30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کا ذکر اس کی تسبیح و تہلیل کرتا ہے فرشتوں کے ساتھ۔(مرقات،اشعہ)غرض کہ آسمان آواز ضرور کررہا ہے اس لیے اس کے لیے سننا فرمایا گیا کہ میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان کی یہ آواز میں سن رہا ہوں۔
۳؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں سجدہ کرنے والے فرشتوں کی کثرت کا ذکر ہے کہ آسمان کا ایک چپہ فرشتے کی پیشانی سے خالی نہیں،رکوع، قیام، قعود والے فرشتے ان کے سواء ہیں،رب تعالٰی نے فرشتوں کا قول نقل فرمایا:"مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوۡمٌ"سجدہ والوں کی جگہ اور ہے رکوع،قیام والوں کی جگہ اور۔
۴؎ اس سے حضور کے تحمل و برداشت کا پتہ لگتا ہے کہ حضور یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے پھر بھی دنیا و دین دونوں سنبھالے ہوئے ہیں۔
۵؎ صعدات جمع ہے صعید کی بمعنی زمین کی ظاہری مٹی،اس سے مراد ہے جنگل جہاں سفیدہ زمین اور مٹی ہی ہوتی ہے مکان پہاڑ وغیرہ نہیں ہوتے یعنی تم خوف و ڈر کی وجہ سے آبادیوں میں رہنا،آرام کرنا بھول جاتے،جنگلوں میں چیختےروتے پھرتے،منزلیں بہت بھاری ہیں۔
۶؎ درد ناک تمنا راوی حدیث حضرت ابوذر کی ہے،بعض صحابہ فرماتے تھے کہ کاش میں جانور ہوتا جسے ذبح کرکے کھالیا جاتا،بعض فرماتے تھے کاش میں چڑیا ہوتا کہ جہاں چاہتا بیٹھتا۔مطلب یہ ہے کہ میں انسان نہ ہوتا جو احکام کے مکلف ہیں اور گناہ کرتے ہیں۔یہ ان لوگوں کا خوف ہے جن کے جنتی ہونے کی خبر قرآن کریم اور صاحب قرآن نے دے دی ہے۔اب سوچو! کہ ہم کس شمار میں ہیں،بات یہ ہے کہ جتنا قرب زیادہ اتنا ہی خوف زیادہ،اﷲ اپنا خوف عطا کرے۔
|
5348 -[10] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَافَ أَدْلَجَ وَمَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ. أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ غَالِيَةٌ أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ الْجَنَّةُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو ڈرتا ہے وہ اندھیرے اٹھاتا ہے،جو اندھیرے اٹھاتا ہے وہ منزل پر پہنچ جاتا ہے ۱؎ خبردار اللہ کا سودا مہنگا ہے اﷲ کا سودا جنت ہے ۲؎(ترمذی) |
۱؎ یعنی جو دشمن کے شب خون مارنے کا اندیشہ کرتا ہے وہ جنگل میں رات غفلت سے نہیں گزارتا ورنہ مارا جاتا ہے،لٹ جاتا ہے۔شیطان شب خون مارنے والا دشمن ہے،ہم دنیا میں راہِ آخرت طے کرنے والے مسافر ،ایمان کی دولت ہمارے پاس ہے یہاں غفلت نہ کرو ورنہ لٹ جاؤ گے۔
۲؎ اس فرمان عالی میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے"اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمْ وَ اَمْوٰلَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ"۔ جنت سودا ہے رب تعالٰی فروخت فرمانے والا ہے،ہم خریدار ہیں ہمارے مال جان اس سودے کی قیمت ہے،اس کا عکس یہ ہے کہ اللہ تعالٰی خریدار ہے ہمارے جان و مال سودے ہیں جنت اس کی قیمت ہے، اگر جان دے کر بھی یہ سودا مل جاوے تو سستا ہے مگر ہمارا حال یہ ہے ؎
وہ تو نہایت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا ہم مفلس کیا مول چکائیں ہاتھ ہی اپنا خالی ہے
اﷲ تعالٰی ہم محتاجوں کو اپنے محبوب کے نام کی خیرات دیدے فقیروں بھکاریوں سے قیمت نہیں مانگی جاتی اس پر ہر کرم کریمانہ ہوتا ہے ؎
چہ باشدکہ مشتے گدایان خیل بیایند دار السلام ازطفیل
یعنی یارسول اللہ اگر ہم جیسے مٹھی بھر فقیر آپ کے طفیل جنت میں پہنچ جاویں تو تمہارا کیا بگڑتا ہے ہمارا بھلا ہوجاوے گا۔
|
5349 -[11] وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ ذَكَرَنِي يَوْمًا أَوْ خَافَنِي فِي مَقَامٍ «رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والْبَيْهَقِيُّ فِي» كِتَابِ الْبَعْث والنشور " |
روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ آگ سے اسے نکال لو جس نے مجھے ایک دن یاد کیا ہو یا ایک جگہ میں مجھ سے خوف کیا ہو ۱؎ (ترمذی،بیہقی کتاب البعث والنشور) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع