دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

5161 -[7]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ وَإِنْ لَمْ يُعْطَ سَخِطَ تَعِسَ وَانْتَكَسَ وَإِذَا شِيكَ فَلَا انْتُقِشَ. طُوبَى لِعَبْدٍ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَشْعَثُ رَأْسُهُ مُغْبَرَّةٌ قَدَمَاهُ إِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَة كَانَ فِي السَّاقَة وَإِن اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يشفع» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

 روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله  صلی الله  علیہ وسلم نے کہ ہلاک ہوجاوے دنیا کا بندہ روپے پیسے کا بندہ اور اعلٰی کپڑوں کا بندہ ۱؎ کہ اگر اسے دیا جاوے تو راضی رہے اور اگر نہ دیا جاوے تو ناراض ہوجاوے۲؎ وہ ہلاک ہوجاوے برباد ہوجاوے اور جب کانٹا لگے تو نہ نکلے ۳؎ خوشخبری ہو اس بندے کو جو الله  کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہو،اس کے بال پراگندہ ہوں،اس کے قدم گرد آلود اگر پہرے میں ہو تو پہرے میں رہے اور اگر لشکر کے پیچھے ہو تو پیچھے رہے ۴؎ اگر اجازت مانگے تو اجازت نہ دی جاوے اور اگر سفارش کرے تو قبول نہ کی جاوے۵؎ (بخاری)

۱؎ روپیہ پیسہ سے مراد عام مال ہے،چونکہ نقد سکہ عمومًا پیارا ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ ہر قسم کا مال حاصل کیا جاتا ہے اس لیے دینار و درہم کا ذکر فرمایا۔خمیصہ یا  تو نَقشیں چادر ہے یا فاخرہ لباس یعنی جو ان چیزوں کی محبت میں گرفتار ہو کہ اس کی نظر ان میں ایسی لگی ہو کہ اسے کبھی آخرت یاد نہ آوے۔

۲؎ یعنی اگر  اسے الله  تعالٰی دنیا دے دے تو خوش رہے اگر کبھی اس پر تنگی آجاوے تو رب سے ناراض ہوجاوے،کفریات بکنے لگے یا اگر حضور صلی الله  علیہ وسلم یا سلطان اسلام یا کوئی بھی اسے دنیا دے دے تو ان سے راضی رہے ورنہ ان سے ناراض ہوجاوے، اس بندۂ نفس کا کوئی اعتبار نہیں اسے جو چاہے دنیا کی عوض خریدلے،اس کی تائید اس آیت سے ہے"فَاِنْ اُعْطُوۡا مِنْہَا رَضُوۡا وَ اِنۡ لَّمْ یُعْطَوْا مِنۡہَاۤ اِذَا ہُمْ یَسْخَطُوۡنَ"۔

۳؎ یہ کلمات بددعا کے ہیں کہ ایسا بندہ خدا کرے ہلاک نگوں سار ذلیل وخوار ہوجاوے اور جب کسی مصیبت میں پھنسے تو کوئی اسے نکالنے والا نہ ہو پھنسا ہی رہے۔(اشعہ)ممکن ہے کہ یہ جملہ خبریہ ہو یعنی ایسا آدمی ذلیل و خوار رہتا ہے مصیبت میں اس کا کوئی غمخوار نہیں ہوتا۔

۴؎ یعنی ایسا غازی فی سبیل الله  بے نفس ہمیشہ خوش و خرم رہے کہ اس کا حاکم اسے جہاں ڈیوٹی دے دے بخوشی منظور کرے کبھی عذر نہ کرے،اس کے دل میں دنیاوی عزت و جاہ کی طلب نہ ہو۔خیال رہے کہ اس جملہ میں شرط و جزا بظاہر یکساں معلوم ہوتی ہیں مگر ہماری اس شرح سے معلوم ہوگیا کہ دونوں میں فرق موجود ہے لہذا اس پر اعتراض نہیں ہے۔

۵؎ یعنی اس بے نفس غازی مجاہد کے پاس نہ مال کی فراوانی ہو نہ عزت و جاہ دنیاوی کی،لوگ اس کی غربت کی وجہ سے اسے اپنے گھر نہیں بلاتے بلکہ نہیں آنے دیتے،اس کی سادہ معمولی زندگی کی وجہ سے اس کی سفارش نہیں قبول کرتے،اس کے پاس بجز دل کے اخلاص اور اطاعت الٰہی کے جذبے کے اور کچھ نہیں وہ گدڑی میں لعل ہے۔(مرقات)

5162 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا» . فَقَالَ رجلٌ: يَا رَسُول الله أوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْهِ قَالَ: فَمَسَحَ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ وَقَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟» . وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ فَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ مَا يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ أكلت حَتَّى امتدت خاصرتاها اسْتقْبلت الشَّمْسِ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ. وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ وَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَيَكُونُ شَهِيدًا عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» .

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ رسول الله  صلی الله  علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بعد جن چیزوں سے تم پر خوف کرتا ہوں وہ دنیا کی ترو تازگی دنیا کی زینت ہے جو تم پر کھول دی جاوے گی  ۱؎ تو ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله  کیا خیر بھی شر لاتی ہے۲؎ تو حضور خاموش رہے حتی کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ پر وحی نازل ہورہی ہے ۳؎ فرماتے ہیں پھر حضور نے اپنے سے پسینہ پونچھا اور فرمایا سائل کہاں ہے ؟ غالبًا حضور نے اس کی تعریف فرمائی پھر فرمایا کہ خیر شر کو نہیں لاتی ہے ۴؎ جسے بہار اُگاتی ہے اس میں سے بعض وہ ہے جو پیٹ پھلا کر ہلاک کردیتی ہے یا بیمار کردیتی ہے ۵؎سوائے اس جانور کے جو سبزی کھائے حتی کہ اس کی کوکھیں تن جاویں ۶؎ تو دھوپ میں آجاوے تو لوٹے پوٹے پیشاب کرے پھر لوٹ جاوے اور کھائے ۷؎ اور یقینًا یہ مال ہرا بھرا میٹھا ہے ۸؎ تو جو اسے اس کے حق سے لے اور اس کے حق میں خرچ کرے ۹؎  تو وہ اچھا مددگار ہے ۱۰؎ اور جو ناحق لے ۱۱؎ وہ اس کی طرح ہوگا جو کھالے اور سیر نہ ہو ۱۲؎ یہ مال اس کے خلاف قیامت کے دن گواہ ہوگا ۱۳؎(مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن