دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

۵؎  یعنی بہت دفعہ واقعات ہمارے سامنے آکر ہم کو ہماری بھولی باتیں یاد دلادیتے ہیں کہ حضور انور نے یہ فرمایا تھا،دیکھو وہ واقعہ یہ ہے جیسے بھولا بچھڑا آدمی سامنے آجاوے تو پہچان لیا جاتا ہے۔سبحان الله! کیسی شاندار مثال ہے۔

5380 -[2]

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نَكَتَتْ فِيهِ نُكْتَةً سَوْدَاءَ وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَتْ فيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ حَتَّى يَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ: أَبْيَضُ بِمثل الصَّفَا فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَالْآخَرُ أَسْوَدُ مِرْبَادًّا كَالْكُوزِ مُجْخِيًّا لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أشْرب من هَوَاهُ " رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ دلوں پر فتنے پیش آئیں گے ۱؎ جیسے چٹائی کا ایک ریگ جو دل فتنے پلا دیا گیا اس میں سیاہ دھبہ پیدا  کر دیں گے اور جو دل انہیں برا سمجھے اس میں سفید داغ پیدا ہوجاوے گا۲؎ حتی کہ لوگ دو قسم کے دلوں پر ہوجائیں گے۳؎ ایک سفید جیسے سنگ مرمر اسے کوئی فتنہ نقصان نہ دے گا جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں اور دوسرا کالا راکھ ہمرنگ جیسے اوندھا کوزہ۴؎  وہ نہ بھلائی کو پہچانے نہ برائی کو برا جانے سواء اس خواہش کے جو اسے پلادی گئی ۵؎ (مسلم)

۱؎ یہاں فتنوں سے مراد یا دنیاوی آفتیں اور مصیبتیں ہیں یا برے عقیدے برے اعمال ہیں وہ فتنے دور ہوجائیں گے مگر ان کے اثرات دلوں پر رہ جائیں گے جیسے مٹی یا ریتے پر چٹائی بچھاؤ تو اٹھ جاتی ہے مگر اس کے نشان مٹی پر رہ جاتے ہیں۔

۲؎  یعنی جو شخص ان فتنوں کو اچھا سمجھے گا اس کا دل سیاہ ہوجاوے گا،وہ بے ایمان جیئے گا بے ایمان مرے گا اور جو ان فتنوں سے نفرت کرے گا اس کا دل نورانی ہوگا۔یہاں پلائے جانے سے مراد پسند کرنا چاہنا ہے،جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاُشْرِبُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الْعِجْلَ"۔

۳؎  یا تو لوگ دو قسم کے ہوجائیں گے: کالے دل والے اور سفید دل والے یا لوگوں کے دل دو قسم کے ہوجائیں گے: سفید اور کالے۔معلوم ہوا کہ گناہ سے الفت اور نفرت کا اثر دل پر پڑتاہے،پھر کبھی دل کا اثر چہرے پر نمودار ہوجاتا ہے چہرہ دل کی کتاب ہے۔

۴؎  یعنی اس کا دل سیاہ بھی ہوگا اور ناقابل تاثیر جیسے الٹا کوزہ کہ اس میں کوئی چیز نہیں ٹھہرتی ایسے ہی اس دل میں کسی نصیحت کرنے والے کی نصیحت ٹھہرے گی نہیں،وہ دل کسی نصیحت کا اثر قبول نہ کرے گا یہ الله تعالٰی کا سخت عذاب ہے۔مجحن اجحاء کا اسم فاعل ہے بمعنی اوندھا اور الٹا ہوجانا۔

۵؎  یعنی وہ شخص بجز اپنی دل پسند چیز کے کسی کو اختیار نہ کرے گا اگرچہ کتنی ہی اچھی ہو اور سوائے اپنی ناپسندیدہ چیز کے کسی چیز کو چھوڑے گا ہی نہیں اگرچہ کتنی ہی بری ہو،یہ ہے دل کی موت یا دل کا رین،رب فرماتاہے:"کَلَّا بَلْ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ"۔

5381 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ: حَدَّثَنَا: «إِنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ».وَحَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا قَالَ:" يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ أَثَرُهَا مِثْلُ أَثَرِ الْوَكْتِ ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ قتقبض فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ وَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ وَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ فَيُقَالُ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ: مَا أَعْقَلَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا أَجْلَدُهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ ".

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے دو خبریں بتائیں ۱؎ جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی اور دوسری کا منتظر ہوں۲؎  ہم کو خبر دی کہ امانت لوگوں کے دلوں کے اصل میں اتر ی ہے۳؎ پھر لوگوں نے قرآن سیکھا پھر حدیث سیکھی۴؎  اور حضور نے ہم کو اس کے اٹھ جانے کی خبر دی ۵؎ فرمایا آدمی ایک نیند سوئے گا تو اس کے دل سے امانت قبض کرلی جاوے گی۶؎ تو اس کا اثر چھالے کی طرح رہ جاتا ہے ۷؎ پھر ایک نیند سوئے گا تو امانت قبض کرلی جاوے گی حتی کہ اس کا اثر آبلے کی طرح ہوجاوے گا۸؎ جیسے تم اپنے پاؤں پر چنگاری لگاؤ تو ابھار ہو جاوے تم اسے پھولا ہوا دیکھو جس میں کچھ بھی نہ ہو ۹؎ لوگ خریدو فروخت کریں گے اور کوئی بھی امانت ادا نہ کرے گا۱۰؎ حتی کہ کہا جاوے گا کہ فلاں قبیلہ میں ایک امانت دار شخص ہے ۱۱؎  اور کسی شخص کے متعلق کہا جاوے کہ وہ کیسا عقلمند ہے کیسا خوش طبع ہے کیسا بہادر ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کی برابر ایمان نہ ہوگا ۱۲؎(مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن