30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ یہ فرمان عالی عام صحابہ سے ہے ،حضرت مصعب اس میں داخل نہیں کیونکہ آپ نے وہ وسعت وفراخی کا زمانہ نہیں پایا یہ فراخی فتوحات فاروقی اور سخاوت عثمانی سے ہوئی،آپ تو احد میں ہی شہید ہوگئے تھے ۔
۷؎ یعنی تمہارے گھروں میں بیک وقت چند کھانے پکا کریں گے جو تمہارے خدام تمہارے پاس آگے پیچھے لاکر پیش کریں گے۔عرب میں چند کھانے یکدم سامنے نہیں رکھے جاتے بلکہ آگے پیچھے لائے جاتے ہیں بعض امیر گھرانوں میں یہاں بھی یہ عقیدہ ہے۔معلوم ہوا کہ بیک وقت چند کھانے صحابہ کرام کے زمانہ میں جاری ہوگیا تھا،یہ بدعت حسنہ ہے۔(دیکھو شامی)
۸؎ یعنی آج تو صرف کعبہ معظمہ کی دیواروں پر غلاف چڑھایا جاتا ہے مگر اس زمانہ میں تمہاری مالداری کا یہ حال ہوگا کہ تم اپنی چھتوں اپنی دیواروں کو اعلٰی درجہ کے غلافوں سے چھپاؤ گے۔معلوم ہوا کہ یہ عمل بھی ناجائز نہیں ہے نہ اسراف ہے بلکہ جائز ہے اگرچہ بہتر نہ ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی خبر دی مگر اسے ناجائز نہ کہا لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں اس عمل پر ناپسندیدگی فرمائی گئی ہے کہ وہاں بہتر نہ ہونے کی بنا پر ناپسندیدگی ہے۔
۹؎ اس لیے آج بہتر ہو کہ آج تم آپس کے بہت سے فتنوں سے بچے ہوئے ہو،اس زمانہ میں فتنے زیادہ ہوں گے یا اس لیے کہ آج تم فقیر صابر ہو اس دن غنی شاکرہوؤ گے۔اور فقیر صابر افضل ہے غنی شاکر سے،دیکھا گیا ہے کہ بمقابلہ امیروں کے فقیر مسلمان عبادات زیادہ کرتے ہیں۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ کافر فقیر کا عذاب بمقابلہ کافر غنی کے ہلکا ہوگا،اسی طرح مؤمن فقیر کا ثواب عمومًا مؤمن غنی سے زیادہ ہوگا۔(مرقات)
|
5367 -[8] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آوے گا ۱؎ کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا چنگاری پکڑنے والے کی طرح ہوگا۲؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث اسناد سے غریب ہے۔ |
۱؎ یہ زمانہ قریب قیامت ہوگا جس کی ابتداء آج ہوچکی ہے۔فی زمانہ دیندار بن کر رہنا مشکل ہے آج ڈاڑھی رکھنا،نماز کی پابندی کرنا دوبھر ہوگیا ہے،سود سے بچنا تو قریبًا ناممکن ہی ہے۔
۲؎ یعنی جیسے ہاتھ میں انگارا رکھنا بہت ہی بڑے صابر کا کام ہے،یوں ہی اس وقت مخلص کامل مسلمان بننا سخت مشکل ہوجاوے گا اس لیے فرمایا گیا کہ اس زمانہ میں ایمان پر قائم رہنے والے کو پچاس صحابہ کے اعمال کے برابر ثواب ملے گا۔
|
5368 -[9] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ خِيَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ سُمَحَاءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ شُورَى بَيْنِكُمْ فَظَهْرُ الْأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ بَطْنِهَا. وَإِذَا كَانَ أمراؤكم شِرَاركُمْ وأغنياؤكم بخلاؤكم وَأُمُورُكُمْ إِلَى نِسَائِكُمْ فَبَطْنُ الْأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ من ظهرهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيب |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تمہارے حکام تم میں بہترین ہوں اور تمہارے مالدار تم میں سے سخی ہوں اور تمہارے کام تمہارے آپس کے مشورہ سے ہوں ۱؎ تو تمہارے لیے زمین کی پشت اس کے پیٹ سے بہتر ہے ۲؎ اور جب تمہارے حکام تم میں سے بدترین ہوں اور تمہارے مالدار تم میں سے کنجوس ہوں اور تمہارے کام تمہاری عورتوں کے سپرد ہوں۳؎ تو زمین کا پیٹ تمہارے لیے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے۴؎ (ترمذی)اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع