دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

5382 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَن الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ» . قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟ قَالَ: «قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ» . قُلْتُ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: «نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا. قَالَ: «هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا» . قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ» . قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ: «فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: قَالَ: «يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَتِي وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ» . قَالَ حُذَيْفَةُ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: تَسْمَعُ وَتُطِيعُ الْأَمِيرَ وَإِنْ ضَرَبَ ظهرك وَأخذ مَالك فاسمع وأطع "

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ لوگ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے اور میں شر کے متعلق پوچھتا تھا اس خوف سے کہ مجھے وہ پہنچ جاوے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله ہم پہلے جہالت اور شر میں تھے پھر الله ہمارے پاس یہ خیر لایا ۲؎ تو کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگی۳؎ میں نے عرض کیا کہ کیا اس شر کے بعد خیرہوگی،فرمایا ہاں مگر اس خیر میں کدورت ہوگی۴؎ میں نے عرض کیا اس کی کدورت کیا ہے،فرمایا وہ قوم جو میرے طریقے کے خلاف طریقہ اختیار کرے گی اور میری عادت کے خلاف عادت قبول کرے گی۵؎  ان کی بعض باتیں اچھی پاؤ گے بعض بری،میں نے عرض کیا کہ کیا اس خیر کے بعد شر ہوگی،فرمایا ہاں۶؎  دوزخ کے دروازہ پر بلانے والے جو دوزخ کی طرف انکی بات مانے گا اسے دوزخ میں ڈال دیں گے۷؎ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ  ان کی علامات  بھی بتایئے،فرمایا وہ ہمارے گروہ سے ہوں گے ہماری زبان میں کلا م کریں گے۸؎  میں نے عرض کیا کہ اگر میں یہ پاؤں تو مجھے آپ کیا حکم فرماتے ہیں،فرمایا مسلمانوں کی جماعت ان کے امام کو پکڑے رہنا ۹؎ میں نے عرض کہ اگر مسلمانوں کی نہ جماعت ہو۱۰؎  نہ امام فرمایا تو ان تمام فرقوں سے الگ رہنا ۱۱؎  اگرچہ اس طرح ہو کہ تم کسی درخت کی جڑ دانتوں سے پکڑ لو حتی کہ تم کو اسی حالت میں موت آجائے ۱۲؎(مسلم،بخاری) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا میرے بعد ایسے پیشوا ہوں گے جو نہ تو میری سنت اختیار کریں گے نہ طریقہ پر چلیں گے ۱۳؎  ان میں کچھ لوگ اٹھیں گے جن کے دل شیطانوں کے دل ہوں گے انسانی جسموں میں۱۴؎ حضر ت حذیفہ نے عرض کیا یارسول الله   اگر میں یہ وقت پاؤں تو کیا کروں فرمایا اپنے امیر کی سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تمہاری پیٹھ پر مارے اور تمہارا مال لے لے جب بھی سنو اور اطاعت کرو ۱۵؎

۱؎ یعنی صحابہ کرام حضور صلی الله علیہ و سلم سے خیر کی باتیں بہت پوچھتے تھے جیسے نیک اعمال،دنیاوی فراخی،آئندہ فتوحات تاکہ اس پر خوشی و شکر کریں مگر میں شر کی باتیں بہت پوچھتا تھا جیسے گناہ،فتنے،مالداری کے برے نتیجے تاکہ ان سے بچنے کی کوشش کروں۔ تحلیہ سے پہلے تخلیہ ہے،لباس و زیور سے پہلے غسل ہے،پہلے برائیوں سے بچو پھر نیکیاں کرو۔

۲؎  یعنی ہم اہل عرب پہلے انتہائی برائیوں میں گرفتار تھے پھر الله نے ہم کو انتہائی خیر،حضور کی نبوت،وحی،تقویٰ، طہارت ہم کو عطا فرمائی۔

۳؎  یعنی کیا حضور کے پردہ فرمانے کے بعد پھر ہم برائیوں میں آفتوں میں مبتلا ہوں گے۔

۴؎  یعنی اس شر کے بعد خیر آئے گی ضرور مگر خالص خیر نہ ہوگی اس میں شر کی ملاوٹ ہوگی۔دخن بنا ہے دخان سے بمعنی دھواں۔

۵؎ اس فرمان عالی میں اشارہ یا تو قتل عثمان و خلافت علی کی طرف ہے کہ قتل عثمان شر ہے اور خلافت علی خیر مگر اسی خلافت میں روافض و خوارج کا زور تھا یہ کدورت ہے،یا اس میں اشارہ ہے خلافت عمر ابن عبدالعزیز کی طرف کہ وہ خیرتھی مگر اس زمانہ میں بد مذہبوں کا زور تھا۔(از اشعہ و مرقات)اس کی شرحیں اور بہت کی گئی ہیں۔

۶؎  یعنی کیا اس مخلوط خیر کے بعد کوئی شر ہوگی جو خالص شر ہو اس خیر سے کہیں بدتر ہو۔

۷؎  یعنی ایسے پیشوا جو لوگوں کو ہدایت کے لباس میں گمراہی دیں گے،خیر دکھاکر شر پھیلائیں گے،سنت ظاہر کرکے بدعت پیش کریں گے،زہد ظاہرکرکے عیاشی کریں گے جو ان کی مانے گا وہ دوزخ میں جائے گا گویا یہ لوگ دوزخ میں بھیجنے کا سبب ہوں گے،یہ نسبت سبب کی طرف ہے۔

۸؎  یعنی کلمہ گو اور مدعی اسلام ہوں گے،عرب ہوں گے،عربی بولیں گے اس لیے لوگ ان سے بہت دھوکا کھایا کریں گے کیونکہ چھپے کافر سے بچنا بہت مشکل ہے۔روافض،خوارج،وہابیت،نجدیت وغیرہ سب عرب سے ہی پیدا ہوئیں۔

۹؎  یعنی وہ عقیدے رکھنا جو مسلمانوں کی جماعت کے ہوں،سلطان اسلام کی حمایت کرنا جو تم کو اﷲ رسول کے راستہ پر چلائے،ان تمام فرقوں سے الگ رہنا،جماعت مسلمین کے ساتھ رہنا فتنوں سے بچنے کا قوی ذریعہ ہے۔اہل سنت و الجماعت کے ساتھ رہو،تیرہ سو برس سے مسلمانوں کے جو عقائد چلے آرہے ہیں انہیں پر قائم رہو۔مثلًا آج ایک فرقہ کہتا ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی نہیں یا صلوۃ کے معنی یہ مروجہ نمازیں نہیں،حضور کے بعد اور نبی آسکتے ہیں،نمازیں دن رات میں صرف دو ہیں وہ بھی اسلامی نماز سے جدا گانہ،ہم دیکھیں گے کہ آج تک نماز کے متعلق مسلمانوں کے کیا عقیدے رہے ہیں وہی اختیار کریں یہ ایمان کی ڈھال ہے۔

۱۰؎  یعنی اگر ا یسا زمانہ آجاوے کہ مسلمانوں کا نہ کوئی بادشاہ ہو نہ وہ کسی کی امامت پر متفق ہوں تو میں کیا کروں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن