دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

کتاب الفتن

فتنوں کا بیان   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ فتن جمع ہے فتنۃ کی،فتنہ کے کل چودہ معنی ہیں:محنت، آزمائش،پسندکرنا،کسی پر فریفتہ ہونا،گمراہ ہونا،گمراہ کرنا،گناہ،کفر،رسوائی، عذاب،سونا آگ میں گلانا،جنون محبت،لوگوں کے آپس کے جھگڑے و فساد۔(اشعۃ اللمعات)مؤلف اس بارے میں بہت سے باب باندھیں گے حتی کہ فضائل و مناقب کے باب بھی اسی بیان میں آئیں گے ان بابوں میں ان معانی کا لحاظ ہے۔

5379 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن حُذَيْفَة قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا مَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مقَامه إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا حَدَّثَ بِهِ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلَاءِ وَإِنَّهُ لَيَكُونُ مِنْهُ الشَّيْءُ قَدْ نَسِيتُهُ فَأَرَاهُ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ ثُمَّ إِذَا رَآهُ عرفه.

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ ہم میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک جگہ قیام فرمایا ۱؎  آپ نے اسی جگہ میں قیامت تک ہونے والی کوئی چیز نہ چھوڑی مگر اس کی خبر دیدی۲؎  جس نے اسے یاد رکھا اس نے یاد رکھا جو بھول گیا وہ بھول گیا۳؎  یہ بات میرے یہ دوست جانتے ہیں۴؎ ان واقعات میں سے کوئی چیز ہوتی ہے جسے میں بھول چکا ہوتا ہوں پھر اسے دیکھتا ہوں تو ایسے یادکرلیتا ہوں جیسے کوئی شخص کسی کا چہرہ پہچان لیتا ہے جب وہ اس سے غائب رہا ہو پھر جب اسے دیکھے تو پہچان لے ۵؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  حضور انور کا یہ قیام آئندہ واقعات کی خبریں دینے کے لیے تھا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۲؎  یعنی حضور نے ہر چھوٹے بڑے واقعہ حتی کہ قطرہ قطرہ ذرہ ذرہ کا بیان فرمادیا،یہ حدیث اس آیت کریمہ کی تفسیر ہے"وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ"جس سے معلوم ہورہا ہے کہ الله تعالٰی نے حضور کو ذرہ ذرہ قطرہ قطرہ کا علم بخشا،اتنے تھوڑے وقت میں یہ سب بیان فرما دینا حضور انور کا معجزہ ہے جیسے حضرت داؤد علیہ السلام آن کی آن میں زبور شریف پڑھ لیتے تھے۔خیال رہے کہ الله تعالٰی نے حضور انور کو سب کچھ سکھادیا جس سے حضور ان سب کے عالم بن گئے مگر حضور انور نے حضرات صحابہ کو یہ سب کچھ بتادیا سکھایا نہیں جس سے وہ صحابہ ان سب کے عالم نہیں بن گئے لہذا صحابہ کا علم حضور کے برابر نہیں ہوگیا جیسے الله تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نام سکھادیئے "وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّہَا"جس سے وہ ان تمام کے عالم بن گئے مگر آدم علیہ السلام نے فرشتوں کو یہ نام بتادیئے سکھائے نہیں جس سے فرشتہ عالم نہ بنے "فَلَمَّاۤ اَنۡۢبَاَہُمْ بِاَسْمَآئِہِمْ"۔

۳؎ یہ ساری باتیں تو کسی ایک کو بھی یاد نہ رہیں،بعض صحابہ کو زیادہ باتیں یاد رہیں،بعض کوتھوڑی،بعض کو بہت چیزیں بھول گئیں۔

۴؎  یعنی جو صحابہ آج موجود ہیں انہیں یہ واقعہ یاد ہے جو میں نے بیان کیا کہ حضور انور نے یہ سب باتیں ایک مجلس شریف میں بتائی تھیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن