30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5372 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (وَأَنْذِرْ عشيرتك الْأَقْرَبين) صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا فَجَعَلَ يُنَادِي: «يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي عَدِيٍّ» لِبُطُونِ قُرَيْشٍ حَتَّى اجْتَمَعُوا فَقَالَ: «أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِالْوَادِي تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟»قَالُوا: نَعَمْ مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا. قَالَ:«فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٌ شَدِيدٌ» .فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمَ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا؟ فَنَزَلَتْ:(تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ)مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ نَادَى:«يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ فَخَشِيَ أَنْ يسبقوه فَجعل يَهْتِف يَا صَبَاحَاه» |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اپنے قریبی کنبہ والوں کو ڈراؤ تو نبی صلی الله علیہ و سلم صفا پر چڑھے پھر پکارنے لگے ۱؎ کہ اے بنی فہر،اے بنی عدی قریش کے خاندانوں۲؎ حتی کہ وہ جمع ہوگئے تو فرمایا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبردوں کہ سواروں کا لشکر اس جنگل میں ہے تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے کیا تم مجھے سچا سمجھو گے۳؎ وہ بولے ہاں ہم نے آپ پر ہمیشہ سچ ہی آزمایا ہے۴؎ فرمایا تو میں تم کو سخت عذاب کے آگے ڈراتا ہوں، اس پر ابولہب بولا تم کو ہمیشہ کے لیے ہلاکت ہو کیا آپ نے ہم کو اسی لیے جمع کیا تھا، تب یہ آیت اتری کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوں اور وہ خود ہلاک ہو۵؎ (مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ حضور نے آواز دی کہ اے عبدمناف کی اولاد اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو اپنے گھر والوں کی حفاظت کرتا ہوا چلا پھر ڈرا کہ دشمن اس سے پہلے ہی پہنچ جاوے تو چیخنے لگا یاصباہ ۶؎ |
۱؎ یہ حضور انور کی پہلی تبلیغ تھی جو صفا پہاڑ پر مکہ والوں کو بلا کر کی گئی،یہ بھی حضور انور کا معجزہ ہے کہ پہاڑ پر چڑھ کر سارے مکہ میں اپنی آواز پہنچادی ورنہ پہاڑ کی چوٹی سے جو آواز دی جاوے وہ نیچے نہیں پہنچ سکتی۔
۲؎ بڑے خاندان کو قبیلہ کہتے ہیں،اس میں چھوٹے چھوٹے خاندانوں کو بطن اور فخذ کہتے ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ قبیلہ جنس ہے،بطن نوع،فخذ فصل۔قریش تو بہت بڑا خاندان نضر ابن کنانہ کی اولاد،بنی عدی وغیرہ چھوٹے خاندان جیسے پٹھان بڑا قبیلہ ہے اور یوسف زئی،کمال زئی وغیرہ چھوٹے خاندان۔
۳؎ یعنی تمہاری آنکھ کہتی ہے کہ اردگرد میدانوں میں ایک آدمی بھی نہیں مگر میں کہوں کہ دشمن کے لشکروں سے میدان بھرا پڑا ہے تو تم اپنی آنکھ کی مانو گے یا میری زبان کی مانو گے۔
۴؎ یعنی اس صورت میں ہم اپنی آنکھ کی نہ مانیں گے آپ کی زبان کی مانیں گے کیونکہ ہماری آنکھ بارہا غلطی کرجاتی ہے مگر تمہاری زبان کبھی غلطی نہیں کرتی ما جربنا علیك کذبا قط،یہ تھی کفار کی عقیدت حضور صلی الله علیہ و سلم کے متعلق۔آج بعض کلمہ گو مسلمان حضور کے علم میں تردد کرتے ہیں کفار مکہ سے بدتر ہیں۔
۵؎ ابولہب کا نام عبدالعزیٰ ابن عبدالمطلب ہے،چونکہ اس کا چہرہ شعلہ کی طرح سرخ اور چمکیلا تھا اس لیے اسے ابولہب کہا جاتا تھا،حضور کا چچا تھا اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پتھر اٹھایا حضور کو مارنے کے لیے اس لیے ارشاد باری ہوا کہ یہ دونوں ہاتھ ٹوٹ جاویں ہلاک ہوجاویں یا دونوں ہاتھوں سے مراد ہے اس کی دنیا و آخرت۔(اشعۃ اللمعات،مرقات)اس واقعہ سے چند مسئلے معلوم ہوئے: (۱)تبلیغ کی ترتیب یہ ہونی چاہیے کہ پہلے اپنے گھر والوں کو تبلیغ ہو،پھر عزیزوں قرابت داروں محلہ والوں کو،پھر دوسرے لوگوں کو(۲)حضور صلی الله علیہ و سلم دنیا و آخرت دونوں کو دیکھ رہے ہیں جیسے پہاڑ کی چوٹی پر آدمی چوطرفہ دور دور دیکھتا ہے اس لیے حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے یہ تبلیغ پہاڑ پر کی تاکہ حضور کا مقام معلوم ہو(۳)جہاد کے لیے قوت و طاقت ضروری ہے اس لیے حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے ہجرت کے بعد جہاد کیے کہ ہجرت سے پہلے قوت نہ تھی(۴)غیر خدا کی امداد شرک نہیں جہاد میں الله کے بندوں کی مدد لی جاتی ہے(۵)الله تعالٰی اپنے محبوب کا بدلہ ان کے دشمنوں سے خود لیتا ہے،دیکھو حضور نے ابولہب کو جواب نہ دیا رب نے دیا،یہ ہی حال حضور صلی الله علیہ و سلم کے ثناء خوانوں کا ہے،حضور کی تعریف کرو رب تمہاری تعریف کرے گا دنیا تمہارے قدم چومے گی ؎
حی و باقی جس کی کرتا ہے ثنا مرتے دم تک اس کی مدحت کیجئے
جس کا حسن الله کو بھی بھاگیا اس پیارے سے محبت کیجئے
(۶)حضور کی معرفت ساری عبادات پر مقدم ہے،رب کی معرفت بھی حضور کی معرفت چاہیے،دیکھو حضور انور نے پہلی تبلیغ میں اولًا اپنی پہچان کرائی۔
۶؎ عرب میں دستور تھا کہ کو ئی شخص کسی خطرہ شدید سے اپنی قوم کو مطلع کرتا تو اپنا کرتہ بانس پر ٹانگ کر بانس لیا پھرتا اور کہتا یا صباہ سے۔نذیر عریانی کہتے تھے حضور وہ مثال دے رہے ہیں۔معلوم ہوا کہ حضور انور کی نگاہیں غیبی عذاب کا مشاہدہ کررہی ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع