30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5393 -[15] عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَصْحَابِي أَمْ تَنَاسَوْا؟ وَاللَّهِ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَائِدِ فِتْنَةٍ إِلَى أَنْ تَنْقَضِيَ الدُّنْيَا يَبْلُغُ مَنْ مَعَهُ ثَلَاثَمِائَةٍ فَصَاعِدًا إِلَّا قَدْ سَمَّاهُ لَنَا بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ واسمِ قبيلتِه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں الله کی قسم میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھی بھول گئے یا بھلا بیٹھے ۱؎ الله کی قسم رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے دنیا ختم ہونے تک تمام فتنہ گروں کو ۲؎ جو تین سو یا کچھ زیادہ ہیں۳؎ نہیں چھوڑا مگر ہم کو ان کے نام بتادیئے اس کا نام اس کے باپ کا نام اس کے قبیلہ کا نام۴؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی واقعی ہی بھول گئے یا بھلا بیٹھے یا بھولے ہوئے بن گئے کہ ان کا کبھی ذکر نہیں کرتے۔خیال رہے کہ بھول جانے اور بھلا دینے میں فرق ہے۔ضروری بات بھول جانا گناہ نہیں مگر بھلا دینا گناہ ہے،بھلا دینے میں اپنی بے پرواہی کو دخل ہوتا ہے۔
۲؎ قائدہ بنا ہے قود سے بمعنی چلانا،ہانکنا،آگے سے کسی کو کھینچنا،سوق پیچھے سے ہانکنا،اس سے ہے سائق۔یہاں اس سے فتنہ پیدا کرنے والے فتنہ پھیلانے والے سردار مراد ہیں جیسے بے دین عالم جو نئے مذہب بری بدعتیں ایجاد کرکے لوگوں میں فتنہ برپا کرتے ہیں۔اس میں بہت وسعت ہے جس میں گمراہ کن علماء،جھوٹے مدعی نبوت،گمراہ بادشاہ سب ہی داخل ہیں جن سے لوگوں میں دینی فتنے پھیلیں۔یہ حدیث حضور صلی الله علیہ و سلم کے علم غیب کی کھلی دلیل ہے۔
۳؎ یہاں بڑے بڑے فتنہ گر مراد ہیں جن میں سے ہر ایک کے ماتحت ہزار ہا فتنہ گر ہوں گے جیسے حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت میں تہتر فرقے ہوں گے بہتر دوزخی ایک جنتی،وہاں بھی اصولی فرقے مراد ہیں جن میں سے ہر ایک کی صد ہا شاخیں ہیں،شیعوں کے بہت فرقے،مرزائیوں کی کئی شاخیں لہذا یہ حدیث صاف ہے اس پر یہ اعتراض نہیں کہ فتنہ گر تو تین سو سے کہیں زیادہ ہیں۔
۴؎ تمام عرب و عجم،مشرق و مغرب کے فتنہ گر سب ہی بتادیئے پھر صرف ان کا نام ہی نہ بتایا بلکہ پتہ بھی بتادیا،یہ ہے حضور صلی الله علیہ و سلم کا علم غیب جو الله نے انہیں بخشا۔
|
5394 -[16] وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والترمذيُّ |
روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں اپنی امت پر گمراہ گر پیشواؤں کا خوف کرتا ہوں ۱؎ اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جاوے گی تو ان سے روز قیامت تک نہ اٹھے گی ۲؎ (ابوداؤد،ترمذی) |
۱؎ علماء فرماتے ہیں کہ تلوار کے فتنے سے علمی فتنہ بڑا ہے خونخوار ظالم ایک آدمی کی زندگی ختم کردیتا ہے مگر فتنہ گر گمراہ عالم ہزار ہا خاندان کی روحانی زندگی تباہ کر ڈالتا ہے اس لیے حضور صلی الله علیہ و سلم نے خصوصیت سے ان پر خوف ظاہر فرمایا۔
۲؎ چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ کے قتل کے وقت سے مسلمانوں میں کشت و خون شروع ہوا ہے آج تک تلوار میان میں نہیں پہنچی،یہ ہے اس مخبر صادق صلی الله علیہ و سلم کا علم اور یہ ہے ان کی خبر کی تصدیق۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع