30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5163 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «فَوَاللَّهِ لَا الْفَقْرُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وتهلككم كَمَا أهلكتهم». |
روایت ہے حضرت عمرو ابن عو ف سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خدا کی قسم ! میں تم پر فقیری سے خوف نہیں کرتا لیکن میں تم پر اس سے خوف کرتا ہوں کہ تم پر دنیا پھیلادی جاوے جیسے تم سے پہلے والوں پر پھیلادی گئی تھی۲؎ تو تم اس میں رغبت کر جاؤ جیسے وہ لوگ رغبت کر گئے اور تمہیں ویسے ہی ہلاک کردے جیسے انہیں ہلاک کردیا ۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ انصاری صحابی ہیں،بدر میں شریک ہوئے،مدینہ منورہ میں قیام رہا۔
۲؎ یہ فرمان ایک بڑی حدیث کا ٹکڑا ہے جو حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی مسکینیت دیکھ کر ارشاد فرمائی،یعنی تمہاری یہ فقیری عارضی ہے عنقریب تم بہت غنی ہوجاؤگے مگر فقیری خطرناک نہیں امیری سے خطرہ ہے کہ اس میں فتنے بہت ہیں۔
۳؎ حضور انور کا یہ فرمان حضرات صحابہ کو ڈرانے اور احتیاط برتنے کے لیے ہے۔الله تعالٰی نے حضور کے صحابہ کو دنیاوی ناجائز رغبت اور ہلاکت یعنی کفرو طغیان سے محفوظ رکھا،وہ حضرات بادشاہ و امیر ہوکر بھی دنیا میں پھنسے نہیں۔حضرت عمر رضی الله تعالٰی عنہ کے پاس اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک ہی کرتہ تھا جسے دھو دھو کر پہنتے تھے،حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کے کفن کے لیے گھر میں کپڑا نہ تھا،پہنے ہوئے کپڑے دھو کر انہیں میں آپ کو کفن کردیا گیا،حضرت علی رضی الله عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں فرمایا کہ میں اپنی تلوار فروخت کرنا چاہتا ہوں کہ آج گھر کا خرچ چلا سکوں وہ حضرات امیری میں فقیری کرگئے۔رہیں ان کی آپس کی جنگیں،وہ دنیا کے لیے نہ تھیں،دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ پر ایک نظر۔لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا ہ وہ حضرات بہک گئے ہوں۔
|
5164 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا» وَفِي رِوَايَةٍ «كفافا» . |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا الٰہی محمدصلی الله علیہ وسلم کے گھر والوں کی روزی بقدر ضرورت مقرر فرما ۱؎ ایک روایت میں ہے کہ بقدر کفایت۔(مسلم، بخاری) |
۱؎ یہاں آل محمد صلی الله علیہ وسلم سے مراد حضور صلی الله علیہ وسلم کے خاص امتی ہیں جو قیامت تک ہوتے رہیں گے لہذا حضور صلی الله علیہ وسلم کی دعا ان کے حق میں قبول ہوئی،یہ نہیں کہاجاسکتا بہت سید بڑے امیر ہوتے ہیں۔جمیع آل محمد نہیں فرمایا دیکھو مرقاۃ میں شرح اس حدیث کی۔کفاف بنا ہے کف سے بمعنی روکنا،اس سے مراد وہ مال ہے جو انسان کو سوال کرنے سے بچائے،بھیک سے روک لے یعنی بقدر ضرورت مالی ضرورت ہر شخص کی مختلف ہے لہذا کفاف بھی ہر شخص کا علیحدہ۔اس فرمان عالی میں امت کو تعلیم ہے کہ بقدر ضرورت مال پر قناعت کریں زیادتی کی ہوس میں ذلیل و خوار نہ ہو۔(اشعہ)
|
5165 -[11] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ وہ کامیا ب ہوگیا جو مسلمان ہوا اور بقدر کفایت رزق دیا گیا اور الله نے اسے دیئے ہوئے پر قناعت دی ۱؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع