں نے عرض کیا تو حفاظت کیا ہے فرمایا تلوار ۲؎ میں نے عرض کیا کیا تلوار کے بعد کچھ بقایا ہے۳؎ فرمایا ہاں ہوگی سلطنت ناپسندیدگی۴؎ اور صلح دھوئیں پر ۵؎ میں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا فرمایا پھر گمراہی کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے ۶؎ تو اگر زمین میں کوئی الله کا خلیفہ ہو وہ تمہارے پشت پر کوڑے مارے اور تمہارا مال لے مگر تم اس کی فرمانبرداری کرنا ۷؎ ورنہ اس طرح مر جانا کہ کسی درخت کی جڑ دانتوں سے پکڑے ہو۸؎ میں نے کہا پھر کیا ہوگا،فرمایا پھر اس کے بعد دجال نکلے گا جس کے ساتھ نہر اور آگ ہوگی تو جو اس کی آگ میں گرے گا اس کا ثواب ثابت ہوجاوے گا اور اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے اور جو اس کی نہر میں گرے گا اس کا گناہ ثابت ہوجاوے گا ۹؎ اور اس کا ثواب ضبط،میں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا فرمایا پھر گھوڑی بچہ دے گی تو اس پر سواری نہ کی جاسکے گی حتی کہ قیامت قائم ہوجاوے گی۱۰؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا صلح دھوئیں پر اور لوگوں کا اجتماع ناپسندیدگی،میں نے عرض کیا یارسول الله کہ دھوئیں پر صلح ۱۱؎ کیا چیز ہے فرمایا کہ قوموں کے دل اس طرح نہ لوٹیں گے جس پر پہلے تھے میں نے عرض کیا کہ کیا اس خیر کے بعد شر ہوگی فرمایا اندھے بہرے فتنے ہوں گے۱۲؎ جن پر کچھ لوگ دوزخ کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہوں گے۱۳؎ تو اے حذیفہ اگر تم اس حالت میں وفات پاؤ کہ تم کسی درخت کی جڑ دانت سے پکڑے ہو تو تمہارے لیے اس سے اچھا ہے کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کو۱۴؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع