دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

۴؎  یعنی ہم اس کفاف ہوجانے پر راضی نہیں،حضرت ابو موسیٰ پر امید کا غلبہ ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم رب تعالٰی کے اس فیصلہ پر راضی نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر رب تعالٰی ہم سے یہ پوچھے تو ہم راضی نہ ہوں ہم عرض کریں کہ مولٰی ہم کو بڑا اجر دے ہم پر بڑا فضل کر    ؎

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے                  خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

۵؎  بندے پر بعض وقت ایسے آتے ہیں کہ رب تعالٰی بندے کی رضا چاہتا ہے"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی"اور حضرت ابوبکر صدیق کے لیے فرماتا ہے:"وَ لَسَوْفَ یَرْضٰی"۔

۶؎  یعنی اے ابو موسیٰ تمہاری امید کا یہ حال ہے اور میرے خوف کا یہ عالم ہے کہ میں تو یہ ہی غنیمت سمجھتا ہوں۔

۷؎  یعنی جو عبادات اور جہاد وغیرہ ہم نے حضور انور کے زمانہ میں کیے اور جو کچھ بعد میں کیے یہ سب ملا لئے جاویں۔

۸؎  یہ سارے اعمال ہمارے گناہوں کا کفارہ بن جاویں کہ ہم کو اللہ کے عذاب سے نجات مل جاوے نہ جنت ملے نہ دوزخ۔

۹؎  اس عبارت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ اس معاملہ میں آپ کے والد حضرت عمر میرے والد حضرت ابو موسیٰ سے بہتر تھے کہ ان پر خوف الٰہی کا غلبہ تھا اور میرے والد پر امید کا غلبہ،خوف امید سے افضل ہے کہ خوف ہی سے انسان کی اصلاح ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ اکبر آپ کے والد تو میرے والد سے کہیں بہتر تھے کہ وہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے،خلیفۃ المسلمین،غازی اسلام، فاتح بلدان تھے پھر انکے خوف و خشیت کا یہ حال تھا تو ہم لوگ کس شمار میں ہیں۔خیال رہے کہ بندہ کو رب سے جتنا قرب زیادہ ہوتا ہے اتنا ہی خوف زیادہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا"حضور فرماتے ہیں انا اعلمکم بالله و اخشاکم۔اللہ تعالٰی حضرت فاروق اعظم کے صدقہ میں ہم کو اپنا خوف دے۔

5358 -[20]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَنِي رَبِّي بِتِسْعٍ: خَشْيَةِ اللَّهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ وَكَلِمَةِ الْعَدْلِ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَى وَالْقَصْدِ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَأَنْ أَصِلَ مَنْ قَطَعَنِي وَأُعْطِي مَنْ حَرَمَنِي وَأَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَنِي وَأَنْ يَكُونَ صَمْتِي فِكْرًا وَنُطْقِي ذِكْرًا وَنَظَرِي عِبْرَةً وَآمُرُ بِالْعُرْفِ «وَقِيلَ» بِالْمَعْرُوفِ " رَوَاهُ رزين

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مجھے میرے رب نے نو چیزوں کا حکم دیا اللہ سے ڈرنا خفیہ اور ظاہر ۱؎ اور انصاف کی بات کرنا غصہ اور رضا میں۲؎ درمیانی چال فقیری اور امیری میں۳؎  اور یہ کہ میں اس سے جوڑوں جو مجھ سے توڑے اور اسے دوں جو مجھے محروم کرے اور اس کو معافی دوں جو مجھ پر ظلم کرے۴؎  اور یہ کہ میری خاموشی فکر ہو،میرا بولنا ذکر،میرا دیکھنا عبرت ہو اور حکم دوں اچھائی کا اور کہا گیا کہ اچھی باتوں کا ۵؎(رزین)

۱؎ خوف ہر ڈر کو کہتے ہیں مگر خشیت وہ ڈر جس کے ساتھ تعظیم و توقیر ہو۔تقویٰ وہ ڈر جس کے ساتھ اطاعت ہو۔خفیہ و ظاہر خوف یہ ہے کہ چہرہ پر آثار خوف نمودار ہوں اور دل میں بھی اللہ کا خوف ہو یا علانیہ بھی اچھے اعمال کرے اور تنہائی میں بھی ایسے کی وہاں قدر ہے۔

۲؎  انسان کسی سے خوش ہوتا ہے تو اس کی جھوٹی تعریفیں کرتا ہے اور جب اس پر غصہ آتا ہے تو اسے جھوٹے عیب لگاتا ہے یہ دونوں چیزیں بری ہیں،ہر حال میں اپنے اور دوسروں کے متعلق انصاف کی بات کرے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن