دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

5385 -[7]

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ أَلَا ثُمَّ تَكُونُ فِتنٌ أَلا ثمَّ تكونُ فتنةٌ القاعدُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي فِيهَا وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا أَلَا فَإِذَا وَقَعَتْ فَمَنْ كَانَ لَهُ إِبل فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ وَمَنْ كَانَ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بغنمه وَمن كَانَت لَهُ أرضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبِلٌ وَلَا غَنَمٌ وَلَا أَرْضٌ؟ قَالَ: «يَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ فَيَدُقُّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟» ثَلَاثًا فَقَالَ: رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ أُكْرِهْتُ حَتَّى ينْطَلق بِي إِلَى أحدالصفين فَضَرَبَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ أَوْ يَجِيءُ سَهْمٌ فَيَقْتُلُنِي؟ قَالَ: «يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّار» رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ عنقریب فتنے ہوں گے پھر فتنے،خبردار پھر فتنے ہوں گے۲؎  پھر وہ فتنے ہوں گے کہ ان میں بیٹھا ہوا چلتے ہوئے سے بہتر ہوگا اور چلتا ہوا دوڑتے ہوئے سے بہتر ہوگا ۳؎  آگاہ رہو کہ جب وہ فتنے واقع ہوں تو جس کے اونٹ ہو اور اونٹوں سے مل جاوے اور جس کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں چلا جاوے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین میں پہنچ جاوے ۴؎  تو ایک صاحب بولے یارسول الله فرمایئے تو جس کے پاس نہ اونٹ ہوں نہ بکریاں نہ زمین ۵؎  فرمایا وہ اپنی تلوار کی طرف رخ کرے اور اس کی دھار کو پتھر سے کوٹ دے پھر الگ ہونے کی طاقت رکھے۶؎  اے الله کیا میں نے پہنچا دیا(تین بار فرمایا)۷؎ پھر ایک شخص نے عرض کی یارسول الله فرمایئے تو اگر مجھے مجبور کیا جاوے حتی کہ مجھے دونوں صفوں میں سے ایک صف تک لے جایا جاوے پھر مجھے کوئی اپنی تلوار سے مار دے یا آوے کہ مجھے قتل کردے ۸؎  فرمایا وہ اپنا اور تمہارا گناہ لے کر لوٹے گا اور وہ دوزخی ہوگا ۹؎(مسلم)

۱؎ آپ کا نام نقیع ابن عبدالحارث ابن کلاہ ہے،ثقفی ہیں،آپ حضور انور کے آزادکردہ غلاموں میں سے ہیں،بصرہ میں رہے،   ۴۹ھ؁  انچاس میں وفات پائی۔(اکمال)بڑے متقی و پرہیزگار تھے،صحابہ کی آپس کی جنگوں میں آپ علیحدہ رہے۔

۲؎  یہ فرمان عالی یا تو ان فتنوں کا تسلسل بیان فرمانے کے لیے ہے یعنی آگے پیچھے مسلسل فتنے ہوں گے یا ان کی بڑائی بیان کرنے کے لیے یعنی سخت سے سخت،اس سے سخت،اس سے بھی سخت فتنے ہوں گے جو سارے عرب کو گھیر لیں گے۔

۳؎  یعنی مسلمان ان فتنوں سے جس قدر دور رہے اسی قدر اچھا،اس فرمان عالی کی شرح ابھی عرض کردی گئی۔

۴؎  امن کے زمانہ میں شہر بہتر ہے گاؤں اور جنگل سے کہ شہر میں علم ہے جمعہ و عیدین بلکہ پنجگانہ کی جماعت ہیں کبھی جہاد کا موقعہ بھی مل جاتا ہے مگر فتنوں کے زمانہ میں شہر سے گاؤں بلکہ جنگل بہتر ہے کہ وہاں امن ہے عافیت ہے شہر میں فتنے ہیں۔ایک شاعر کہتا ہے   ؎

ان السلامۃ من اللیل و جارتھا                                    ان لا تمر علی حال یواریھا

۵؎ یعنی جس کے پاس گاؤں یا جنگل میں رہنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو،نہ اپنی زمین ہو،نہ اپنے جانور ہوں نہ اور کوئی ذریعہ وہ کیا کرے اسے تو لامحالہ شہر میں ہی رہنا پڑے گا۔

۶؎   نجات اگر ت سے ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں چھٹکارا یا عذاب سے بچ جانا اور اگر ہمزہ سے ہو تو اس کے معنی ہیں بھاگ جانا دور ہوجانا،یہاں ہمزہ سے ہے یعنی اس وقت تلوار نہ چلائے بلکہ اپنی تلوار بے کار کردے کیونکہ یہ لڑائیاں مسلمانوں کی آپس میں ہوں گی، وہاں سے بھاگ جانے فتنوں سے الگ ہوجانے کی کوشش کرے۔مسلمانوں کی آپس کی لڑائیں فساد کہلاتی ہیں،کفار سے جنگ جہاد ہے۔ حضرت ابوبکرہ کا اور عبدالله ابن عمر وغیرہم صحابہ کا مسلک یہ تھا کہ بغاوت کے موقعہ پر کسی طرف شرکت نہ کرے الگ رہے،ان کی دلیل یہ حدیث تھی۔عام صحابہ کرام کا مسلک یہ تھا کہ حق والے کی مدد کرے باغیوں کو کچل دے تاکہ بغاوت پھیلنے نہ پائے،ان کی دلیل یہ آیت تھی"فَقٰتِلُوا الَّتِیۡ تَبْغِیۡ حَتّٰی تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمْرِ اللہِ"۔ان کے نزدیک حدیث بغاوت کے لیے نہیں بلکہ عام فسادات اور بلووں کے متعلق ہے یہ ہی قول زیادہ قوی ہے۔

۷؎  یعنی میرے مولٰی گواہ ہوجا کیا میں نے تیرا یہ حکم تیرے بندوں تک پہنچادیا۔معلوم ہوا کہ فتنوں سے خبردار کرنا بھی ایک تبلیغی حکم ہے جس کا پہنچانا فرض ہے۔

۸؎  یعنی اگر مجھ پر ایسا حال طاری ہوجاوے کہ میں الگ نہ رہ سکوں مجبورًا کسی فریق کے ساتھ جنگ میں کھڑا ہو جاؤں مگر میری نیت جنگ کی نہ ہو صرف جانا پڑ جاوے تو میری یہ موت کیسی ہوگی۔

۹؎  یعنی اس مجبوری کی صورت میں تم گنہگار نہ ہوگے بلکہ تمہارا لے جانے والا یا تمہیں قتل کرنے والا گنہگار ہوگا ایسا کہ تمہارے گزشتہ گناہ بھی اس پر پڑیں گے۔باثمی و اثمك کی شرح ہم نے اپنی تفسیر میں اس آیت کی تفسیر میں واضح کردی۔

5386 -[8]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خيرَ مالِ المسلمِ غنمٌ يتبع بهَا شغف الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں جنہیں وہ پہاڑ کی چوٹیوں یا پانی کی جگہ لے جائے ۱؎  اپنا دین فتنوں سے بچاکر بھاگ جائے۲؎ (بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن