30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5354 -[16] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ شِبْتَ. قَالَ: شَيَّبَتْنِي (هود)و(المرسلات)و (عمَّ يتساءلون) و(إِذا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ)رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي هريرةَ:لَا يلج النَّار «فِي» كتاب الْجِهَاد " |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا یارسول اللہ آپ بوڑھے ہوگئے فرمایا مجھے سورۂ ہود،سورۂ واقعہ،سورۂ المرسلات اور عمّ یتساءلون اور اذا الشّمس کوّرت نے بوڑھا کردیا ۱؎ (ترمذی)اور جناب ابوہریرہ کی حدیث کہ آگ میں داخل نہ ہوگا،الخ کتاب الجہاد میں ذکر کردی گئی۔ |
۱؎ یعنی ان سورتوں میں عذابِ الٰہی کا ذکر ہے جن سے مجھے اپنی امت کی فکر ہے۔
|
5355 -[17] عَن أنسٍ قَالَ: إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من الموبقات. يَعْنِي المهلكات. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ تم لوگ ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نگاہوں میں بال سے زیادہ باریک ہیں ۱؎ ہم انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں موبقات یعنی ہلاک کرنے والے سمجھتے تھے ۲؎ (بخاری) |
۱؎ یعنی معمولی روز مرہ کے گناہ جو عادۃً ہوتے رہتے ہیں جیسے بدنظری یا زبان سے جھوٹ غیبت کا نکل جانا جنہیں تم نہایت معمولی سمجھتے ہو۔مرقات نے اس عبارت کے یہ معنی کیے کہ وہ اعمال جنہیں تم باریک نظری سے نیکیاں سمجھتے ہو انہیں کھینچ تان کر اچھا جانتے ہو۔
۲؎ یعنی ہم انہیں ہلا ک کردینے والے گناہ سمجھتے تھے۔معلوم ہوا کہ چھوٹے گناہوں کو بڑا سمجھنا،ان سے بہت ڈرنا بچنا قوت ایمانی کی دلیل ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ تابعین کےزمانہ میں بہت سے بری بدعتیں ایجاد ہوچکی تھیں جنہیں لوگ نیکی سمجھتے تھے اور واقع میں وہ گناہ تھے۔آج بعض لوگ نماز کی پرواہ نہیں کرتے،تلاوت قرآن کے قریب نہیں جاتے،دن رات گانا بجانا،ڈھول ڈھماکا حتی کہ بھنگ چرس میں مشغول رہتے ہیں اور اسے خدا رسی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ولی سمجھتے ہیں۔
کار شیطان می کند نامش ولی گر ولی ایں است لعنت بر ولی
|
5356 -[18] وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا عَائِشَةَ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ طَالِبًا». رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ والْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے عائشہ تم حقیرو معمولی گناہوں سے بچی رہو ۱؎ کہ ان کے متعلق بھی اﷲ کی طرف سے مطالبہ کرنے والا ہے ۲؎(ابن ماجہ، دارمی،بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یعنی صرف گناہ کبیرہ سے بچنے پر کفایت نہ کرو بلکہ گناہ صغیرہ سے بھی بچتے رہو،اگر ہوجاویں تو ان کے کفارہ کے لیے نیک اعمال کرو اور جلد توبہ کرلو۔خیال رہے کہ گناہ صغیرہ ہمیشہ کرنا گناہ کبیرہ ہے،شیطان اولًا چھوٹے گناہ کراتا ہے پھر بڑے گناہوں میں لگادیتا ہے،پھر عقیدے خراب کرتا ہے۔سنتیں بلکہ مستحبات ایمان کے خزانہ کی پہلی دیوار ہے یہاں ہی شریعت کا پہرا رکھو۔
۲؎ طالب سے مراد یا اعمال لکھنے والا فرشتہ ہے یعنی چھوٹے گناہوں کی بھی تحریر ہورہی ہے یا قیامت میں باز پرس کرنے والا فرشتہ جو رب تعالٰی کی طرف سے اس پر مقرر ہے یا اس سے مراد ہے عذاب الٰہی جو گنہگاروں کے پیچھے لگا ہوا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ کوئی گناہ چھوٹا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع