30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ کھٹکنے ملک کے معنی ابھی پہلے عرض کردیئے گئے کہ اس زمانہ میں خلافت راشدہ جیسی نورانیت نہ ہوگی نہ اس زمانہ کا سا امن و امان ہوگا،اس زمانہ میں بعض لوگ بعض کو کاٹ کھائیں گے،یہ مطلب نہیں کہ وہ سلطنت لوگوں کو کھاٹ کھائے گی یا سلطان ظالم ہوں گے، ظلم والی بادشاہت کا ذکر تو آگے آرہا ہے۔
۶؎ کہ اس دور میں لوگوں کی مرضی کے خلاف جبرًا لوگ سلطان بن جاویں گے خود بھی ظالم ہوں گے اور ان کے حکام بھی ظالم ہوں گے۔
۷؎ اس زمانہ سے مراد حضرت امام مہدی رضی الله عنہ کی خلافت ہے جو قریب قیامت قائم ہوگی اس دور میں زمانہ رسالت کے تمام فیوض و برکات جاری ہوں گے،اس درمیان میں اگرچہ بعضے بادشاہ بڑے عادل ہوں گے جیسے حضرت عمر ابن عبدالعزیز یا سلطان محی الدین،اورنگ زیب عالمگیر وغیرہ مگر ان کی سلطنت خلافت علی منہاج النبوۃ نہ ہوگی۔(از مرقات و اشعہ)
۸؎ یہ حبیب ابن سالم ہیں،حضرت نعمان ابن بشیر کے آزادکردہ غلام،وہ اس حدیث کے ایک راوی اور حضرت نعمان کے کاتب ہیں۔
۹؎ سبحان الله! کیسی احتیاط سے کام لیا کہ انہیں خلیفۃ المسلمین نہ کہا نہ انکی حکومت کو خلافت فرمایا بلکہ آپ ہیں تو سلطان اسلام مگر آپ کے زمانہ میں عدل و انصاف کا دور دورہ ہے،آپ نے ظلم کی جڑیں کاٹ دیں،عدل قائم کیا، مسلمان آپ کو عمر ثانی کہتے تھے اور آپ کی حکومت کوخلافت فاروقی کا نمونہ کہا کرتے تھے۔
۱۰؎ یہ خوشی شکریہ کی تھی کہ الله کا شکر ہے کہ لوگوں کا میرا متعلق یہ نیک گمان ہے،لوگوں کی زبان ان کا گمان الله کی طرف سے ہوتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع