30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سمجھ کر کر نہ لو کہ کبھی چھوٹی چنگاری گھر جلا دیتی ہے اور کوئی نیکی چھوٹی سمجھ کر چھوڑ نہ دو کہ کبھی ایک قطرہ پانی جان بچالیتا ہے،نہایت ہی اعلٰی تعلیم ہے۔
|
5357 -[19] وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ أَبِي لِأَبِيكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَإِنَّ أَبِي قَالَ لِأَبِيكَ يَا أَبَا مُوسَى هَلْ يَسُرُّكَ أَنَّ إِسْلَامَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِجْرَتَنَا مَعَهُ وَجِهَادَنَا مَعَهُ وَعَمَلَنَا كُلَّهُ مَعَهُ بَرَدَ لَنَا؟ وَأَنَّ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ؟ فَقَالَ أَبُوكَ لِأَبِي: لَا وَاللَّهِ قَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْنَا وَصُمْنَا وَعَمِلْنَا خَيْرًا كَثِيرًا. وَأَسْلَمَ عَلَى أَيْدِينَا بَشَرٌ كَثِيرٌ وَإِنَّا لَنَرْجُو ذَلِكَ. قَالَ أَبِي: وَلَكِنِّي أَنَا وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ بَرَدَ لَنَا وَأَنَّ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ. فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَاكَ وَاللَّهِ كَانَ خيرا من أبي. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابو بردہ ابن ابو موسیٰ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھ سے عبداﷲ ابن عمر نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کیا کہا تھا ۲؎ میں نے عرض کیا نہیں،فرمایا کہ میرے والد نے تمہارے والد سے فرمایا کہ اے ابو موسیٰ کیا تم کو یہ پسند ہے کہ ہمارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہجرت کرنا آپ کے ساتھ جہاد کرنا اور حضور کے ساتھ ہمارے سارے اعمال جو ثابت ہوئے اور یہ کہ ہر کام جو ہم نے حضور کے بعد کئے ہم اس سے نجات پاجائیں پورا پورا ۳؎ تو تمہارے والد نے میرے والد سے کہا نہیں واللہ۴؎ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد جہاد کیے اور نمازیں پڑھیں،روزے رکھے اور سب سے اچھے عمل کیے اور ہمارے ہاتھوں پر بہت لوگ ایما ن لائے اور ہم ان کی امید رکھتے ہیں ۵؎ میرے والد نے کہا کہ لیکن میں تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں عمر کی جان ہے کہ میں تو تمنا کرتاہوں۶؎ کہ یہ سب کچھ ہمارے لیے ثابت اور یہ کہ ہم نے اس کے بعد جو کام کیے ہیں۷؎ ان سے نجات پاجائیں برابر سر بہ سر ۸؎ تو میں نے کہا یقینًا تمہارے باپ اﷲ کی قسم میرے باپ سے بہتر تھے ۹؎(بخاری) |
۱؎ آپ عامر ابن عبداﷲ ابن قیس اشعری ہیں،مشہور تابعین سے ہیں،اپنے والد اور حضرت علی سے ملاقات کی،قاضی شریح کے بعد آپ ہی کوفے کے قاضی ہوئے،حجاج نے آپ کو معزول کیا۔
۲؎ یعنی ایک دفعہ حضرت عمر فاروق اور حضرت ابو موسیٰ اشعری آپس میں باتیں کررہے تھے کہ دوران گفتگو میں کیا بات چیت ہوئی تھی کیا تمہیں خبر ہے کہ اس وقت حضرت عمر فاروق پر خوف الٰہی کا دریا موجیں مار رہا تھا اس حال میں آپ نے یہ فرمایا۔
۳؎ یعنی ہم نے کچھ نیک اعمال تو حضور انور کی موجودگی میں کیے اور کچھ نیک اعمال حضور کے بعد،اگر یہ تمام نیکیاں مل کر ہمارے گناہوں کا کفارہ بن جاویں کہ ہم کو ثواب ملے نہ ہم کو عذاب تو کیا تم اس پر راضی ہو۔خیال رہے کہ برد ماضی ہے برودۃ کا بمعنی ٹھنڈک۔حدیث شریف میں سردی کے روزوں کو غنیمت باردہ فرمایا گیا۔برد کے معنی ہوئے نیک اعمال ہمارے لیے ٹھنڈک ہوگئے یعنی ضبط نہ ہوئے باقی رہے۔حضرت عمر جیسی ہستی کے اعمال حضور کے زمانہ میں اور بعد میں کتنے ہیں جیسے آسمان کے تارے کہ نہ تاروں کی شمار ہے نہ حضرت عمر کی نیکیوں کی شمار ان کا یہ فرمان ہے،بولو اب ہم کس شمار میں ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع