30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۱؎ یعنی اس صورت میں ان فرقوں میں سے کسی کے ساتھ نہ رہنا عقائد اہل سنت کے اختیار کرنا،اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو تو اس جماعت کے عقائد تو محفوظ ہوں گے وہ اختیار کرنا،یہ بھی قاعدہ کلیہ ہے۔
۱۲؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ عام حالات میں مسلمانوں کو بستی میں رہنا بہتر ہے تاکہ وہاں نماز باجماعت ادا کرسکے،وقت پر جہاد کرسکے،جمعہ وعیدین میں شرکت کرسکے،بہت سی عبادات جماعت پر موقوف ہیں مگر جب بستیوں میں فتنے زیادہ ہوجاویں تب عزلت وگوشہ نشینی بلکہ آبادیوں کا چھوڑ دینا بہتر ہے تاکہ ایمان سلامت رہے،لوگوں سے امان میں رہے،یہ حدیث ایسے ہی نازک حالات کے متعلق ہے۔درخت کی جڑ پکڑ لینے سے مراد بالکل خلوت و تنہا مقام پر چلا جانا ہے جہاں بستی کافتنہ نہ پہنچے۔
۱۳؎ ظاہر یہ ہے کہ آئمہ سے مراد سلاطین ہیں اور مطلب یہ ہے کہ بدعقیدہ بدعمل بادشاہ مسلط ہوجاویں گے اور ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد بدعمل بدمذہب پیروعلماء ہوں جیسے آج کل دیکھنے میں آرہے ہیں۔بھنگی چرسی،گانے باجے کے دلدادہ،بے نماز،بے روزہ مگر کہلاتے ہیں ولی،یہ ولی الله نہیں بلکہ ولی شیطان ہیں جیسے آج کل دیکھنے میں آرہے ہیں، اس مخبر صادق صلی الله علیہ و سلم نے ان سب کی خبر دی ہے۔
۱۴؎ یعنی یہ لوگ انسانی جسم میں شیطان ہوں گے،باتیں اچھی کریں گے،علم سے بے بہرہ،عمل کے خراب ہوں گے،ان سے علیحدگی ضروری ہے۔
۱۵؎ یعنی ظالم بادشاہ اسلام کے ظلم کی وجہ سے بغاوت نہ کرو کہ بغاوت سے ملک میں فساد ہوتا ہے جب تک کہ وہ ظالم بادشاہ دین بگاڑنے کی کوشش نہ کرے۔اسی فرمان عالی کے مدنظر حضرات صحابہ کرام نے بدترین ظالم حکام و سلاطین اسلام پر بغاوت نہ کی جیسے حجاج ابن یوسف وغیرہ ہر جائز بات میں ان کی اطاعت کی ۔خیال رہےکہ امام حسین نے یزید کو سلطان اسلام مانا نہیں کہ وہ اس کا اہل نہ تھا،نااہل کو بادشاہ بنانا ممنوع ہے مگر جب بادشاہ بن چکا ہو تو اس کی بغاوت ممنوع ہے لہذا حضرت حسین کا عمل اس حدیث کے خلاف نہیں۔
|
5383 -[5] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «بَادرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتناً كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعرْض من الدُّنْيَا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ان فتنوں سے پہلے اعمال کرلو جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے کہ انسان سویرا پائے گا مؤمن ہوکر شام کرے گا کافر ہوکر اور شام کرے گا ۱؎ مؤمن ہوکر سویرا پائیگا کافر ہوکر،دنیاوی سامان کے عوض اپنا دین فروخت کر دے گا ۲؎(مسلم) |
۱؎ یعنی یہ موقع امن و امان کا غنیمت جانو جو نیکی کرنا ہے کرلو ورنہ ایسے فتنے اٹھنے والے ہیں اور ایسی بلائیں آنے والی ہیں کہ انسان کو کچھ نہ سوجھے گا کہ میں کیا کروں،دلوں کے حالات بہت جلد بدل جائیں گے۔یہاں کافر سے مراد یا تو واقعی کافر ہے یا بمعنی ناشکرا ہے، پہلے معنی زیادہ قوی ہیں کہ یہاں کافر مؤمن کے مقابل ارشاد ہوا۔
۲؎ یعنی معمولی دنیاوی لالچ میں اپنا دین چھوڑ دے گا،اس زمانہ کے علماء رشوت لےکر غلط فتوے دیں گے،حکام رشوتیں لے کر غلط فیصلے کریں گے،عوام پیسہ لے کر جھوٹی گواہی بلکہ شراب خوری،قتل تک کردیں گے یہ تو اب دیکھا جارہا ہے۔(از مرقات)
|
5384 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ من الْمَاشِي والماشي فِيهِ خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفْهُ فَمن وجد ملْجأ أَو معَاذًا فليَعُذْ بِهِ». وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: قَالَ: «تَكُونُ فِتْنَةٌ النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْيَقْظَانِ واليقظانُ خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي فَمن وجد ملْجأ أومعاذا فليستعذ بِهِ» |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے عنقریب ایسے فتنے ہوں گے ان میں بیٹھ رہنے والا بہتر ہوگاکھڑے ہونے والے سے اور ان میں کھڑا ہونے والا بہتر ہوگا چلنے والے سے اور ان میں چلنے والا بہتر ہوگا دوڑنے والے سے ۱؎ جو ان کی طرف جھانکے گا وہ اسے اچک لیں گے تو جو کوئی پناہ یا ٹھکانہ پائے تو اس کی پناہ لے لے ۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا ایسے فتنے ہوں گے کہ ان میں سونے والا جاگنے والے سے بہتر ہوگا۳؎ اور ان میں جاگنے والا کھڑے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہوا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ۴؎ جو کوئی ٹھکانا یا پناہ پائے تو اس کی پناہ لے لے۵؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع