30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خیال رہے کہ قرآن و حدیث میں مؤمن و کافر کی جزا و سزا کا ذکر ہوتا ہے مگر گنہگاروں کا ذکر نہیں ہوتا ان کی پردہ پوشی کے لیے اور تاکہ گنہگار امید و ڈر کے درمیان رہیں۔(مرقات)
۱۰؎ یعنی تو میری پشت پر تو شرک و کفر و گناہ کرتا تھا جس سے مجھے سخت تکلیف ہوتی تھی۔معلوم ہوا کہ انسان کے کفر و گناہ سے زمین بلکہ ہر چیز کو تکلیف ہوتی ہے۔
۱۱؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ زمین اور فرشتوں کو رب تعالٰی کی طرف سے سزا دینے کا اختیار ملتا ہے وہ بااختیار سزا دیتے ہیں ورنہ ولیت اور صنیعی کے کچھ معنی نہ ہوں گے۔
۱۲؎ خیال رہے کہ بعض گناہوں کی وجہ سے گنہگار مؤمن پر بھی عذاب قبر ہوجاتا ہے مگر وہ عذاب عارضی ہوتا ہے کسی نیک بندہ کے وہاں گزر جانے،زندوں کی دعا کردینے،جمعہ یا بڑے دن کے آجانے سے ختم ہوجاتا ہے مگر کافر کا یہ عذاب دائمی ہوتا ہے،یہاں دائمی عذاب مراد ہے اﷲ تعالٰی محفوظ رکھے۔
۱۳؎ پتلے سانپ میں زہر زیادہ ہوتا ہے موٹے سانپ یعنی اژدھے میں زہر یا تو ہوتا نہیں یا بہت ہی کم ہوتا ہے یعنی وہ سانپ اس قدر زہریلے ہوتے ہیں،ان کی سانس ایسی گرم ہوتی ہے کہ زمین کو لگ جاوے تو زمین قابل کاشت نہ رہے، آج جہاں ایٹم بم پھٹ جاوے وہاں کی زمین پختہ اینٹ کی طرح ہوکر ناقابل کاشت بن جاتی ہے،وہ تو قدرتی زہر ہے اس پرتعجب یا اس کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔اﷲ کا عذاب اس کی پکڑ بہت سخت ہے"اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ"یعنی یہ عذاب قبر کافر کو قیامت تک ہوگا،محشر اور دوزخ کا عذاب جو بعد قیامت ہوگا وہ اس کے علاوہ ہے۔اس طرح کہ مؤمن کی قبر میں جنت کی خوشبوئیں وہاں کی ترو تازگی آتی رہتی ہیں،کافر کی قبر میں دوزخ کی گرمی وہاں کی بدبو پہنچتی رہتی ہے۔بزرگوں کی قبر کو اردو میں روضہ کہتے ہیں فلاں بزرگ کا روضہ،یہ لفظ اسی حدیث سے ماخوذ ہے یعنی جنت کا باغ۔
|
5353 -[15] وَعَن أبي جُحَيْفَة قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ شِبْتَ. قَالَ: «شَيَّبَتْنِي سُورَةُ هُودٍ وَأَخَوَاتُهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت ابو جحیفہ سے فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا یارسول اللہ آپ بوڑھے ہوگئے ۱؎ فرمایا مجھے سورۂ ہود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کردیا۲؎ (ترمذی) |
۱؎ اس طرح کہ حضور پر ضعف کے آثار نمودار ہیں حتی کہ اکثر نماز بھی بیٹھ کر پڑھتے ہیں،یہ مطلب نہیں کہ آپ کے بال سفید یا نگاہ کمزور ہوگئی کیونکہ حضور انور کے سر مبارک داڑھی شریف اور ریش شریف میں بیس سے کم بال سفید تھے۔(ازمرقات)حتی کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے شمار کی ہے آپ کے کل چودہ بال سفید تھے۔(مرقات) بعض روایات میں ہے کہ چودہ بال سر شریف میں،پانچ بال داڑھی میں،ایک بال ریش بچی میں۔
۲؎ یعنی جن سورتوں میں عذاب الٰہی کا ذکر ہے ان کے عذاب سے مجھے اپنی امت پر خوف ان کی فکر اس قدر ہے کہ اس فکر نے مجھے بوڑھا کردیا۔ایک بزرگ نے خواب میں حضور کی زیارت کی یہ ہی حدیث پیش کی،فرمایاحدیث صحیح ہے ہم نے یہ فرمایا ہے اس نے پوچھا کون سی آیت نے حضور کو بوڑھا کیا،فرمایا"فَاسْتَقِمْ کَمَاۤ اُمِرْتَ وَمَنۡ تَابَ مَعَکَ"۔(مرقات)امت کی استقامت بڑی مشکل چیز ہے جس کی فکر حضور کو ہے۔
|
5354 -[16] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ شِبْتَ. قَالَ: شَيَّبَتْنِي (هود)و(المرسلات)و (عمَّ يتساءلون) و(إِذا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ)رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي هريرةَ:لَا يلج النَّار «فِي» كتاب الْجِهَاد " |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا یارسول اللہ آپ بوڑھے ہوگئے فرمایا مجھے سورۂ ہود،سورۂ واقعہ،سورۂ المرسلات اور عمّ یتساءلون اور اذا الشّمس کوّرت نے بوڑھا کردیا ۱؎ (ترمذی)اور جناب ابوہریرہ کی حدیث کہ آگ میں داخل نہ ہوگا،الخ کتاب الجہاد میں ذکر کردی گئی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع