30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5368 -[9] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ خِيَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ سُمَحَاءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ شُورَى بَيْنِكُمْ فَظَهْرُ الْأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ بَطْنِهَا. وَإِذَا كَانَ أمراؤكم شِرَاركُمْ وأغنياؤكم بخلاؤكم وَأُمُورُكُمْ إِلَى نِسَائِكُمْ فَبَطْنُ الْأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ من ظهرهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيب |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تمہارے حکام تم میں بہترین ہوں اور تمہارے مالدار تم میں سے سخی ہوں اور تمہارے کام تمہارے آپس کے مشورہ سے ہوں ۱؎ تو تمہارے لیے زمین کی پشت اس کے پیٹ سے بہتر ہے ۲؎ اور جب تمہارے حکام تم میں سے بدترین ہوں اور تمہارے مالدار تم میں سے کنجوس ہوں اور تمہارے کام تمہاری عورتوں کے سپرد ہوں۳؎ تو زمین کا پیٹ تمہارے لیے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے۴؎ (ترمذی)اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ یعنی جب تک کہ بادشاہ اور حاکموں میں تقویٰ دینداری رہے امیروں میں سخاوت خدا ترسی رہے اور تمہارے گھروں کے کام گھر والوں کے مشورہ سے،قومی کام قوم کے مشورہ سے،ملکی کام ملک والوں کے مشورے سے ہوا کریں تم میں جمہوریت ہو شخصیت نہ ہو،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَشَاوِرْہُمْ فِی الۡاَمْرِ"اور فرماتاہے:"وَ اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیۡنَہُمْ"۔خیال رہے کہ اللہ رسول کے احکام میں کسی مشورہ کی گنجائش نہیں،مشورہ والے کاموں میں ضرور مشورہ کرے،نماز روزے کے لیے مشورہ کی ضرورت نہیں،ملکی انتظامات بچوں کی شادی بیاہ کے لیے ضرور مشورہ کرو۔
۲؎ یعنی ان حالات میں تمہاری زندگی موت سے بہتر ہے کہ اس زندگی میں تم نیکیاں بڑھا کر آخرت کا توشہ زیادہ جمع کرلو گے۔
۳؎ یعنی بادشاہ حکام ظالم فاسق ہوں جن کے دلوں میں نہ خدا کا خوف ہو نہ نبی کی شرم،امیروں میں غرباء پروری قوم و ملک کی خدمت کا جذبہ نہ رہے انہیں اپنے خزانہ بھرنے کی ہی فکر رہے،گھر کی کار مختار عورتیں ہی ہوجاویں کہ وہ جو چاہیں سو کریں مرد ان کے ماتحت ہوجاویں یہ تینوں لعنتیں آج دیکھی جارہی ہیں۔پہلے قحط سالی میں امیر لوگ غرباء پروری کرتے تھے،اب غریبوں کا خون چوس کر اور زیادہ امیر بننے کی کوشش کرتے ہیں،گھروں میں عورتیں خود مختار ہیں مردوں کی کچھ نہیں چلتی،حکام اور عدالتوں کے حال بالکل ظاہر ہیں۔ملک میں انتشار،جرموں کی زیادتی،عام چوری ڈکیتی،قتل خون،عدالتوں کے خرچ انہیں کے سہارے ہورہے ہیں،آج انصاف ملتا نہیں بکتا ہے اس کے لیے لوہے کے پاؤں،چاندی کے ہاتھ،نوح علیہ السلام کی عمر چاہیے اللہ سے فریاد ہے۔
۴؎ کیونکہ اس زمانہ میں زندگی فتنوں سے گھری ہوگی انسان زندگی میں گناہ زیادہ کرے گا،موت راحت کا ذریعہ ہوگی،قبر گھر سے بہتر ہوگی ایسی حالت میں اگر مسلمان اپنی موت کی تمنا یا دعا کریں تو گنہگار نہ ہوگا جیساکہ روایات میں ہے۔
|
5369 -[10] وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا».فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «بَلْ أَنْتُم يَوْمئِذٍ كثير وَلَكِن غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ وَلَيَنْزِعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ وَلَيَقْذِفَنَّ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ» .قَالَ قَائِلٌ:يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهْنُ؟قَالَ:«حُبُّ الدُّنْيَا وَ كَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ».رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي«شُعَبِ الْإِيمَانِ» |
روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریب ہے کہ امتیں تم پر ایک دوسرے کو ایسی دعوت دیں جیسے کھانے والے اپنے پیالہ کی طرف ۱؎ تو کوئی کہنے والا بولا کیا اس دن ہماری کمی کی وجہ سے ایسا ہوگا ۲؎ فرمایا بلکہ تم اس دن بہت ہوگے لیکن تم سیلاب کے میل کی طرح ایک سیل بن جاؤ گے۳؎ اور اﷲ تمہارے دشمن کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اورتمہارے دل میں سستی ضعف ڈال دے گا ۴؎ کسی کہنے والے نے عرض کیا یارسول اللہ وہن کیا چیز ہے فرمایا دنیا کی محبت اور موت سے ڈر ۵؎ (ابوداؤد،بیہقی، دلائل النبوۃ) |
۱؎ یعنی کفار کی قومیں یہود،نصاریٰ،مشرکین،مجوسی وغیرہ تم کو مٹانے کے لیے متفق ہوجاویں بلکہ ایک دوسرے کو دعوت دیں کہ آؤ مسلمانوں کو مٹاتے انہیں ستاتے ہیں تم بھی ہمارے ساتھ شریک ہوجاؤ یہ حالات اب شروع ہوچکے ہیں۔ دیکھو یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر آج مسلمانوں کو مٹانے کے لیے دونوں بلکہ ان کے ساتھ مشرکین بھی ایک ہوگئے ہیں،یہ ہے اس فرمان عالی کا ظہور،حضور کا ایک ایک لفظ حق ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع