30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5384 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ من الْمَاشِي والماشي فِيهِ خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفْهُ فَمن وجد ملْجأ أَو معَاذًا فليَعُذْ بِهِ». وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: قَالَ: «تَكُونُ فِتْنَةٌ النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْيَقْظَانِ واليقظانُ خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي فَمن وجد ملْجأ أومعاذا فليستعذ بِهِ» |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے عنقریب ایسے فتنے ہوں گے ان میں بیٹھ رہنے والا بہتر ہوگاکھڑے ہونے والے سے اور ان میں کھڑا ہونے والا بہتر ہوگا چلنے والے سے اور ان میں چلنے والا بہتر ہوگا دوڑنے والے سے ۱؎ جو ان کی طرف جھانکے گا وہ اسے اچک لیں گے تو جو کوئی پناہ یا ٹھکانہ پائے تو اس کی پناہ لے لے ۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا ایسے فتنے ہوں گے کہ ان میں سونے والا جاگنے والے سے بہتر ہوگا۳؎ اور ان میں جاگنے والا کھڑے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہوا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ۴؎ جو کوئی ٹھکانا یا پناہ پائے تو اس کی پناہ لے لے۵؎ |
۱؎ اس فرمان عالی میں بیٹھنا،کھڑا ہونا،چلنا اور دوڑنا بطور تشبیہ و استعارہ ارشاد ہوا ہے۔بیٹھنے سے مراد ہے ان فتنوں سے الگ تھلگ رہنا،ان سے بالکل واسطہ نہ رکھنا،یہ ذریعہ ہوگا فتنوں سے حفاظت کا کہ وہ نہ فتنوں کو دیکھے گا نہ ان کا اثر لے گا۔اور کھڑے ہونے سے مراد ہے دور سے انہیں دیکھنا،ان پر خبردار اور مطلع ہونا۔چلنے سے مراد ہے ان میں مشغول ہونا مگر معمولی طور پر۔اور دوڑنے سے مراد ہے ان میں خوب مشغول ہونا غرضیکہ عجیب استعارات ہیں۔
۲؎ بعض صحابہ کرام نے جنگ جمل و صفین کو اسی حدیث میں داخل مانا اور وہ حضرات ان جنگوں میں غیر جانب دار رہے جیسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مگر قوی یہ ہے کہ ان جنگوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے دوسرے حضرات سے اجتہادی غلطی ہوئی تھی۔
۳؎ یہاں بھی نائم سے مراد بے خبر بے شعور ہے یعنی جو فتنوں سے ایسا بے خبر ہو کہ اسے ان کی خبر بھی نہ ہو۔ یقطان سے مراد ہے خبردار کہ اسے ان فتنوں کی خبر تو ہو مگر اس میں شریک نہ ہو،خبر سے مراد ہے خود بخود خبر ہونا نہ کہ ان کی خبر رکھنا۔
۴؎ قائم سے مراد ہے باقی،قاعدہ اس فتنہ کی خبر رکھنے والا مگر اس میں شریک نہیں لہذا بیدار اور قائم میں فرق ظاہر ہے۔
۵؎ ٹھکانہ سے مراد ہے امن کی جگہ اور پناہ سے مراد ہے وہ آدمی جو اسے فتنوں سے بچالے یعنی یا تو پناہ کی جگہ چلا جائے یا ایسے شخص کے پاس رہے جو اس کو ان فتنوں سے بچائے۔(مرقات)لہذا عبارت میں تکرار نہیں۔
|
5385 -[7] وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ أَلَا ثُمَّ تَكُونُ فِتنٌ أَلا ثمَّ تكونُ فتنةٌ القاعدُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي فِيهَا وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا أَلَا فَإِذَا وَقَعَتْ فَمَنْ كَانَ لَهُ إِبل فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ وَمَنْ كَانَ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بغنمه وَمن كَانَت لَهُ أرضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبِلٌ وَلَا غَنَمٌ وَلَا أَرْضٌ؟ قَالَ: «يَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ فَيَدُقُّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟» ثَلَاثًا فَقَالَ: رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ أُكْرِهْتُ حَتَّى ينْطَلق بِي إِلَى أحدالصفين فَضَرَبَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ أَوْ يَجِيءُ سَهْمٌ فَيَقْتُلُنِي؟ قَالَ: «يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّار» رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ عنقریب فتنے ہوں گے پھر فتنے،خبردار پھر فتنے ہوں گے۲؎ پھر وہ فتنے ہوں گے کہ ان میں بیٹھا ہوا چلتے ہوئے سے بہتر ہوگا اور چلتا ہوا دوڑتے ہوئے سے بہتر ہوگا ۳؎ آگاہ رہو کہ جب وہ فتنے واقع ہوں تو جس کے اونٹ ہو اور اونٹوں سے مل جاوے اور جس کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں چلا جاوے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین میں پہنچ جاوے ۴؎ تو ایک صاحب بولے یارسول الله فرمایئے تو جس کے پاس نہ اونٹ ہوں نہ بکریاں نہ زمین ۵؎ فرمایا وہ اپنی تلوار کی طرف رخ کرے اور اس کی دھار کو پتھر سے کوٹ دے پھر الگ ہونے کی طاقت رکھے۶؎ اے الله کیا میں نے پہنچا دیا(تین بار فرمایا)۷؎ پھر ایک شخص نے عرض کی یارسول الله فرمایئے تو اگر مجھے مجبور کیا جاوے حتی کہ مجھے دونوں صفوں میں سے ایک صف تک لے جایا جاوے پھر مجھے کوئی اپنی تلوار سے مار دے یا آوے کہ مجھے قتل کردے ۸؎ فرمایا وہ اپنا اور تمہارا گناہ لے کر لوٹے گا اور وہ دوزخی ہوگا ۹؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع