30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی ہمارے مقابلہ میں جو کفار کے حوصلے اتنے بلند ہوجاویں گے کیا اس کی وجہ یہ ہوگی،اس زمانہ میں ہماری تعداد تھوڑی ہوگئی ہوگی،آج ہماری تعداد زیادہ ہی ہے اس سے کفار پر ہماری دھاک بیٹھی ہے۔
۳؎ یعنی بمقابلہ آج تمہاری تعداد اس دن زیادہ ہوگی مگر تم ایسے ہوگے جیسے سمندرمیں پانی کا میل دکھاوا زیادہ حقیقت کچھ نہیں۔بزدلی نااتفاقی،پریشانی دل،آرام طلبی،عقل کی کمی،موت سے ڈر،دنیا سے محبت تم میں بہت ہو جاوے گی۔ (مرقات) ان وجوہ سے کفار کے دل سے تمہاری ہیبت نکال دی جاوے گی ۔
۴؎ وھن بمعنی سستی،ضعف کمزوری،مشقت یہاں یا بمعنی سستی ہے یا بمعنی ضعف،رب تعالٰی فرماتاہے:"حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہۡنًا عَلٰی وَہۡنٍ" اور فرماتاہے:"رَبِّ اِنِّیۡ وَہَنَ الْعَظْمُ مِنِّیۡ"یعنی تم دل کے کمزور و سست ہوجاؤ گے جہاد سے دل چراؤ گے۔
۵؎ یعنی اس سستی وضعف کا سبب دو چیزیں ہیں: ایک دنیا میں رغبت،دوسرے موت کا خوف۔جس قوم میں یہ دو چیزیں جمع ہوجاویں وہ عزت کی زندگی نہیں گزار سکتی۔خیال رہے کہ حب دنیا اور موت سے نفرت لازم و ملزوم چیزیں ہیں۔
|
5370 -[11] عَن ابْن عَبَّاس قَالَ: «مَا ظَهَرَ الْغُلُولُ فِي قَوْمٍ إِلَّا أَلْقَى اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ وَلَا فَشَا الزِّنَا فِي قَوْمٍ إِلَّا كَثُرَ فِيهِمُ الْمَوْتُ وَلَا نَقَصَ قَوْمُ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلَّا قَطَعَ عَنْهُمُ الرِّزْقَ وَلَا حَكَمَ قَوْمٌ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الدَّمُ وَلَا خَتَرَ قَوْمٌ بالعهد إِلا سُلِّطَ عَلَيْهِم عدوهم» . رَوَاهُ مَالك |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں نہیں ظاہر ہوتی خیانت کسی قوم میں مگر اللہ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے ۱؎ اور نہیں پھیلتا زنا کسی قوم میں مگر ان میں موت زیادہ ہو جاتی ہے۲؎ اور نہیں کم کرتی کوئی قوم ناپ تول مگر ان سے روزی کاٹ دی جاتی ہے۳؎ اور نہیں حکم کرتی کوئی قوم ناحق مگر ان میں خونریزی پھیل جاتی ہے۴؎ اور نہیں عہد توڑتی کوئی قوم مگر ان پر دشمن مسلط ہوجاتا ہے ۵؎ (مالک) |
۱؎ یعنی جوقوم خیانت کرنے کی عادی ہوگی اس کا اثر یہ ہوگا کہ اس قوم کے دل میں ہمت و جرات نہ رہے گی،دشمن کا خوف اس پر غالب ہوگا،امین کا دل قوی ہوتا ہے۔
۲؎ یہاں موت سے مراد یا تو جسمانی موت ہے یا روحانی موت یعنی جس قوم میں زنا پھیلے گا اس میں وبا،طاعون وغیرہ پھیلے گی یا ایسی خوفناک جنگ آپڑے گی جس سے ان میں موت بہت واقع ہوگی یا اس میں صالحین علماء اٹھ جائیں گے آئندہ پیدا نہ ہوں گے جس سے انکی روحانی موت واقع ہوجاوے گی۔(مرقات)جیسے نیک اعمال میں تاثیر ہے ویسے ہی گناہوں میں مختلف اثرات ہیں۔
۳؎ یعنی کم تولنے کی نحوست سے روزی کی برکت اڑ جاتی ہے یا اس ذریعہ سے کمایا ہوا مال کسی نہ کسی وجہ سے آخر کار ہلاک ہوجاتا ہے۔ پانی کی کمائی پانی میں ہی گمائی جاتا ہے اس کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے مگر لوگ عبرت نہیں پکڑتے۔حرام کمائی،حاکم حکیم،وکیل ہی کھاتے ہیں،حلال میں برکت ہے حرام میں بے برکتی،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ"اللہ سود کو مٹاتا ہے صدقات و خیرات بڑھاتا ہے۔کتیا سال میں چھ بچے دیتی ہے اور کوئی ذبح نہیں ہوتا،گائے بکری سال میں ایک دو بچے دیتی ہیں اور روزانہ ہزاروں ذبح ہوجاتے ہیں مگر ریوڑ بکریوں گایوں کے ہی نکلتے ہیں کتوں کے نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع