30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ مجاشع ایک قبیلہ ہے جو مجاشع ابن دارم کی طرف منسوب ہے،حضرت عیاض اسی قبیلہ سے ہیں،حضور انور کو ان سے بہت ہی محبت تھی،انہوں نے ایک بار بحالت کفر حضور انور صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا حضور نے قبول نہ فرمایا پھر بعد اسلام ہدیہ بھیجا تو قبول فرمالیا،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے،آخر میں بصرہ میں قیام رہا۔(اشعہ)
۲؎ یعنی رب تعالٰی نے مجھے جو کچھ آج سکھایا ہے میں وہ تم کو سکھاؤں۔آج کے سکھانے سے مراد ہے کہ آج کے بھیجے ہوئے احکام شرعیہ ورنہ حضور کو وہ باتیں بھی سکھائی گئی ہیں جو صرف حضور کے لیے ہیں ہم کو انکی تعلیم ممنوع ہے۔
۳؎ یعنی میرا دیا ہوا ہر مال میرے بندوں کو حلال ہے کوئی بندہ اسے بغیر دلیل حرام نہ کہے۔اس میں مشرکین عرب کی تردید ہے جو بلا دلیل بحیرہ سائبہ،وصیلہ وغیرہ جانوروں کو حرام کہتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ اصل اشیاء میں حلال ہونا ہے،جو ممنوع نہ ہو وہ حلال ہے۔اس سے وہابیوں کو عبرت پکڑنی چاہیے جو بلا دلیل حرام کا فتویٰ دیدیتے ہیں ختم کا کھانا حرام ہے،گیارھویں کی شیرنی حرام۔نعوذ بالله!
۴؎ یعنی میں نے انسانوں کو دین پر پیدا فرمایا،وہ قالوا بلٰی والے عہد پر پیدا ہوئے،پیدائش کے وقت کوئی کافر مشرک نہ تھا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فِطْرَتَ اللہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا"۔
۵؎ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ڈال دیا کہ فلاں فلاں چیز حرام ہے جیسے مشرکین عرب کے دل میں ڈال دیا کہ بحیرہ جانور حرام ہیں یا بعض جاہلوں کے دل میں ڈال دیا کہ فلاں فلاں چیز حرام ہے جیسے مشرکین عرب کے دل میں ڈال دیا کہ بحیرہ اور سائبہ جانور حرام ہے یا بعض جاہلوں کے دل میں ڈال دیا کہ گیارھویں عرس کا کھانا حرام ہے۔حرام کے لیے خاص ممانعت کی دلیل چاہیے،جس چیز کا شریعت میں ذکر ہی نہ ہو وہ حلال ہے۔
۶؎ مقت بروزن نصر ماضی سے بنا ہے مقتٌ سے بمعنی ناراض یعنی الله تعالٰی سارے عربیوں عجمیوں پر ناراض ہوا کہ وہ سب کفر و شرک میں مبتلا ہوگئے تھے،ہاں کچھ اہل کتاب جو اپنے اصل دین پر قائم رہے تھے مؤمن موحد تھے،ان سے راضی ہوا اور انہیں حضور پر ایمان لانے کی توفیق دے دی۔
۷؎ یعنی اے میرے محبوب ہم نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اس میں آپ کی بھی آزمائش ہے تبلیغ سے اور لوگوں کی آزمائش ہے قبول کرنے سے،آپ پرتبلیغ فرض ہے لوگوں پر آپ کی بات قبول کرنا ضروری ہے۔
۸؎ یعنی وہ کتاب نہ تو منسوخ ہوگی نہ کسی کے بدلنے سے بدل جاوے گی،یہ مطلب نہیں کہ قلمی قرآن شریف پانی سے دھلتا نہیں یا آگ سے جلتا نہیں یہاں یہ دھلنا جلنا مراد نہیں۔
۹؎ یعنی ہم تمہارے سینہ میں قرآن اس طرح محفوظ کردیں گے کہ آپ اسے بے تکلف سوتے جاگتے پڑھیں گے نہ بھولیں گے نہ اٹکیں گے۔
۱۰؎ جلانے سے مراد ہے ہلاک کرنا۔مطلب یہ ہے کہ مشرکین عرب کے لیے جزیہ نہیں ان کے لیے یا اسلام ہے یا قتل لہذا حدیث واضح ہے۔
۱۱؎ یعنی اے مولٰی میں تو اکیلا ہوں کفار بہت ہیں،میں اکیلا انہیں کیسے قتل کرسکتا ہوں وہ ہی مجھے ہلاک کردیں گے۔
۱۲؎ یعنی کفار قریش کو ان کا وطن چھوڑنے پر مجبورکرو،انہیں دیس نکالا دو کیونکہ انہوں نے آپ کو مکہ معظمہ چھوڑنے ہجرت کرنے پر مجبور کیا۔خیال رہے کہ اس فرمان پر عمل کا موقعہ ہی نہ آیا کیونکہ حضور کو مکہ معظمہ سے نکالنے والے قریشی کچھ تھوڑے جہادوں میں قتل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع