30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5373 -[3] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (وَأَنْذِرْ عشيرتك الْأَقْرَبين) دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ: «يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ. يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ من النَّار يَا بني عبد منَاف أَنْقِذُوا أَنفسكُم من النَّار. با بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ. يَا بني عبد الْمطلب أَنْقِذُوا أَنفسكُم من النَّار. يَا فَاطِمَةُ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفَى الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ قَالَ: «يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا. وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اپنے قریبی کنبہ والوں کو ڈراؤ ۱؎ تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے قریش کو نداء دی چنانچہ وہ جمع ہوگئے تو حضور نے عام و خاص سے خطاب فرمایا ۲؎ ارشاد فرمایا اے بنی کعب بن لوی اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے مرہ ابن کعب کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدشمس کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدمناف کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے ہاشم کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدالمطلب کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو۳؎ اے فاطمہ اپنی جان آگ سے بچالو۴؎ کہ میں اﷲ کے مقابل تمہارے لیےکسی چیز کا مالک نہیں ہوں ۵؎ سواء اس کے کہ تم سے رشتہ داری ہے جس کی تری کو میں تر رکھوں گا۔اورمسلم،بخاری کی روایت میں ہے کہ کہا اے قریش کے گروہ اپنی جانیں بچالو میں اﷲ کے مقابل تم سے کچھ دفع نہیں کرسکتا،اے صفیہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی پھوپھی۶؎ میں تم سے الله کے مقابل کچھ بھی دفع نہیں کرسکتا،اے فاطمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تم جو چاہو مجھ سے میرا مال مانگ لو ۷؎ میں تم سے اﷲ کے مقابل کچھ دفع نہیں کرسکتا ۸؎ |
۱؎ عشیرہ اور اقربین کا فرق ہماری تفسیر میں ملاحظہ فرمانا۔
۲؎ یعنی حضور صلی الله علیہ و سلم نے اس اجتماع میں عمومی تبلیغ بھی کی اور خصوصی بھی کہ اے فلاں اے فلاں قبیلہ والے لوگو ادھر آؤ ایمان قبول کرو۔معلوم ہواکہ خصوصی تبلیغ بھی سنت ہے،اس کی تفصیل اگلا کلام ہے جب کہ کس خاص شخص یا خاص قوم کے ایمان لانے سے دوسروں کے ایمان کی امید ہو تو اسے خصوصی تبلیغ ضرور کی جاوے،حضور انورنے کفار بادشاہوں کو تبلیغی خطوط بھیجے۔
۳؎ یہ ہیں حضور کی عمومی تبلیغیں،چونکہ عرب میں قریش بہت عزت والے مانے جاتے تھے اور قریش میں ان مذکورہ خاندانوں کا بڑا وقار تھا اس لیے حضور نے ان خاندانوں کو مخاطب فرماکر تبلیغ فرمائی۔اپنی جانوں کو آگ سے بچانے کے معنی یہ ہیں کہ تم لوگ ایمان قبول کرلو تاکہ تم نار جہنم سے بچ جاؤ،اس آگ سے بچنے کا ذریعہ ایمان و اطاعت ہے۔
۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ چھوٹے بچوں کو بھی اسلام کی تبلیغ کی جاوے کیونکہ اس وقت جناب فاطمہ چھوٹی بچی تھیں، سب لوگوں کے سامنے علانیہ حضرت فاطمہ کو تبلیغ فرمانا لوگوں کو سنانے کے لیے ہے کہ بغیر ایمان قبول کیے نبی کی قرابتداری بلکہ نبی کی اولاد ہونا کافی نہیں۔ کنعان نبی زادہ تھا مگر کفر کی وجہ سے جہنمی ہوگیا۔ایمان کی ضرورت سب کو ہے جیسے کوئی شخص سید ہو یا غیر سید دھوپ ہوا پانی غذا سے مستغنی نہیں،یوں ہی کوئی شخص ایمان قرآن اعمال سے بے نیاز نہیں۔آج اپنے کو اعمال سے بے نیاز ماننے والے غذا پانی ہوا سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع